Tuesday, May 28
Shadow

Tag: آزاد کشمیر پر شاعری

تقریب بہ یاد غالب و فیض/ رپورٹ: حمزہ سعید

تقریب بہ یاد غالب و فیض/ رپورٹ: حمزہ سعید

پی ایف پی نیوز
رپورٹ: حمزہ سعید۔ پوسٹ گریجویٹ کالج (برائے طلبہ)مظفرآباد میں ”بہ یاد غالب و فیض“ کے عنوان سے بزم ادب، پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد  کے زیر اہتمام ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم نے کی۔ جناب محمد اکرم سہیل اور جناب محمد یامین تقریب میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔گوجری زبان کے مشہور شاعر  جناب مخلص وجدانی مہمان اعزاز کے طور پر تقریب میں آئے۔ اس کے علاوہ چیئر مین شعبہ اُردُو پروفیسر سعید احمد شاد، چیئر مین شعبہ انگریزی ڈاکٹر عائشہ رحمان، پروفیسر طارق محمود، پروفیسر مبشر نقوی، پروفیسر ہارون قریشی، پروفیسر امجد حسین بٹ، لیکچرر انگریزی رابعہ حسن، لیکچرر انگریزی احسن قریشی، لیکچرر انگریزی راجا محمد شعیب اور باہر سے آئے ہوئے مہمانان  عکسی احمد خان، دانش محمود چغتائی، قمر الحق خریگامی،کالج کے اساتذہ، اسٹاف ممبران، شعبہ ...
فاطمہ اعجاز ۔ناول نگار وافسانہ نگار۔

فاطمہ اعجاز ۔ناول نگار وافسانہ نگار۔

رائٹرز
فاطمہ اعجاز ۔ناول نگار وافسانہ نگار۔ راولپنڈی کی رہائشی فاطمہ اعجاز جھنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نفسیات میں گریجویشن کے بعد ایک پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ ریسرچ انالیسٹ کے طور پر کام  رہی ہیں۔ ادبی دنیا میں ناول نگاری اور افسانہ نگاری میں منفرد موضوعات اور اسلوبِ بیان ان کی پہچان ہیں ۔ روانی اور دھیمی لے ان کا خاصہ ہے ۔اب تک چھ ناولز اور  معتدد افسانے تحریر کر چکی ہیں جو مختلف رسائل کے علاوہ آن لائن شائع ہو چکے ہیں۔  پسندیدہ مشاغل میں کرکٹ، ٹینس، فٹبال دیکھنا اور کتابیں پڑھنا شامل ہے۔  افسانوں میں مقفل دلوں کی کنجیاں۔۔۔ حیا ڈائجسٹ زندگی کا امتحان۔۔۔ اجالا ڈائجسٹ بلندی کا سفر۔۔۔ اجالا ڈائجسٹ شجرِ امید کی آبیاری افسانہ آزادی کا محروم کرونا متاثرین عشق قوسِ قزح گرداب تفریق ناول نگاری میں:  وہی زاویے جو کہ عام تھے۔۔۔۔ اُجالا ڈائجسٹ عشق خاک نہ کر دے۔۔۔ آن لائن خوابوں کی شہزادی ۔۔۔ آنچل ...
عطاء راٹھور عطار کی غزل

عطاء راٹھور عطار کی غزل

شاعری, غزل
غزل  عطاء راٹھور عطار ہر ایک دکھ سے بڑا دکھ ہے روزگار کا دکھ  یہ روز روز کا صدمہ، یہ بار بار کا دکھ بچھڑ کے ایک سے پٹری پہ لیٹنے والو ہمارےدل میں بھی جھانکو ہے تین چارکادکھ قبا  جو  پھول  کی اتری تو سب فسردہ ہیں  دکھائی کیوں نہیں دیتا  کسی کو خار کا دکھ  شدید دکھ جو رگِ جان پر ہے ناخن زن  دہکتی آگ میں جلتے ہوے چنار کا دکھ وطن میں آگ مسلسل لگی ہے دونوں طرف  ہمارے  دل  میں  سلگتا  ہے آر پار کا دکھ  یہ چاروں سمت سے پتھر جو آ رہے ہیں میاں ہمارا دکھ ہے کہ ہے نخلِ بار دار کا دکھ ...
خواتین کا عالمی دن اور کشمیری خواتین

خواتین کا عالمی دن اور کشمیری خواتین

آرٹیکل
* تحریر۔  سید عمران  حمید گیلانی۔  آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو ختم کرنا ہے۔آٹھ مارچ 1907 میں نیو یارک میں لباس سازی کی فیکٹری میں کام کرنے والی سینکڑوں خواتین نے مردوں کے مساوی حقوق اور اپنے حالات بہتر کرنے کے لیے مظاہرہ کیاتھا۔پولیس نے سینکڑوں خواتین کو نہ صرف لاٹھیاں مار کر لہو لہان کیا بلکہ بہت سی خواتین کو جیلوں میں بھی بند کر دیا گیا۔ 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 سے زائد ممالک کی تقریبا ایک سو خواتین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔سب سے پہلے 1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکا نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظورکی۔ 1913 تک ہر سال فروری کے آخری اتوارکو عورتوں کا دن منایا ...
شاعری افضل ضیائی

شاعری افضل ضیائی

شاعری, غزل
وطن کا قرض تھا اتنا کہ سر دیا جاتازمیں کو سرخ گلابوں سے بھر دیا جاتامیں جب بھی تخت نشینوں سے حق طلب کرتاتو میری گود کو مٹی سے بھر دیا جاتامسرتوں سے مستفید ھو نہیں سکتےنہیں ھے جب تلک تاوان بھر دیا جاتاشب وصال کا کیا المیہ بیان کروںاٹھا کے ایک طرف مجھ کو دھر دیا جاتاکمال طرز حکومت تھا اس ریاست کالباس کفن کا ،مٹی کا گھر دیا جاتاوثیقے توڑ کر بانٹو، زمین لوگوں میںجو نعرہ زن ھوا ؛ وہ قتل کر دیا جاتا افضل ضیائی
کشمیر کی پہلی شہید بیٹی

کشمیر کی پہلی شہید بیٹی

آرٹیکل
ڈوڈہ کے وانی خاندان کی بیٹی کو جدوجہد آزادی کشمیر کے لیے اپنی جان کا نزرانہ پیش کرنے والی کشمیری قوم کی پہلی بیٹی کا اعزاز حاصل ہے  خالد شبیر 1947ء میں تقسیمِ برصغیر کے دوران لاکھوں نہتے مسلمانوں کو جنونی ہندووں نے جموں میں انتہائی وحشت و بربریت کا نشانہ بنا کر شہید کیا۔عفت مآب مسلمان خواتین کی آبروریزی کی گئی۔مساجد،درس گاہیں، رہائشی عمارتیں نذرآتش کی گئی۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جسے جموں و کشمیر کے لوگ کبھی نہیں بھلا سکتے ۔ جو زندہ بچ کر پاکستان پہنچ بھی گئے وہ بھی اپنے پیاروں سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے ۔ آگ اور خون کا ایسا کھیل کھیلا گیا جسے آج بھی بیان کرنا مشکل ہے۔ اُس منظر کو آنکھوں سے دیکھنے والے نور محمد جیسے بزرگوں کیلئے بہت مشکل ہے، جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور بیان کیا ہے ۔ اس وقت ان کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔ 1947ء میں جموں میں ہندو جنونیوں کے ہاتھوں مسلمانوں ...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact