Friday, April 19
Shadow

نصرت نسیم کی کتاب حاشیہ خیال پر ایک نظر/ تبصرہ نگار: پروفیسر محمد اکبر خان

کتاب :    حاشیہ خیال
 تبصرہ :   محمد اکبر خان
مصنفہ:    نصرت نسیم
موضوع :   تبصرہ کتب
قیمت :       400 روپے
صفحات:    144

ناشر: شعیب سنز بک پبلشرز سوات (پاکستان)
تقسیم کار:  پریس فار پیس فاونڈیشن

تبصرہ نویسی ایک مستقل فن ہے.یہ حقیقت تو ہم سب جانتے ہیں کہ فی زمانہ کتب بینی تقریباً آخری سانسیں لے رہی ہے ایسے میں وہ لوگ جو نہ صرف کتاب پڑھتے ہیں بلکہ اس پر تبصرہ بھی لکھتے ہیں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
کتاب پر تبصرہ لکھنا یا اس کے بارے میں اپنے تاثرات کو ضبط تحریر میں لانا ایک مشکل معرکہ سر کرنے سے کسی صورت کم نہیں۔.

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل

والا معاملہ ہے۔ بعض مقامات پر میری نظر سے گزرا ہے کہ تبصرہ نگاری بھی ایک قسم کا تنقیدی عمل ہے البتہ میری دانست میں یہ بات  کلی طور پر درست نہیں بلکہ میری ناقص رائے ہے کہ تبصرہ نویسی کو تنقید نگاری میں شامل کرنا کسی صورت درست طرز عمل نہیں ہے۔ تنقید ایک ماہر و کہنہ مشق نقاد کا کام ہے جو ادبی تنقید کے اصول و ضوابط سے کماحقہ آگاہ ہو. تنقید میں  کسی ادبی فن پارے کے عیوب و محاسن کا تذکرہ کیا جاتا ہے، ان کے علل اور اسباب پر بحث کی جاتی ہے جبکہ اس کے بر خلاف کتاب پر تبصرہ لکھنے والا کوئی بھی عام قاری ہو سکتا ہے مگر اس کی شںخصیت میں چند اہم خوبیوں کا جمع ہونا لازمی ہے پہلی شوقِ مطالعہ، دوسری تخلیقی صلاحیت اور تیسری سلیقہ اظہار.نصرت نسیم صاحبہ کی کتاب “حاشیہ خیال” زیر نظر ہے جو اکیس کتابوں پر ان کے لکھے ہوئے تبصروں پر مبنی ہے۔
مجھے اس کتاب کا مطالعہ کرکے اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ مبصر کے مذکورہ تمام اوصاف کی حامل ہیں. ان کی یہ کتاب مختلف اصناف ادب پر تحریر کردہ کتب کے تبصروں پر مبنی ہے میری خوش قسمتی ہے کہ ان میں سے اکثر کتب میرے زیر مطالعہ رہی ہیں اس کتاب میں شامل چند کتب کا تبصرہ مصنفہ نے اتنے جالب اور دل آویز انداز میں میں زیب قرطاس کیا ہے کہ انھیں فوری طور پر پڑھنے کو دل چاہنے لگا ہے ان میں ہادی عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم، وہ تنہا کر گئی مجھ کو، اور جہد و جستجو شامل ہیں.
نصرت نسیم صاحبہ کی خودنوشت “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں” بھی ایسی ہی  کتابوں میں شامل ہے جس کا مطالعہ کرنے کا جذبہ بھی ان کے لکھے ہوئے تبصروں کو پڑھ کر بے محابا بڑھنے لگتا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر مصنفہ اس کتاب میں اپنی تصانیف پر لکھے گئے مضامین و تبصرے بھی شامل کر لیتیں. ان کی اس تصنیف کے بارے میں مشہور شاعر نسیم سحر نے بجا طور پر تحریر کیا ہے کہ “نصرت نسیم نے اس کتاب میں جس مصنف کی جس کتاب پر قلم پر قلم اٹھایا ہے وہ محض اس کتاب تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی دوسری تصنیفات، اس کے دیگر زاویوں اور جہات کا بھی اپنے رواں دواں اسلوب میں اظہار خیال کیا ہے۔

عرفان شہود کی کتاب” باونی” پر تحریر کردہ تبصرے میں انھوں نے جو کچھ صاحب کتاب کے بارے میں لکھا ہے وہ حرف بہ حرف حقیقت پر مبنی ہے میری عرفان شہود صاحب سے ایک تفصیلی ملاقات ہو چکی ہے اس کے علاوہ میرے لکھے گئے مختصر تاثرات” باونی”کے دوسرے ایڈیشن میں شامل بھی ہیں۔
محترم سعود عثمانی اور جناب جبار مرزا جیسے صاحبان علم و فن سے میری گاہے گاہے فون پر گفتگو رہی ہے ۔ان کی تصانیف بھی زیر مطالعہ رہی ہیں اس لیے ان دونوں شخصیات کے بارے میں جن اعلی خیالات کا اظہار مصنفہ نے کیا ہے اس سے ان کی علم دوستی اور بندہ شناسی مزید واضح ہوجاتی ہے.کچھ کتابیں ایسی ہیں جو میرے مطالعہ میں رہیں ہے مگر میں ان پر اب تک لکھ نہیں پایا۔مصنفہ کی کتاب پڑھنے کے بعد میرے حاشیہ خیال میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ اب ان کتابوں پر ضرور کچھ لکھنا ہوگا.
اس کتاب کو دیکھ کر یہ میری یہ  خواہش ایک بار پھر انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگی ہے کہ مختلف اوقات میں اپنے تحریر کردہ ان تبصروں اور  مضامین کو کتابی صورت میں سامنے لایا جائے جو مختلف کتابوں پر لکھے گئے ہیں اور کئی اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پرشایع ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact