Tuesday, May 21
Shadow

اجرت کا ثواب /مطربہ شیخ

کہانی کار: مطربہ شیخ
اسکول میں پارٹی تھی، سب بچوں نے دل بھر کر انجوائے کیا تھا اور دل بھر کر ہی گتے کے گلاس اور پلیٹیں، کھانے پینے کی بچی کچھی اشیاء چھ سو گز کے بنگلے میں بنائے گئے اسکول کے بڑے سے احاطے میں پھیلائی تھیں۔
ثمینہ صفائی کرتے کرتے بے حال ہو گئ، وہ اکیلی ہی اس اسکول کی صفائی پر مامور تھی۔
ایک دوسری ملازمہ بھی تھی لیکن وہ اسکول کے بچوں کے ساتھ دن بھر دوسرے امور میں مشغول رہتی، اسکول ختم ہونے بعد صفائی ثمینہ کے ذمے تھی۔
 ثمینہ نے متعدد بار اسکول کی مالکن  پرنسپل کو کہا کہ دوسری ملازمہ بھی رکھ لیں۔ لیکن مالکن نے ہمیشہ یہ کہہ دیا، دیکھو ثمینہ چھوٹا سا پرائمری اسکول ہے، ہم چار سو سے زیادہ طلباء کو داخلہ نہیں دیتے۔
صرف چند کلاس رومز ہی تو ہیں جن کی صفائی تم کو کرنا پڑتی ہے۔
ثمینہ پرنسپل کو اسکا کمرہ، اسٹاف روم، کامن روم، دروازے کھڑکیوں کی جھاڑ پونچھ اور گراونڈ گنواتی تو پرنسپل کہتی۔
ثمینہ میں تو معاشرے میں علم پھیلانے کے لئے کوشاں ہوں، اسی لئے اپنے گھر میں ہی یہ چھوٹا سا اسکول کھول لیا۔ دیکھو ناں ہماری فیس کتنی کم ہے، غریب اور مڈل کلاس خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں،  چھ عدد اساتذہ کو تنخواہ دینا ہوتی ہے۔
بجلی کا بل آتا ہے، ہر سال ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔
 نرسری کے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ اور چوکیدار کو بھی تنخواہ دیتی ہوں۔

 ہم تو ثواب کی خاطر علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں تم بھی ثواب کی نیت رکھا کرو۔
ثمینہ خاموش رہ جاتی کیونکہ وہ مجبور تھی، چار بچوں اور اپنا خرچہ اٹھانے کے لئے وہ یہ ملازمت کر رہی تھی، خاوند رنگ ساز تھا، کبھی مزدوری مل جاتی اور کبھی نہ ملتی۔
دونوں مل کر گھر کی گاڑی چلا رہے تھے۔
ایک دن ثمینہ اپنی پہلی بیٹی کو جو اب آٹھ برس کی ہو چکی تھی، اسکول لے کر پہنچی، اور میڈم سے درخواست کی کہ اسے بھی اسکول میں داخل کر لیں ۔
میڈم نے مسکراتے ہوئے بچی کا نام پوچھا۔
فارم پر سارے کوائف خود لکھے اور داخلہ فیس کی رسید بنا کر ثمینہ کو تھما دی۔
ثمینہ نے حیرت سے کہا، میڈم میں تو اسکول کی ملازمہ ہوں، نادار ہوں۔
مجھے تو داخلہ  فیس اور ہر ماہ فیس دینے کی ضرورت نہیں پیش آنی چاہیے۔
میڈم نے مسکراتے ہوئے کہا، اوہو ثمینہ تم کنجوس بہت ہو، یہ چند ہزار داخلہ فیس ہی تو ہے، تم سے ہر ماہ فیس نہیں لونگی۔ یہ داخلہ فیس تو
ثواب کے لئے ہے آخر ہم تمھارے جیسے غریب لوگوں کے بچوں کو اتنا سستا علم کا زیور فراہم کر رہے ہیں۔
ثمینہ پرنسپل کی صورت دیکھتی رہ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact