Friday, April 19
Shadow

فوزیہ رد ا کا شعری مجموعہ ” سپتک”/ رئیس اعظم حیدری کا تبصرہ

تبصرہ نگار: رئیس اعظم حیدری
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر  ہم انسانوں کو اس روئے زمین پر بسنے کا ای حسین  موقعہ  عنایت فرمایا  مگر اس دنیا میں آدم علیہ کو بھیجنے کے بعد اللہ نے  ہم انسانوں کو بہت بڑا امتحان میں ڈال دیا ۔ اگر آدم علیہ السلام اور ماں حوا جنت میں ہوتے تو ہم لوگ بھی جنت میں ہی ہوتے  مگر ایسا نہیں ہوا ایک غلطی کی وجہ کر آدم علیہ السلام  اور ماں حوا کو زمین پر اترنا پڑا  جس کے نتیجے میں ہملوگ امتحان میں آگئے اب اس امتحان کو پاس کر کے  ہی جنت حاصل ہو سکتی ہے۔
بہر حال خدا قادر مطلق ہے  آدم علیہ السلام کی پسلی سے ماں حوا کو  پیدا فرماکر   مرد وعورت کو ایک ذہنی  تسکین بخشی  ہے۔
اگر عورت کا وجود  نہیں ہوتا تو یہ دنیا کی آبادی  کس طرح پھیلتی ۔۔مگر  اللہ ہرچیز پر قادر ہے وہ تو کن فیکون کہہ کر ہر چیز  کو پیدا کر سکتا ہے  ۔آدم‌ کو بغیر ماں باپ کے  حوا کو بغیر ماں کے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فر ما کر  خدا نے دکھلا دیا کہ  ہم قادر مطلق ہیں جو چا ہیں کرسکتے ہیں۔
اس میں دورائے نہیں  اللہ جو چاہے کر سکتا ہے  اس پر ہم مسلمانوں کا ایمان ہے ۔دنیا میں جتنی  18000مخلوقات ہیں  ان سب میں انسانوں کا مرتبہ سب سے زیادہ ہے  اسی لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے  اور ان مخلوق  میں  مرد و عورت  دونوں ہیں  ۔مگر عورت قدرت کا حسین شاہکار ہے  اس کا وجود فطرت  کی عکاسی کرتا  ہے جو ایک  دل کش نمونہ ہے۔
عورت ماں بہن بیٹی بیوی  جہاں ہے وہیں  یہ عورتیں  ڈاکٹر ،انجینیر۔افسر ۔ٹیچر ۔ عالمہ حافظہ  اور شاعرہ ادیبہ ہیں۔۔
مگر ان سبھوں میں سب سےزیادہ ماں کا درجہ ہے  ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اس کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔
یہ صرف عورتوں کے لئے ایک خدائی اعزاز ہے۔ ماں کے وجود  کو علامہ اقبال نے  اپنے شعر  میں یوں بیان کیا  ملاحظہ فرمائیں
“وجود  زن سے ہے تصویر کائینات  میں رنگ
اسی کے ساز  سے  ہے زندگی کا سوز دروں ،،
موجودہ دور میں جہاں عورتیں  ہر میدان میں ترقی کر کے آگے نکل چکی ہیں  ۔وہیں شعرو ادب  کی محفلوں   میں پیش پیش ہیں شاعرو ں ادیبوں کےساتھ  قدم میں   قدم ملا کر  آگے بڑ ھ رہی ہیں  ادب کی دیگر اصناف کی طرح شاعری  میں بھی خوب خوب  نسوانی جذبات  کی ترجمانی کر رہی ہیں  نظم  و نثر  دونوں ہی میدان  میں حمد۔ نعت، غزل رباعی قطعات  و گیت     مضمون  کہانی افسانہ   وغیرہ بھی خوب کہتی ہیں ۔۔اردو کی پہلی شاعرہ ماہ لقابائی چندا  سےلیکر پروین شاکر ی اور فوزیہ اختر ردا تک موجود ہیں
شعراءکے،حساب سے  شاعرات کی تعداد گرچہ کم ہے  مگر ہر دور میں شاعرات نے بھی  اپنے عہد کے شاعری کے تقاضوں کو پو را کر رہی ہیں ۔
بنگال میں اٹھارہویں صدی سے شاعری کا پتہ ملتا ہے  شعراء کے زیر سایہ  شاعرات بھی اپنے جذبات کی موجوں کو شعری صورت دینا شروع کیا  اسی کا نتیجہ ہے کہ  شاعرات کی ایک لمبی فہرست ہے ۔
بنگال کی پہلی شاعرہ شرف النساء ہیں  لیکن تحقیق  کے مطابق  بنگال کی اولین  صاحب دیوان  شاعرہ ہونے کا اعزاز  واجد علی شاہ  کی زوجہ  عالم آرا  بیگم کو حاصل  ہے ان کےبعد بہت ساری شاعرات  ادب میں داخل ہوئیں اور اپنے خیالات کو اشعار و غزل میں پیش کر کے داد وتحسین وصول کرتی رہیں  بنگال کی شاعرات۔ بالخصوص کلکتہ کی شاعرات کےیہاں  غزل کی کلاسیکیت کےساتھ عصری تقاضوں کو بھر پور طریقے سے  عکاسی کر نے  کی صلاحیت موجود ہے مغربی بنگال کی شاعرات میں  جہاں شہناز نبی،صابرہ حنا ، ریحانہ نواب ،کوثر پروین کوثر ، ڈاکٹر مہناز وارنٹی، زرینہ زریں، شگفتہ یاسمین غزل،سلمی سحر  بشری سحر ،ڈاکٹر نگار آرا،نگار بانو ناز، رونق افروز  ،زرتاب غزل ،نغمہ نور نادرہ ناز، غوثیہ پروین  و دیگر ادب کےگل بوٹے سجانے میں لگی ہوئی ہیں وہیں ایک نام فوزیہ ردا اختر  کا ہے۔
فوزیہ  ردا اختر سے ہماری ملاقات۔ اسی کلکتہ کےمشاعرہ میں ہوئی ہے اور یہ سلسلہ آج تک قائم ہے فوزیہ اختر ردا ہمارےساتھ پچاسوں  بار آن لائن مشاعرہ  میں اپنا کلام‌سناکر  خوب خوب دادو تحسین حاصل کر رہی ہیں  فوزیہ اختر ردا گلوبل دنیا کی مشہور و معروف شاعرہ ہیں  آن لائن کے ذریعہ ان کی تخلیقات انکی آواز دور دور تک پہنچ رہی ہے   فوزیہ اختر ردااپنی آواز اور تخلیقات کے ذریعہ دور دور  تک پہنچنے میں دل و جان سے دن رات کوشاں  ہیں اور اس کا پھل بھی انہیں مل رہا ہے۔  ہر شاعر اور شاعرہ کے دل میں یہ خواہش ہوتی  ہے کہ  ہم کس طرح بلندیوں کی منزلوں پر پہنچیں اور ہماری شہرت بھی دور دور تک ہو ۔ یہی خواہش فوزیہ اختر ردا کی بھی ہے اور وہ اس میں کامیاب ہو تی نظر آرہی ہیں۔
۔ فوزیہ اختر ردا کےمجموعہ کلام  سپتک   کےمطالعہ سے ان کی شاعری کا ایک نیا  عقدہ کھلتا ہے
یہ ان کے وجود  کی آواز ہے جن میں یہ نرم دل شیریں آواز کو منتقل  کر دیا ہے اس میں وہ کامیاب ہیں۔
فوزیہ اختر ردا کی تخلیقی عمل پر نظر کرتا ہو ں تو مجھے خوشی ہوتی  ہے ان کےتعلق سے جن لوگوں نے، ان کی حوصلہ افزائی کرکے آگے بڑھنے کا سبیل پیدا کردیاہے اگر انکی کوشش رہی تو بہت جلد  فہمیدہ ریاض ،پروین شاکر ، رشید عیاں ، ناصرہ کاظمی،  زیب النساء زیبی، طاہرہ رباب ، شاہین برلاس ،ساجدہ انور   شہناز نبی ریحانہ نواب کوثر پروین کوثر  کی طرح ادب میں اپنا مقام بنالیں گی۔
ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے کے پہلے دو باتوں کو ذہن نشیں کرلیں  اول یہ کہ جدید تر لہجے کے مقابلے میں  ان کے  فکر کی سبک فراہمی  اظہار کی آبدار نرم روی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ   عام  سادہ لفظوں  میں ان کے یہاں  شعری روایات کے گہرے ادراک  کا سراغ ملتا ہے  ایسا بھی ہے کہ  ان کے اشعار میں  نئے نئے خیالات بھی موجود ہیں۔
ان کے مجموعہ کلام سپتک میں  ایک حمد اور ایک نعت کے علاوہ   سینکڑوں غزلیں ہیں۔
نمونہ کےطور پر ان کے  اشعار جو مجھے بے حد پسند ہیں  وہ پیش کررہا ہو ں  امید ہے کہ آپ لوگ بھی پسند کریں گے۔
حمد کا شعر ملاحظہ فرمائیں
توحید کے پرچم پہ لکھا نام خدا ہے
ہر سمت زمانے  میں یہی ایک صدا ہے
اول بھی ہے تو اور تو آخر بھی ہے یارب
اک ذات ہے تیری ہی  سدا جس کو بقا ہے۔۔
فوزیہ اختر ردا  نے اللہ کی وحدانیت کو حمد کے شعر میں جو بیان کیا ہے
حقیقت بھی یہی ہے توحید کے پرچم  میں خدا کے سوا  اور کسی  کا نام نہیں ہے  جبھی تو 18000ہزار مخلوقات کے ہونٹوں پر ذکر الٰہی  موجود ہے۔
اس میں  دو رائے نہیں ہے یہی صداقت بھی دنیا کی ہر چیز فنا ہو جائے گی باقی ایک خدا کی ذات رہےگی
نعت کا یہ شعر دیکھیں۔
ذرے کو آپ نے مہہ انور  بنا دیا
اور خار کو بھی پھول کا بستر بنا دیا ۔۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے دنیا تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی جہالت عام تھی شراب نوشی قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا  ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن بناہواتھا  اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے سینکڑوں بتوں کو پوجا کرتے تھے   ان کی آمد سے  ہی یہ ساری خرافاتیں دور ہوئیں اور ایک خدا کو مان کر زندگی بسر  کرنے والے،  بن گئے۔
فوزیہ اختر نے نعت کے اس شعر میں چودہ سو سال پرانی تاریخ کو پیش کرکے  نئی  تاریخ کو بھی پیش کر دی  ہیں۔۔
آئیے:   اب فوزیہ  ردا اختر کی غزلوں کےکچھ  اشعار سماعت۔ فرمالیں:
مرےدر پر وہ لوٹےکا یقیناً
اسے اپنا بنا   چاہتی ہوں
حق اپنا   جتلاتی  ہے
جو دھڑکن جذباتی ہے
معجزہ آپ کا ملنا ہے مگر
کم نصیبی  ہےخجالت کرنا
نہیں منزل تلک ہوتی  رسائی
کہاں گم ہوگیا   رستہ ہمارا
ممکن  تھا آج بزم میں کہتی میں دل کی بات
پر تجھ کو دیکھتے ہی ارادہ  بدل دیا
سنو مجھ کو نہ اب آواز     دینا
لئے جاتا ہے کوئی  اس جہاں سے
کبھی   ممکن ہے    تم  کو بھول جاؤں
نہیں روٹھیں اگر مجبوریاں بھی
ہماری اک نہ مانی
بڑا مغرور تھا دل
اک شخص کیا چلا گیا گلشن کو چھوڑ کر
اس موسم بہار میں کملا رہی ہوں میں
آئینہ عکس کوئی دکھاتا نہیں اسے
فوزی کا حال بن گیا بیمار کی طرح
فوزیہ کی شاعر ی،سے یہ اندازہ  ہوا کہ ان کی زندگی کی  تلخ حقیقت ہےجو بڑے ہی سلیقے اپنے اشعار کے ذریعہ سماج کو  سچ‌ کاآئینہ  دکھلا رہی ہیں۔
یہ بھی سچ ہےشاعر یا شاعرہ اپنی بیتی سناتا ہے مگر وہ شعر  دوسرے لوگوں پر صادق اترتاہے
ان کی غزلیہ شاعری میں  زیادہ تر غزلیں  مصرع طرح پر ہیں  اور مخصوص بحرو ں میں  ہی ہیں  نئے  کہنے والوں کے لئےیہ سب بحریں  موضوں ہیں تاکہ آسانی سے کہہ لیں
جیسے۔ حمد کا شعر۔۔۔
بحرہزج مثمن  اخرب مکفوف  محذوف ۔۔
نعت کا شعر۔ بحر مضارع  مثمن اخرب  مکفوف  محذوف ۔۔
غزل کا شعر ۔۔بحرمتقارب مثمن سالم
بحر  رمل  مثمن  مخبوں  محذوب،،
بحر ہزج  مسدس محذوف مقصور
بحر مضارع  مثمن  مکفوف  محذوف
فوزیہ نے انہیں بحروں کا زیادہ تر  اپنی غزلوں میں استعمال کیں ہیں ۔۔
شاعری بہت مشق چاہتی  ہے    اور اس میں فوزیہ حتی الامکان   کوشش کررہی ہیں اس شعری سفر میں انہیں ابھی اور بڑےسنگلاخ  راستوں سے گزرنا پڑےگا   اور  ان کا جو  شعری تیور ہے  اس سے مجھے بہت امید ہے کہ  بہت جلد اپنا مقام بنا لیں گیں‌۔
ان کا مجموعہ  کلام ،،سپتک ،جو سات سروں کا سنگم۔ ہے اسے  قاری خوب خوب  پسند کریں گے،    ادب میں یہ ایک نسخہء کیمیا کا اضافہ ہے  اور اسے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے
میں دعاگو ہوں کہ اللہ انہیں ہر میدان میں کامیاب کرے
آخر میں اپنی بات اس شعر کے ساتھ ختم کر رہا ہوں
خود بخود کھنچ کے،چلے آئیں  گے پروانے رئیس
شمع احساس مگر تمکو جلانا ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact