Monday, May 27
Shadow

Tag: نصرت نسیم

چائے کا عالمی دن، تحریر: نصرت نسیم

چائے کا عالمی دن، تحریر: نصرت نسیم

آرٹیکل
تحریر: نصرت نسیم جب اترتی ہیں میرے دل میں پرانی یادیںکتنی بچھڑی ہوئی کونجوں کی صدا آتی ہےدو دن پیشتر چاے کا عالمی دن دوستوں نے بڑی چاہ سے منایا۔اور طرح طرح کے بڑے بڑے باتصویر کپ اور چینکوں کی تصویریں لگائیں۔ہم دیکھتے رہے لطف اندوز ہوتے رہے۔کچھ لکھنے کا ارادہ ہرگز نہ تھا۔مگر آج دوپہر بیٹھے بیٹھاے کتنی یادوں نے در دل پر دستک دی۔چاے کے ساتھ چاہت اور محبت والے کتنے رشتے، کتنے مہربان چہرے یاد آے۔اور یادوں کے کتنے چراغ روشن ہوتے چلے گئے۔ہمارے جنت مکانی ڈیڈی کے لئے چاے بہت اہتمام، چاہ اور چینی کے خاص ٹی سیٹ میں پیش کی جاتی تھی۔وہ ہمیشہ سیپریٹ چاے پسند کرتے تھے۔یعنی قہوہ، دودھ، چینی الگ الگ پیش کی جاتی۔فجر کی نماز کے فورا"بعد ایک چھوٹی طشتری میں منے سے ٹی سیٹ میں چاے ان کی میز پر رکھ دی جاتی۔انگلینڈ کابنا چینی کایہ منا سا سیٹ مجھے خاص طور پر پسند تھا۔ڈیڈی نماز پڑھتے تو پھپھو اماں چاے کے قہوے ک...
رباب عائشہ کی خودنوشت “لمحوں کی دھول”، تاثرات: نصرت نسیم

رباب عائشہ کی خودنوشت “لمحوں کی دھول”، تاثرات: نصرت نسیم

تبصرے
تاثرات: نصرت نسیم بہت پیاری رباب عائشہ کی منفرد خود نوشت لمحوں کی دھول  کا مسودہ میرے ہاتھوں میں ہے ۔اور۔مجھے بے پایاں مسرت محسوس ہورہی ہے ۔اس مسرت کی وجہ تو آخر میں بیان کرونگی ۔فی الوقت لمحوں کی دھول پر بات کرتی ہوں ۔جو لمحوں کی دھول نہیں ۔بلکہ ایک پورے دور پورے عہد کو رباب نے پوری سچائی کے ساتھ محفوظ کردیا ہے ۔آج سے 50 سال پہلے کا روالپنڈی ،مقامات۔،حالات ،رشتے داریاں ،رسم۔ورواج وضع۔داریاں ،محبتیں  ان سب رنگوں سے دمکتی خود نوشت ہے۔یہ ایک کارکن صحافی اورجرات مند خاتون کی داستان حیات ہے ۔کہ جس نے کارزارِ حیات کی کٹھنایئوں اوررکاوٹوں کاڈٹ کر مقابلہ کیا ۔دو چھوٹے بچوں کے ساتھ اخبار کی نوکری کو ئی آسان بات نہ تھی ۔مگر ہمت و حوصلے کے تیشے سے اس نے مشکلات کے کوہ گراں تسخیر کئے ۔پچاس سالہ صحافتی زندگی کی اس داستان میں عائشہ نے بڑی جرات اورسچائ کے ساتھ ملک کے دو بہت بڑے اورمشہور اخبارات کے اس...
میرے بچپن کی خوب صورت یادیں/نصرت نسیم

میرے بچپن کی خوب صورت یادیں/نصرت نسیم

آرٹیکل
نصرت نسیم         جاڑے کی یخ بستہ رات، گرم لحاف اوربچپنے کی پکی نیند اورایسےمیں دورسےآتی ہوئی پرسوز آواز اورخوبصورت لَے میں نعت کی آواز سماعت میں رس گھولتی دل میں اترجاتی۔ پھر دھیرے دھیرے آواز قریب آکر گھر کی دہلیز تک آجاتی، "اٹھو روزہ دارو سحر ہو گئی" اس کے ساتھ ہی گہری نیند سے بیدار ہو کر لحاف کی جھری سی بنا کر صورت حال کاجائزہ لیتے۔ دور سےپراٹھے بننے کی ٹھپا ٹھپ آوازیں ،اور توے پر سےاصلی گھی کےپراٹھوں کی خوشبو بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیتی تولحاف ایک طرف پھینک کر چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر بیٹھ کر اعلان کرتے کہ ہم نے بھی روزہ رکھنا ہے۔گھروالے منع کرتے کہ جاؤ جاکر سوجاؤ، مگر ہم ضدکرتےکہ نہیں ہم روزہ ضرور رکھیں گے۔ یوں سحری کھانے کے شوق میں پتہ نہیں کس عمر سےروزے رکھنے شروع کیے۔        خیر وہ تھے بھی سردیوں کے روزے، آدھا دن تو سکول میں گزر جاتا، ...
نصرت نسیم کی کتاب حاشیہ خیال پر ایک نظر/ تبصرہ نگار: پروفیسر محمد اکبر خان

نصرت نسیم کی کتاب حاشیہ خیال پر ایک نظر/ تبصرہ نگار: پروفیسر محمد اکبر خان

تبصرے
کتاب :    حاشیہ خیال تبصرہ :   محمد اکبر خانمصنفہ:    نصرت نسیمموضوع :   تبصرہ کتبقیمت :       400 روپےصفحات:    144 ناشر: شعیب سنز بک پبلشرز سوات (پاکستان)تقسیم کار:  پریس فار پیس فاونڈیشنتبصرہ نویسی ایک مستقل فن ہے.یہ حقیقت تو ہم سب جانتے ہیں کہ فی زمانہ کتب بینی تقریباً آخری سانسیں لے رہی ہے ایسے میں وہ لوگ جو نہ صرف کتاب پڑھتے ہیں بلکہ اس پر تبصرہ بھی لکھتے ہیں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔کتاب پر تبصرہ لکھنا یا اس کے بارے میں اپنے تاثرات کو ضبط تحریر میں لانا ایک مشکل معرکہ سر کرنے سے کسی صورت کم نہیں۔.گویم مشکل وگرنہ گویم مشکلوالا معاملہ ہے۔ بعض مقامات پر میری نظر سے گزرا ہے کہ تبصرہ نگاری بھی ایک قسم کا تنقیدی عمل ہے البتہ میری دانست میں یہ بات  کلی طور پر درست نہیں بلکہ میری ناقص رائے ہے کہ تبصرہ...
لفظے چند ،برائے حاشیہ خیال  (از نصرت نسیم)/ تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ

لفظے چند ،برائے حاشیہ خیال (از نصرت نسیم)/ تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ

تبصرے
تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ۔ آج کا بہت بڑا اہم اور المیہ یہ ہے کہ کتاب لکھنے والے تو لکھ رہے ہیں کہ ایک قلمکار کے لیے لکھنا ایسا ہی ہے جیسے طعام و کلام اور سانس لینا ۔۔قلم کی حرمت کا خیال رکھنے والوں کا قلم رکنے کے لیے نہیں ہوتا  مگر صد افسوس کہ ڈھیروں سرمایہ لگا کر جب اپنے قیمتی وقت کا کچھ حصہ کتاب لکھنے کے بعد کتاب شائع ہو جاتی ہے  تو کتاب کو ہاتھوں میں لینے والے نہیں ملتے ۔مل بھی جائیں تو باذوق قاری خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔وہ دور گزر گئے جب کتاب کی اشاعت مشکل کام تھا اور اس کی  تشہیر کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے پھر بھی کتاب سے عشق رکھنے والے قاری کو کتاب کی اشاعت کے بارے میں پل پل کی خبر ہوتی تھی اور جب تک کتاب ہاتھوں میں آکر نظروں سے گزر نہ جائے اس کے سیاق و سباق اور چنیدہ حصے اہل ذوق کو نہ سنا دئے جائیں، کتاب پر دو چار لوگوں سے تبصرہ نہ کرلیا جائے ،روح کو تسکین نہیں ملتی تھی۔  آج کے سوش...
نصرت نسیم کی کتاب “ حاشیہ خیال “ ۔ تبصرہ : فضل ربی راہی

نصرت نسیم کی کتاب “ حاشیہ خیال “ ۔ تبصرہ : فضل ربی راہی

تبصرے
تبصرہ نگار : فضل ربی راہی نصرت نسیم کا ادب میں اچانک ورود اور پے درپے کئی کتابوں کی اشاعت نے انھیں ادبی حلقوں میں غیرمعمولی شہرت سے نوازا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی‘‘ مختلف موضوعات پر مشتمل متنوع مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انھوں نے مختلف ادبی رنگوں کی ایک کہکشاں سجائی ہے۔ نصرت آپا کے منفرد اسلوبِ نگارش کی وجہ سے ان کا ادبی حلقوں میں خیرمقدم کیا گیا۔ اس کتاب کو ’’اپوا‘‘ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ ان کی دوسری تصنیف ’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ ان کی خود نوشت ہے۔ اس میں انھوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اپنے بیتے ہوئے ماضی کا بے لاگ تذکرہ کیا ہے۔ اس کتاب پر انھیں ’’اباسین آرٹس کونسل‘‘ کی طرف سے پہلا ادبی ایوارڈ ملا ہے۔ نصرت آپا کی تیسری کتاب ’’گزرتے لمحوں کی آہٹ‘‘ ہے جس میں انھوں نے قرنطینہ کے دنوں کی کھٹی میٹھی باتیں اور یادداشتیں ڈائریوں کی شکل میں قلم بند کی ہیں۔ یہ کتاب اپنے مو...
سال 2022 اور میرا ادبی سفر /  تحریر نصرت نسیم

سال 2022 اور میرا ادبی سفر / تحریر نصرت نسیم

آرٹیکل
تحریر  : نصرت نسیم آج 2022 کا آخری دن ہے۔چند گھنٹوں بعد یہ سال بھی ماضی کی اندھی گپھا میں گم ہو جائے گا۔جاتے ہوئے سال کے ان لمحات میں سوچا کہ حسب عادت سال بھر کی مسافت، رحمت، نعمت کا جائزہ لیا جائے۔یادش بخیر کبھی سال ختم ہونے پر نئ نکور ڈائرئ خریدتی۔پرانی ڈائری جس پر روز کے دکھ سکھ تحریر ہوتے۔31 دسمبر کی شام سارے سال کی کارگزاری کا تفصیلی جائزہ لکھ کر بند کرکے چھپا کر رکھ دیتی۔ اب رخ کتاب پر سال بھر کے دکھ سکھ لکھ ڈالتی ہوں۔نہیں نہیں دکھ نہیں صرف سکھ اور کامیابیوں کو یاد کرتی ہوں۔بار بار سجدہ ء شکر بجا لاتی ہوں۔ اللہ سبحان وتعالی کی ان گنت نعمتوں کا شمار تو ممکن نہیں۔مگر لکھتے ہوئے شکر کی روشنائی میں ڈبو کر تشکر سے لبریز دل اور جھکے ہوے سر کو عجز ونیاز سے جھکا کر کہتی ہوں۔کہ میں اس قابل کہاں تھی۔اے خداے عزوجل، اے مالک لوح وقلم جو کچھ عطا کیا۔وہ مجھ ناچیز پر تیرا خاص خاص فضل وکرم ہے۔پھر ...
محترمہ نصرت نسیم کی خود نوِشت ’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ پر ایک نظر

محترمہ نصرت نسیم کی خود نوِشت ’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ پر ایک نظر

تبصرے
نسیمِ سحرؔ                     بھلا کس نے وہ مشہور غزل نہیں سنی ہو گی ’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں، تنہائی جنہیں دہراتی ہے‘‘۔کوئی قلمکار جب ان بیتے ہوئے دنوں کو دہراتا ہے تو اپنی یادداشت اور قلم کا سہارا لے کر اسے اپنی خود بیتی یا خود نوشت کی صورت میں محفوظ کر لیتا ہے۔ حال ہی میں کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی قلمکار خاتون کی موصول ہونے والی دلچسپ خود نوِشت پر قلم اٹھا رہا ہوں جن سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ اب رابطہ ہے تو بس واٹس اَیپ پرَ۔                     نصرت نسیم کے اندازِ بیان کا معترف تو میں تبھی ہو گیا تھا جب انہوں نے میری کتاب ’’تقاریظ و مضامینِ حمد و نعت‘‘ پر سہ ماہی ’’تخلیق‘‘ میں ایک نہایت ہی عمدہ تبصرہ کیا تھا۔حالانکہ مَیں تو تب تک اُن سے واقف ہی نہ تھا۔ یہ عقدہ تو بعد میں کھلا کہ ’’تخلیق‘‘کے مدیر سونان اظہر جاوید نے میری کتاب تبصرے کے لیے انہیں بھیجی تھی۔ بعد میں ان سے ...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact