Friday, May 24
Shadow

سال 2022 اور میرا ادبی سفر / تحریر نصرت نسیم

تحریر  : نصرت نسیم
آج 2022 کا آخری دن ہے۔چند گھنٹوں بعد یہ سال بھی ماضی کی اندھی گپھا میں گم ہو جائے گا۔جاتے ہوئے سال کے ان لمحات میں سوچا کہ حسب عادت سال بھر کی مسافت، رحمت، نعمت کا جائزہ لیا جائے۔یادش بخیر کبھی سال ختم ہونے پر نئ نکور ڈائرئ خریدتی۔پرانی ڈائری جس پر روز کے دکھ سکھ تحریر ہوتے۔31 دسمبر کی شام سارے سال کی کارگزاری کا تفصیلی جائزہ لکھ کر بند کرکے چھپا کر رکھ دیتی۔
اب رخ کتاب پر سال بھر کے دکھ سکھ لکھ ڈالتی ہوں۔نہیں نہیں دکھ نہیں صرف سکھ اور کامیابیوں کو یاد کرتی ہوں۔بار بار سجدہ ء شکر بجا لاتی ہوں۔
اللہ سبحان وتعالی کی ان گنت نعمتوں کا شمار تو ممکن نہیں۔مگر لکھتے ہوئے شکر کی روشنائی میں ڈبو کر تشکر سے لبریز دل اور جھکے ہوے سر کو عجز ونیاز سے جھکا کر کہتی ہوں۔کہ میں اس قابل کہاں تھی۔اے خداے عزوجل، اے مالک لوح وقلم جو کچھ عطا کیا۔وہ مجھ ناچیز پر تیرا خاص خاص فضل وکرم ہے۔پھر لکھتے ہوے ایک ایک راحت کی یاد روشن ہوتی جاتی ہے۔
یادوں کی پٹاری سے گزرے لمحات کو چھانٹنا، راحت اور کامیابیوں کو الگ الگ کرکے لکھنا بھی شکر گزاری کے خوبصورت جذبے اور احساس ممنونیت سے روشناس کراتا ہے۔

 خود نوشت “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں “کی اشاعت

2021 دسمبر کی طویل راتوں میں رات رات بھر جاگ کر خود نوشت کو حتمی شکل دی۔نوک پلک سنواری، بار بار پروف ریڈنگ کی اور مسودہ پبلشر کے حوالے کیا۔اس تاکید کے ساتھ کہ دسمبر کے آخر تک چھپ جانی چاہیے۔
سو 2022 کا روشن سال طلوع ہوا۔تو خوش رنگ سرورق کے ساتھ خود نوشت بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “میرے ہاتھ میں تھی۔پریس فار پیس فاونڈیشن یوکے کے ڈائریکٹر ظفر اقبال صاحب نے بھر پور انداز میں اس کی تشہیری مہم چلائی۔کتاب کی اولین 5 کاپیاں ہمارے نصف بہتر نے خرید کر بونی کی تو چھوٹی بیٹی عائشہ نے 50 کتابوں کے پیسے بھجوا ئے ۔بھابھی نے  دس بھائی تمثیل نے  پندرہ  کاپیاں خرید کر دوستوں میں تقسیم کر دیں۔ہم نے مارکیٹنگ کے دائرے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
۔وہ یادیں وہ باتیں جنہیں ایک آمد کی کیفیت میں لکھا تھا۔میری توقع سے کہیں زیادہ مقبول ہوئی۔پریس فار پیس فاونڈیشن نے اسے ایما زون پر بھی ڈالا۔عالمی افسانہ فورم کے ایڈمن میر وسیم کو کوریا اور منفرد لکھاری بش احمد کو آسٹریلیا کتاب بھجوائی ۔کتاب آتے ہی ان مہربان تبصرہ نگاروں کو کتاب بھجوائی ۔جن کے تبصرے کتاب میں شامل تھے۔
سعود عثمانی نے دنیا اخبار میں اپنے پورے کالم میں” بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “پرمفصل تبصرہ شامل کرکے مسرتوں میں اضافہ کیا۔
شجاعت علی راہی صاحب جنہوں نے اس کتاب کی پروف ریڈنگ کی۔تبصرہ لکھا۔اسلام آباد گئے۔تو خود جا کر کتاب پیش کی ۔اس طرح محترم جبار مرزا صاحب کی خدمت میں خود کتاب پیش کی۔جنہوں نے کمال شفقت سے تبصرہ تحریر کیا۔
سال کے آغاز میں جہاں کتاب کی خوشی تھی۔وہاں یہ بات باعث مسرت تھی۔کہ بڑی بیٹی فری اور داماد شفقت کینیڈا سے دوماہ کے لئے آے۔یہ دوماہ تو ایسی سرعت سے گزرے کہ کہناپڑا
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے جس دن کے لئے

میری تبصرہ نگاری
محترم جبار مرزا صاحب کی کتاب” جو ٹوٹ کر بکھرا نہیں “پر تبصرہ تحریر کیا جو انہیں اس قدر پسند آیا۔کہ انہوں نے تخلیق جیسے ادبی رسالے میں چھپوایا۔تخلیق میں اپنی تحریر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ساتھ ہی سونان اظہر صاحب کا فون آیا۔کہ ہماری  چھ  کتابوں پر تبصرہ لکھیں۔سو چھ کتابوں پر تبصرے لکھے جو میرے مکمل تعارف کے ساتھ “تبصرے نصرت نسیم کے” نام سے چھپے۔اور پسند کئے گئے۔ان ہی کتابوں میں ایک کتاب “تقاریظ ومضامین حمد ونعت “کہنہ مشق ادیب، شاعر اورنقادنسیم سحر کی تھی ۔اس کتاب پرمیرا تبصرہ انہیں اتنا پسند آیا۔کہ رابطہ کیا اور کہا کہ آپ سے اچھا تبصرہ میری کتاب پر کسی نے تحریر نہیں کیا۔یہ سن کر ظاہر ہے ۔سیروں خون بڑھ گیا۔بعد ازاں انہوں نے اپنی  پانچ کتابیں تحفتا”بھجوائیں۔میں نے اپنی خود نوشت بھجوائی  تو تقریظ لکھ کر پاکستان اخبار اور دسمبر کے تخلیق رسالے میں بھی تبصرہ چھپوایا۔یوں کتاب کی وساطت سے ایک بہترین اور بڑے آدمی کی شفقت نصیب ہوئی۔اس کتاب کی پذیرائی اپنی جگہ مگر اس کی وساطت سے بہت اچھے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔فروری میں پشاور یونیورسٹی شعبہ اردو کتاب لے کر گئ تو گلابی رنگت والی من موہنی روبینہ شاہین سے ملاقات ہوئی۔تو لگا کہ برسوں کی شناسائی ہے۔ہم نے ایک دوسرے کو پسند کیا۔اور بہت خوبصورت رشتہ دوستی میں بندھ گئے۔بعد ازاں ڈاکٹر سلمان اور ڈاکٹر سہیل سے بھی ملاقات ہوئی۔انہیں اپنی خود نوشت پیش کی۔شعبہ اردو کے ان تینوں لوگوں کے اخلاق اور عجز وانکسار نے دل موہ لیا۔
آٹھ مارچ کو ڈاکٹر خالد مفتی کے عبادت ہسپتال کے حق بابا آڈیٹوریم میں یوم خواتین پر ایک شاندار تقریب رکھی گئی۔جس کے روح رواں مکرم بردار ناصر علی سید صاحب تھے۔مہمان خصوصی بے نظیر وومن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ تھیں۔تقریب کے اختتام پر انہیں کتاب پیش کی۔ناصر علی سید صاحب نے کتاب کا توصیفی تعارف کرایا ۔ڈاکٹر خالدمفتی اور ان کے بھائی طارق مفتی کو بھی کتاب دی۔
کاروان حوا خواتین لکھاریوں کی منفرد تنظیم ہے۔جس کی میر کارواں پرائیڈ آف پرفارمنس بشری فرخ ہیں۔بھابھی رفعت علی سید جو اس تنظیم کی میڈیا ایڈوائزر ہیں۔ان کی وساطت سے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔دس مارچ کو ہوم اکنامکس کالج پشاور میں یوم خواتین اس طرح منایا گیا۔کہ کاروان حوا کی بارہ خواتین کی بارہ کتابوں کی تقریب رونمائی کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔میری کتاب پر تبصرہ رفعت علی سید نے کیا۔یہاں کاروان حوا کی بہت اچھی لکھاری خواتین سے ملاقات ہوئی۔مارچ کے مہینے میں کہ

پھول کھلے ہیں پات ہرے ہیں

کم کم باد وباراں ہیں۔

بہار کی سندرتا لئے اس مہینے میں دل کی کلی کھل اٹھی۔کہ اچانک عمرے پر جانے کا پروگرام بن گیا۔دو سال بعد عمرہ کھلا تھا تو خوشی اور بے چینی سوا تھی۔اسلام آباد کی بجاے لاہور سے سیٹ ملی۔مارچ کی 26 تاریخ کو صبح سویرے لاہور پہنچے۔شاہین اشرف علی نے پرجوش سواگت کیا۔اور تکیہ تارڑ لے گئیں۔جہاں لیجینڈ لکھاری مستنصر حسین تارڑ سے ملاقات ہوئی۔ان کی گفتگو سنی۔اپنی خود نوشت پیش کی۔تکیہ تارڑ کے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔یہ ایک یادگار دن تھا(۔اس کی روداد تین قسطوں میں لکھ چکی ہوں ؛

سرزمین   حرم میں

ستائیس  مارچ کو درود وسلام پڑھتے ہوے دیار النبی اترے۔جو 2022 کی سب سے بڑی خوشی تھی۔کہ عائشہ اور احمد بھی ساتھ تھے۔دونوں جگہ حرم کے قریب رہائش ملی۔برکتوں سعادتوں بھرا ایک ہفتہ یاد گار رہے گا۔اس عنایت کا شکر کیوں کر ادا ہو۔کہ رمضان المبارک کے دو روزے بھی وہاں رکھے۔وہاں سے واپس دوبئی عائشہ کے ساتھ آے۔دوبئی میں جمعہ اور بیشتر نمازیں مسجد میں ادا کیں۔خاص طور پر تراویح پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔پھر آخری عشرہ اور قیام الیل کی وہ روح پرور ساعتیں یاد رہیں گی۔
سمندر ،غروب آفتاب، پورے چاند کی رات، مالز،سیر وتفریح، کروز کی سیر
غرض پورا مہینہ دین ودنیا کی نعمتیں حاصل رہیں۔عید کے دن واپس آئے تو اپناملک اور گھر اچھا لگا۔
اپنے گھر کی بھی کیا بات ہے۔)

خود نوشت کے لیے اباسین ادبی ایوارڈ

ہاں یاد آیا۔اباسین آرٹس کونسل نے نتائج کا اعلان کیا۔اور رمضان المبارک میں یہ خوش خبری ملی۔کہ میری خود نوشت بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “کو اباسین ادبی انعام براے نثر “2021 کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔اس خوش خبری نے خوشی اور شکر گزاری میں بے پایاں اضافہ کیا۔
اس سال کتنے ہی نئے اور اچھے لوگوں سے ملاقات رہی۔بے نظیر وومن یونیورسٹی کی ڈاکٹر انتل ضیاء اور ڈاکٹر بسمینہ سراج سے ملاقات بہت خوشگوار رہی۔کتابوں کے تحائف ایک دوسرے کو دئیے۔
اسلام آباد جانا ہوا تو اکیڈمی ادبیات گئ۔اکیڈمی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک کو اپنی خود نوشت پیش کی۔ان کے ہمراہ ایوان اعزاز دیکھا۔ساجد صاحب نے تصاویر لیں۔دوسرے دن اکیڈمی ادبیات میں محفل مسالمہ تھی۔چیئرمین صاحب کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔اور منقبت پیش کی۔جو روحانی سرشاری کا باعث بنی۔پشاور میں اکیڈمی ادبیات کی نئ عمارت کا افتتاح اور کتابوں کی رونمائی کی شاندار تقریب میں شرکت کی۔چئیرمین یوسف خشک، ناصر علی سید صاحب اور صوبے کی علمی ادبی شخصیات سے ملنے اور تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔
کاروان حوا کی ساتھیوں کے ساتھ 14 اگست اور بشری فرخ کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے کی خوشی میں کیک کاٹا۔
محترم ناصر علی سید صاحب کی وساطت سے کاروان حوا کی تمام خواتین میجر عامر کی خصوصی دعوت پر نیسا پور گئے۔دریا کا کنارا، شب مہتاب اور دوستوں کا اکٹھ۔الحمدللہ
گندھارا ہندکو بورڈ جانا ہوا۔اس کے ڈائریکٹر ضیاء الدین صاحب بڑے تپاک سے ملے۔خود نوشت کی کھلے دل سے تعریف کی۔اور دس کتابیں گندھارا ہندکو اکیڈمی کے لئے خرید لیں۔ساتھ ہی احساس دلایا۔کہ اپنی ماں بولی ہندکو زبان کابھی حق ادا کروں۔ان کے کہنے پر ہندکو میں رپور تاژ لکھے۔جو صداے نصرت کے نام سے شائع ہونے۔اور پسند کئے گئے۔انہوں نے کوہاٹ کے لئے جاری کردہ رسالہ کوتل رنگ کی ایڈیٹر کی زمہ داریاں تفویض کیں۔
اکتوبر میں اپوا ایوارڈ کے لئے میری پہلی کتاب” کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی “کو اپوا ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔جس کے لئے ایک بار پھر لاہور جانے اور شاہین اشرف علی کی محبت بھری سنگت اور میزبانی سے محظوظ ہوے۔اپوا کی شاندار تقریب میں ایوارڈ حاصل کیا۔یہاں ساجدہ چوہدری، رخسانہ افضل، ریحانہ اعجاز سے ملاقات ہوئی۔
لاہور میں تسنیم جعفری نےاپنے گھر میرے اعزاز میں دعوت رکھی  جہاں ان کی بہن شمو، عطرت بتول، فاطمہ زہرا اور سیرت النبی پر صدارتی ایورڈ یافتہ لکھاری مسرت کلانچوی سے پرلطف گفتگو رہی۔عطرت بتول کی محبت بھری شخصیت اورشاہین کی محبت بھری یادیں لئے واپس آئے۔
روزنامہ آج نے بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “کو قسط وار کالم والے صفحے پر چھاپنا شروع کیا۔
نومبر میں بالآخر اباسین آرٹس کونسل نے تقسیم انعامات واعزازت کی تقریب رکھی  ۔اور دس ہزار نقد انعام کے ساتھ ایوارڈ سے نوازا۔الحمدللہ الحمدللہ

حاشیہ خیال  کی اشاعت
نومبر کے مہینے میں ایک بار پھر قرنطینہ ڈائری کو کتابی شکل میں لانے کے لیے ترمیم واضافے کئے۔ضیاء الدین صاحب کے تعاون سے یہ کتاب گندھارا ہندکو بورڈ نے شائع کی۔جو گزشتہ ہفتے شائع ہوئی۔اس کتاب کے ساتھ ہی اپنے لکھے گئے تبصروں کو اکٹھا کرکے مسودہ تیار کیا۔شبانہ روز محنت سے دوسری کتاب حاشیہ ء خیال کا مسودہ بھی پریس چلا گیا۔تو سکھ کا سانس لیا۔فضل ربی راہی کے بے مثال تعاون اور محنت سے بیک وقت دو کتابوں کا لانا ممکن ہو سکا۔
تیئس دسمبر کو اکیڈمی ادبیات میں مہمان اعزاز کے طور پر شرکت، قائداعظم کی سیاسی بصیرت پرتقریر، محترم شجاعت علی راہی صاحب کی40 ویں کتاب پر پیش لفظ لکھنا 2022 کے جاتے سمے کی وہ مسرتیں تھیں۔جنہوں نے سرشار اور شکر گزار کیا۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ میں نے پہلے لکھا تھا کہ چھلنی میں صرف سکھ چھانتی اورانعام گنتی ہوں۔کہ شکر گزاررہوں۔
یااللہ میں تیری بے پایاں نعمتوں کا شکر کس طرح ادا کروں۔میں ساری عمر سجدہ ء شکر کروں تو بھی کسی ایک نعمت کا حق ادا نہ ہوگا۔
یا اللہ تو جذبہ شکر کو قبول فرما۔آنے والے سال کو اس سے کہیں زیادہ نافع بنا۔اور بہترین عمل کی توفیق عطا فرما
فبای آلا ربکما تکذبان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact