Friday, April 19
Shadow

جہیز لعنت یا ضرورت: تحریر بینش احمد

تحریر: بینش احمد ،  اٹک

صدیوں سے ہم دیکھتے آ رہے ہیں  والدین جب اپنی بیٹی بیاہتے ہیں تو اُس کے ساتھ سامان سے لدی ہوئی گاڑیاں بھی بھیجی جاتی ہیں ۔یہ ایک ایسی رِیت ہے جو ازل سے چلتی آ رہی ہے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب وہ اپنی حیثیت کے مطابق بیٹی کو جہیز ضرور دیتا ہے۔ہمارے ہاں ایسا  رواج ہے۔ لڑکی والے بیٹی تو دیتے ہی ہیں، ساتھ ہی ساتھ جہیز بھی دیتے ہیں۔ جہیز معاشرے کی ایک ایسی ضرورت یا رسم بن گئی ہے کہ اگر لڑکے والے جہیز لینے سے انکار بھی کریں تو بھی لڑکی والے اپنی عزت کی خاطر جیسے تیسے کر کے اپنی بیٹی کو جہیز لازمی دیں گے۔

جہیز ہمارے معاشرے کی ایک انتہائی فرسودہ رسم ہے۔ اگر لڑکی والے عین اسلامی طریقے پر عمل کر کے تھوڑی سی ضرورت کی اشیاء دیں گے تو زمانے والے اُن بیچاروں کو جینے ہی نہیں دیں گے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو دو جوڑے کپڑوں میں بیاہ دیا۔فلاں کی بیٹی تو اُس پر بہت بھاری تھی بغیر جہیز کے ہی رخصت کر دیا- پھر لڑکے والے گھر جائیں گے تو بولیں گے، ہائے تمہاری بہو تو خالی ہاتھ آئی ہے۔ دیکھا تھا میری بہو کو ٹرک بھر کر سامان لے کر آئی تھی- یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے  یہ فرسودہ رسم ہمارے معاشرے میں مزید پروان چڑھتی جا رہی ہے ۔

جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب یا سامان۔جہیز اُن تحائف اور سامان کا نام ہے جو والدین اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے دیتے ہیں، اگر والدین اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو رخصتی کے موقع پر کچھ دینا چاہیں تو یہ شرعی طور پر ممنوع بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رحمت اور محبت کی علامت ہے۔ ایسی صورت میں بچی کے لیے جہیز لینا جائز ہے، اور بچی ہی جہیز کے سامان کی مالک ہوگی۔ ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔

 شریعت میں کہیں  بھی جہیز کی حوصلہ افزائی  نہیں کی گئی ہے ، نہ ہی کسی روایت میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ جہاں تک حضرت فاطمؓہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ رسؐول اللہ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمؓہ کو جہیز کے طور پر جو چیزیں دی تھیں اُن میں ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی شامل تھیں۔

اکثر اہلِ علم اس حدیث کا یہی مطلب سمجھتے ہیں کہ رسؐول اللہ نے یہ چیزیں اپنی صاحب زادی کے نکاح کے موقع پر جہیز کے طور پر دی تھیں، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیز کے طور پر کچھ سامان دینے کا  کوئی تصور بھی نہیں تھا اور جہیز کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔

 سیدہ فاطمہؓ کے علاوہ دوسری صاحب زادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں کہیں کسی قسم کے جہیز کا ذکر نہیں آیا۔ حضرت فاطمہؓ کے لیے حضور ﷺنے ان چیزوں کاانتظام حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان ہی کی طرف سے اور ان ہی کے پیسوں سے کیا تھا؛ کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں، روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہوجاتی ہے، بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا۔

 اگر اس کو جہیز بھی تسلیم کرلیں تو  بس وہ وہی بنیادی ضرورت کی چیزیں تھیں جو ان کے گھر میں موجود نہیں تھیں، جن کی ان کو ضرورت تھی، تو  آپؐ نے اپنی بیٹی کو اس کا انتظام کر کے دے دیا۔ لہذا اگر والدین بغیر زبردستی کے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی لڑکی کو تحفہ دیتے ہیں تو  اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور لڑکی اس کی مالک ہو گی۔

ہمارے معاشرے میں مختلف اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں- کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں ہے- آپ جو بھی دیں گے آپ کی بیٹی کا ہی ہو گا اُس سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہونا- ایسی باتیں کر کے اور بیچاری لڑکی کے نام پر اپنا سارا گھر نئے سامان سے بھر  لیتے ہیں۔

کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو باقاعدہ جہیز کے لئے شرائط  رکھتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں اشیاء چاہئیں اور بیچارے غریب والدین لڑکی والے ہونے کی وجہ سے ساری شرائط مانتے چلے جاتے ہیں- ہمارے معاشرے میں لڑکی والوں کو ہمیشہ ہی جُھک کر رہنا پڑتا ہے-لڑکی والے جہاں بیٹی کی عزت کم ہوتی دیکھتے ہیں وہیں تحفے تحائف لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ بیٹی کا معاملہ ہے، کرنا پڑتا ہے، پھر بھی ان کی بیٹی کو ویسی عزت نہیں ملتی جیسی ملنی چاہیے۔ جانے یہ تفریق معاشرے سے کب ختم ہوگی۔

موجودہ زمانے میں نہ جانے کتنی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی صورت میں بال سفید کر کے اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہوئی ہیں۔ والدین مجبور ہیں کہ لمبی چوڑی رقم، کار، بنگلہ، کوٹھی، نوکر چاکر کہاں سے لڑکے والوں کو دیں -جن کو کم جہیز دیا جاتا ہے اُن کی زندگی بھی عذاب ہی ہوتی ہے- بات بات پر طعنہ ملتا ہے کہ تمہارے ماں باپ نے تمہیں دیا ہی کیا ہے-بھلا کوئی اُن سے پوچھے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی شادی اُس کا گھر بسانے کے لیے کی تھی یا جہیز بٹورنے کے لیے؟

والدین اپنے جگر کا ٹکڑا آپ لوگوں کو دیتے ہیں یہی کافی نہیں؟لیکن نہیں ۔۔۔ہمارے معاشرے میں اب انسانوں کی بجائے دنیاوی چیزوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔

 کم جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کی زندگی عذاب ہوجاتی ہے۔ آج کل معاشرہ انسانیت کی جگہ دولت کو اہمیت دیتا ہے۔ہم نے اپنے دین اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا۔یہی وجہ ہے کہ کئی برائیوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے-ہم بھول گئے کہ اسلام میں جہیز کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ضرورت ہی نہیں۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس میں اصل چیز تعلیم و تربیت ہے، گھر کو سنبھالنا ہی شادی شدہ عورت کا سب سے بڑا فرض ہے۔ہماری پارلیمنٹ کے اراکین کو چاہیے کہ وہ اس پر بھرپور آواز اٹھائیں، قوانین بنائے جائیں تاکہ کچھ تو قدم اس سمت میں آگے بڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact