Monday, May 27
Shadow

Tag: افسانچہ

افسانچہ: اپنے اپنے / اختر شہاب

افسانچہ: اپنے اپنے / اختر شہاب

افسانچہ
اختر شہاب        آج عید کا دوسرا دن تھا۔۔۔  شام کے وقت اس کی بہن اور بھائی  اپنے بچوں کے ہمراہ  عید ملنے آئے۔۔۔  اس کی بیوی بیماری کی وجہ سے کام نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔  سو اس کا بیٹا مہمانوں کے لئے چائے بنانے کچن میں گیا۔۔۔       بیٹےکی پھپھو نے یہ دیکھا تو اپنی محبت اور شفقت کی وجہ سے پھڑک کر رہ گئیں۔۔۔ بولیں ۔۔۔ "اسے چائے بنانا آتا ہے،  تو کھانا بھی بنا لیتا ہوگا۔۔۔  اچھا ہے لڑکوں کو کچن دیکھنا بھی آنا چاہئے۔۔۔"       پھوپھی زا د  بہنیں بھی محبت کے مارے اپنی  اپنی کرسیوں سے چپکی رہیں اور ہنسی مذاق کرتی رہیں ۔۔۔         دیکھتی تو بیٹے کی چچی بھی رہی۔۔۔ مگر چائے ختم ہوئی تو چچی روکنے کی باوجود برتن اٹھا کے دھونے چلی گئی۔۔۔  بیچاری! نئی  نئی جو تھی۔۔۔&n...
اجرت کا ثواب /مطربہ شیخ

اجرت کا ثواب /مطربہ شیخ

کہانی
کہانی کار: مطربہ شیخاسکول میں پارٹی تھی، سب بچوں نے دل بھر کر انجوائے کیا تھا اور دل بھر کر ہی گتے کے گلاس اور پلیٹیں، کھانے پینے کی بچی کچھی اشیاء چھ سو گز کے بنگلے میں بنائے گئے اسکول کے بڑے سے احاطے میں پھیلائی تھیں۔ثمینہ صفائی کرتے کرتے بے حال ہو گئ، وہ اکیلی ہی اس اسکول کی صفائی پر مامور تھی۔ایک دوسری ملازمہ بھی تھی لیکن وہ اسکول کے بچوں کے ساتھ دن بھر دوسرے امور میں مشغول رہتی، اسکول ختم ہونے بعد صفائی ثمینہ کے ذمے تھی۔ ثمینہ نے متعدد بار اسکول کی مالکن  پرنسپل کو کہا کہ دوسری ملازمہ بھی رکھ لیں۔ لیکن مالکن نے ہمیشہ یہ کہہ دیا، دیکھو ثمینہ چھوٹا سا پرائمری اسکول ہے، ہم چار سو سے زیادہ طلباء کو داخلہ نہیں دیتے۔صرف چند کلاس رومز ہی تو ہیں جن کی صفائی تم کو کرنا پڑتی ہے۔ثمینہ پرنسپل کو اسکا کمرہ، اسٹاف روم، کامن روم، دروازے کھڑکیوں کی جھاڑ پونچھ اور گراونڈ گنواتی تو پرنسپل کہ...
گونگے لمحے   (گفتگو کرتے ہیں)۔ تبصرہ نگار  قانتہ رابعہ

گونگے لمحے   (گفتگو کرتے ہیں)۔ تبصرہ نگار  قانتہ رابعہ

تبصرے
تبصرہ نگار  قانتہ رابعہ یہ کتاب ہے افسانوں کی جسے شفا چوہدری نے تحریر کیا ہے۔اردو ادب میں نظم اور نثر دو اصناف ہیں باقی ساری انہی کی شاخیں اور شعبے ہیں جن میں سے ایک افسانہ ہے۔افسانہ اگر تخیل کی پرواز ہو تو جتنا بھی دلپزیر انداز میں تحریر کیا گیا ہو بہرحال ،افسانہ ہی سمجھا جائے گا لیکن جب افسانے کے موضوعات ہمارے اردگرد کے معاشرتی ،اور نفسیاتی مسائل ہوں تو افسانہ اپنی ہی کہانی اور داستان محسوس ہوتا ہے اور اسے قارئین کے سامنے پیش کرنے میں قدرت نے مصنف کو لفظوں پر قدرت کا ملکہ عطا کیا ہو،انداز دلنشین ہو ،تحریر دلپزیر ہو ،تو لفظ گونگے نہیں بولتے محسوس ہوتے ہیں آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کے ہمسفر بن جاتے ہیں ،آپ سے سرگوشیاں کرتے ہیں ،ہنسنے کی بات ہو تو ان لفظوں سے قل قل کرتے قہقہے اور  قلقاریاں سنائی دیتی ہیں دکھ کی بات ہو تو وہ لفظ آنسو بن جاتے ہیں ،کسی کے راز کی بات ہو تو ہونٹوں...
نظم : آدم کی پسلی از قلم : محمد شاہد محمود

نظم : آدم کی پسلی از قلم : محمد شاہد محمود

شاعری
از قلم : محمد شاہد محمود۔ مجھے مارنے والے اکثر اپنی خواہشوں کے بھنور میں منوں مٹی تلے بے نام و نشاں ہو گئے تکمیلِ از سر نو میں فنا کے حلقوم پر زندگی کی تیغ و دو دھاری تلوار کے درمیان آج بھی رقص بسمل میں مصروف صدائے زندگی ہوں میں اک جہاں ، اک جان سے گزر کر بیش بہا جہان بساتی زندگی سے نبرد آزما ہوں میں ازل تا ابد ابد تا ازل آدم کی پسلی سے پیدا آج بھی مثلِ حوا ہوں آدم میری پسلیوں و پستانوں سے زندگی کی رمق پا کر میری کوکھ سے جنم لیتا ہے میں تخلیق کار ، انجامِ حقیقت و آبروئے انجام ہوں بچپن , کھلونے ,  گلیاں سکھی , سہیلیاں دلارے موسم خزاں رت کی خشک ہوا زندگی کے رنگ , امنگ سب مجھ سے ہیں سب مجھ میں ہیں میں مثلِ حوا  ہر کہانی کی بنیاد بھی ہوں اور مرکزی خیال بھی کہانی مجھے لکھتی ہے اور میں قلم کو کہانی دیتی سیاہ و سفید روشنائی عطا کرتی زندگی کی معراج پر سدرۃ المنتہیٰ ہوں میں مثلِ حوا آج کے آدم کی مک...
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی/ تحریر: نسیم اختر

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی/ تحریر: نسیم اختر

آرٹیکل
تحریر: نسیم اختر ”قائداعظم محمد علی جناح نے فر مایا“ ”پاکستان اسی دن وجود میں آگیاتھا جس دن پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا“ مگر مسلمانوں کو سمت کا تعین کرنے اور جدوجہد آزادی کے لیے متحد ہونے میں پورا سو سال کا عرصہ لگا ۔جب قومیں عمل کی دولت سے خالی ہو جائیں اور اپنی کوتاہیوں کو سدھارنے کی بجاۓ اس کا جرم دوسروں کے کھاتے میں ڈالتی ہیں تو منزل کی جانب سفر اور بھی مشکل اور سسست ہو جاتا ہے۔ تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک کا سفر ایک بہت ہی کھٹن اور صبر آزما مرحلہ تھا ۔ مگر اپنے لیے ایک اسلامی مملکت کا خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں آزادی کے خواب کی تکمیل سے چمک رہی تھیں ۔ جیسے جیسے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا انکا عزم اور بھی جوان ہوتا گیا ۔ انکے سامنے اپنی ثقافت کی پہچان، اپنی مذہب کی حفاظت ،اپنےزبان وادب کی بقا،قومی تشخص اپنا قومی ورثہ اور اپنا نظام تعلیم ایسی چیزیں تھیں جن کی حفاظت کے لیے برطانوی سا...
عزت نسواں/ تحریر : حائقہ نور

عزت نسواں/ تحریر : حائقہ نور

آرٹیکل
تحریر : حائقہ نور۔ لاہور۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو کمزور کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کچھ نہیں کر سکتی یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں وہ مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی ایسا کیوں؟ میں نے تو آج تک نہیں یہ کہیں پڑھا کہ کسی فلسفی نے کہا ہو کے عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔یہاں تک قرآن مجید تک میں یہ نہیں ہے کہ عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی اور وہ مرد سے کمتر ہے جس کی بنا پر عورت کی عزت نہیں کرنی چاہیے اور اسے کمزور کہنا چاہیے۔ہمارے مذہب اسلام اور ہماری پاک کتاب قرآن مجید میں بھی ہر عورت کی عزت کا حکم دیا گیا ہے اور کہیں پر بھی کمزور نہیں کہا گیا۔زچگی کہ وقت جس تکلیف سے اور موت کے منہ سے گزرتی ہے اس کا اندازہ مرد حضرات نہیں لگا سکتے۔جب عورت زچگی کے تکلیف اور موت کی کشمکش سے گزر کر بچے کو جنم دے دیتی ہے اور یہ مرحلہ اس کی زندگی میں کئ بار آتا ہے اس چیز ک...
اکمل شاکر۔ شاعر ، ادیب ۔ گوادر (بلوچستان)

اکمل شاکر۔ شاعر ، ادیب ۔ گوادر (بلوچستان)

رائٹرز
ایک ادیب اور شاعر ہیں جو پسنی ضلع گوادر میں رہائش پزیر  ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے پی آئی اے میں سترہ سال نوکری کرکے پھر دو سال قبل نوکری کو خیر باد کہا۔ پسنی میں بلوچی زبان کے لوگ رہتے ہیں مگر وہ بلوچی شاعری  کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شاعری کرتے ہیں ۔ان کا ایک ماہیا مجموعہ ، تین شعری مجموعہ ،ایک بلوچی مجموعہ اور ایک اردو شعری مجموعہ چھپ چکے ہیں۔ اکمل شاکر کی تصانیف کتب ۔ پرندے لوٹ آتے ہیں ۔ ماہیے عشق آسر نہ بیت ۔بلوچی مجموعہ آٹھ بحر سخن ۔ شعری انتخاب دشت سخن ۔ شعری انتخاب شہر سخن ۔ شعری انتخاب نظم کے ساحل پر ۔شعری مجموعہ کنگن ترے ہاتھوں میں ۔ماہیا مجموعہ سہ ماہی صحب ادبی رسالہ (مدیر) ایوارڈز اعزاز: ادبی ایوارڈ اور سرٹیفکیٹ کنگن ترے ہاتھوں میں ۔ بھیل انٹرنیشنل پاکستان  2022 سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ اور سرٹیفکیٹ بلوچی  کتاب عشق آسر نہ بیت انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان اسلام آباددو ہزار بائ...
ڈاکٹر منور ہاشمی کی شعر ی بصیر ت / تحریر: حمیرا جمیل

ڈاکٹر منور ہاشمی کی شعر ی بصیر ت / تحریر: حمیرا جمیل

آرٹیکل
حمیرا جمیل۔سیالکوٹ شاعری محض لفظوں کو سلیقے سے برتنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں نادیدہ جذبات و احساسات کی پیش کش بھی ہوتی ہے ۔شاعر محض ایک نقال نہیں ہوتاکہ وہ مصور کی طرح چیزوں اور مناظر کو ہو بہو پیش کردے بلکہ وہ دیکھی ہو ئی چیزوں میں اپنے جذبات و احساسات کو شامل کر کے اسے نئی معنویت عطا کرتا ہے ۔گویا فقط فن ِ شاعری ہی شاعری کا موجد نہیں، بلکہ وہ جذبات جو شاعر کو شعر کہنے پر مجبور کریں شاعری کا اہم ترین جزو ہیں،بہترین شاعری بہترین خیالات و افکار کی عکاسی کرتی ہے ،باکمال شاعر حالات و واقعات کا عکاس ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر منور ہاشمی کی شاعری بھی عصر حاضر کے حالات و واقعات میں ڈھلے جذبات کی ترجمان ہے اور اُس معاشرے اور ماحول کی عکاس ہے جس سے براہ ِراست و ہ نبر د آزما ہیں۔آپ کے اشعار ایسے ہی معانی کے حامل ہیںــ’’ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہیـ‘‘ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب شدید جذ...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact