Tuesday, April 23
Shadow

عزت نسواں/ تحریر : حائقہ نور

تحریر : حائقہ نور۔ لاہور۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو کمزور کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کچھ نہیں کر سکتی یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں وہ مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی ایسا کیوں؟ میں نے تو آج تک نہیں یہ کہیں پڑھا کہ کسی فلسفی نے کہا ہو کے عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔یہاں تک قرآن مجید تک میں یہ نہیں ہے کہ عورت مرد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی اور وہ مرد سے کمتر ہے جس کی بنا پر عورت کی عزت نہیں کرنی چاہیے اور اسے کمزور کہنا چاہیے۔ہمارے مذہب اسلام اور ہماری پاک کتاب قرآن مجید میں بھی ہر عورت کی عزت کا حکم دیا گیا ہے اور کہیں پر بھی کمزور نہیں کہا گیا۔زچگی کہ وقت جس تکلیف سے اور موت کے منہ سے گزرتی ہے اس کا اندازہ مرد حضرات نہیں لگا سکتے۔جب عورت زچگی کے تکلیف اور موت کی کشمکش سے گزر کر بچے کو جنم دے دیتی ہے اور یہ مرحلہ اس کی زندگی میں کئ بار آتا ہے اس چیز کی تکلیف تک جاننے کے بعد بھی وہ ہر بار حاملہ ہونے کے لیے تیار ہو جاتی ہے تو پھر کیسے ہم عورت کو کمزور کہ سکتے ہیں؟اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ نے عورت کو کتنا بہادر اور مضبوط بنایا ہے۔جو مرد حضرات اپنی بیویوں کی عزت نہیں کرتے اور ان کو مارتے پیٹتے ہیں ان کو تو عورت کا شکر گزار ہونا چاہیے اور بہت عزت کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان کی نسل آگے بڑھاتی ہے۔شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کی خدمت کرتی ہے اس کے بچے اور گھر کو سنبھالتی ہے اس کی عزت کی حفاظت کرتی ہے شوہر کی غیر اخلاقی حرکات کے باوجود۔ہمارے مذہب میں عورت اگر کوئی گناہ کا ارتقاب کر بیٹھتی ہے تو اس پر بھی اسلام اور قرآن عورت کو مارنے پیٹنے کا حکم نہیں دیتا تو پھر کیسے مرد معمولی باتوں پر عورت پہ ہاتھ اٹھا لیتے ہیں؟
لڑکی ہو یا عورت ان کی عزت کرنے کا ہر حال میں ہمارے مذہب میں حکم دیا گیا ہے۔پھر کیوں یہ معاشرہ عورت کو عزت نہیں دیتا؟عورت پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ہو دونوں طرح ہی عورت کی عزت یکساں ہے۔اس لیے خدارا عورت کو عزت دیں۔
ہمارے گھروں میں معاشرے میں اگر کوئی لڑکی نوکری کرنے کا کہتی ہے تو اسے یہ کہ کر منع کر دیا جاتا ہے کہ تم لڑکی ہو تم کچھ نہیں کر سکتی اور ماحول خراب ہے۔پھر جب کوئی بیٹی یونیورسٹی میں پڑھائی کرنے کا کہتی ہے تو والدین یہ کہ کر منع کر دیتے ہیں کہ نہیں یونیورسٹی جائے گی تو بگڑ جائے گی۔والدین کو تو اپنی پرورش پورا یقین ہونا چاہیے۔حدیث مبارکہ میں  ہے کہ “علم ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے” تو پھر کیسے والدین بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیتے ہیں؟اسلام پردہ میں رہ کر عورت کو ہر چیز کی اجازت دیتا ہے تو پھر کیوں ہم اس کو اس کی خواہشات کو پورا کرنے سے روک دیتے ہیں؟ اسلام نے تو عورت کو پردے میں رہ کر نوکری کی بھی اجازت دی ہے پھر آخر کیوں باپ،بھائی،شوہر اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور نوکری کرنے سے روک دیتے ہیں پھر کہاں ان مرد حضرات کی غیرت چلی جاتی ہے جب سسرال میں جب ان کی ماں،بہن،بیٹی کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مارا پیٹا جا رہا ہوتا ہے۔عورت یہ سب کچھ اپنے ماں باپ کی اور شوہر کی اور بچوں کی خاطر برداشت کرتی ہے اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہوتی ہے جب کہ وہ طلاق یا علیحدگی کا اختیار رکھتی ہے پھر بھی وہ تو ان سب رشتوں کو بچانے کی خاطر اور رشتے جوڑے رکھنے کے لیے خود کو قربان کر دیتی ہے۔وہ خود کو،اپنے جذبات و احساسات سب کو قربان کر دیتی ہے اور خود ختم ہو جانے کے باوجود اپنے سے جڑے ہر رشتے کو خوش کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔جبکہ جن رشتوں کی خاطر وہ اتنی قربانیاں دیتی ہے جان ماری کرتی ہے انہی رشتوں میں سے کوئی ایک رشتہ اس کا نہیں بنتا اور نہ ہی اس کو کوئی سمجھتا ہے۔
عورت جن بھی رشتوں سے منسلک ہو ماں،بیٹی،بیوی، بہو اور بھی باقی رشتے تو یقین جانیے سب رشتوں میں وہ ہر رشتہ استوار رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے اور بدلہ میں صرف عزت چاہتی ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے۔
ہم نے سنا ہو گا کہ جب کوئی بیٹا اپنی مستی میں گم رہتا ہے ذمہ داریوں کی طرف نہیں دھیان نہیں دیتا تو اس کے والدین کہتے ہیں تیری شادی کر دیں گے تو اگلی خودی ٹھیک کر لے گی جبکہ پرورش تو ماں باپ کر چکے ہوتے ہیں اصل میں تو مرد کی سہی پرورش تو بیوی کرتی ہے اس کو پیار دے کہ اس کی فرمانبرداری کر کے اس کو پیار کے ساتھ ٹھیک کرتی ہے اور اس کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔عورت ہی تو ہے جو مرد کو جنم دیتی ہے،مرد کو باپ بناتی ہے اور اس کی پرورش کرتی ہے پھر بھی مرد عورتوں کی عزت نہیں کرتے۔
عزت ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔عورت کو سب سے زیادہ عزیز اور پیاری چیز اس کی عزت ہی ہوتی ہے۔عورت پیار اور عزت ہی کی تو بھوکی ہوتی ہے اس کے لیے پیسہ معنی نہیں رکھتا۔ عورت کو عزت اور پیار دیں کہ تو دیکھیں وہ اپنا سب آپ پہ لٹا دے گی اور آپ کی ہر بات مانے گی۔خدارا ہر عورت کو عزت دیں یہ اس کا بنیادی حق ہے اس کو اس کے اس بنیادی حق سے محروم نہ کریں۔

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact