Friday, April 19
Shadow

دوسری شادی اور معاشرتی رویہ

مومنہ جدون (ادین خیل)، میرپور ایبٹ آباد

شادی ایک مقدس اتحاد ہے جو دو افراد کو ایک پرعزم رشتے میں باندھتا ہے، جو زندگی بھر ایک دوسرے سے محبت اور حمایت کا وعدہ کرتا ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں یہ موت، طلاق، یا دیگر حالات کی وجہ سے تحلیل ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں دوبارہ شادی کا خیال آتا ہے۔ جب کہ دوبارہ شادی سماجی طور پر قابل قبول ہو چکی ہے، دوسری شادی کے لیے بھی ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے معاشروں میں مرد کی دوسری شادی کرنے کا خیال اب بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم دوسری شادی کے حوالے سے سماجی رویوں اور اس معاملے پر اسلامی نقطہ نظر پر بات کریں گے۔

بہت سے معاشروں میں، دوسری شادی کو سماجی طور پر ممنوع سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر مردوں کے لیے۔ اسے اکثر پہلے شریک حیات کے ساتھ غداری یا بے وفائی کے فعل کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ دوسری شادی سے جڑی سماجی بدنامی اتنی مضبوط ہے کہ یہ اس فرد کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے جو دوبارہ شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور ان پر تنقید کی جاتی ہے، جس کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں جیسے کہ اخراج، سماجی تنہائی، اور جذباتی پریشانی۔

کیا پہلی شادی کی ناکامی کی ذمہ دار خواتین ہیں؟

معاشرہ اکثر شادی کی ناکامی کا ذمہ دار خواتین کو ٹھہراتا ہے، جس سے ان کے لیے دوبارہ شادی کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی شادی ختم ہونے کے بعد بھی اپنے پہلے شوہر کے ساتھ وفادار رہیں، جس سے ان کے لیے آگے بڑھنا اور نئی زندگی شروع کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ہر مردعموماً دوسری عورت کا بھی طلبگار ہوتا ہے۔ خدا کی طرف سے دوسری شادی کی اجازت تو مرد ہی کو ہے۔ مغرب میں تو دس سال ایک شخص کے ساتھ گزار لینے کے بعد اس پر لعنت ڈال کر نیا بوائے فرینڈ تلاش کر لیا جاتاہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے دیسی لبرلز کو اس میں بھی حکمت و دانائی کے مینار نظر آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ اپنی عورتیں لے کر وہ اس مارچ میں گھس جاتے ہیں، جہاں عورتیں کھلم کھلا بےہودہ نعرے لگا رہی ہوتی ہیں۔لیکن جو عام مرد ہیں، ان کی آنکھ میں بھی دوسری شادی کا لفظ سنتے ہی چمک آجاتی ہے۔

شادیوں والا اور مرگی کے دورے

میرا ایک دوست ہے، جس کا اصل نام تو کچھ اور ہے لیکن دوسری شادی کی مہم اور بشارتیں سنانے کی وجہ سے اسے شادیوں والا کہا جاتاہے۔ دوسری شادی کا سنتے ہی اس کو مرگی کا دورہ پڑ جاتاہے اور رال بہنے لگتی ہے۔ گو بال تو رنگے ہوئے ہیں لیکن عمر گزرتی جا رہی ہے اور ہنوز دلی دور است۔ ایک روز دوسری شادی کی فضیلت اور ضرورت بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا۔ ایک دلدوز قصہ سنایا:کہتاہے کہ ایک عورت بیوہ ہو گئی۔ اسے کسی سہارے کی تلاش تھی۔ اس نے ایک سہارا ڈھونڈا اور اسے شادی پہ راضی کیا۔ سہارا جب پہلی بیوی سے اجازت لینے پہنچا تو وہ اس کے گلے پڑگئی۔ پہلی بیوی نے سہارے کو باندھ لیا ؛چنانچہ وہ بیوہ کے کسی کام نہ آسکا۔ خدا کی کرنی کیا ہوئی کہ کچھ عرصہ بعد سہارا بھی فوت ہو گیا اور اس کی بیوی بھی بیوہ ہو گئی۔ اب دونوں بیوائیں مل کر کسی ایسی عورت کی تلاش میں نکلیں، جس کا شوہر تینوں کاسہارا بن سکے۔ کتنی عبرت ناک کہانی ہے نا؟

اسلامی تناظر

اسلام مردوں کو چار بیویوں تک شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ تاہم، یہ لازمی نہیں ہے، اور مرد ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیویوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کر سکتا تو اسے صرف ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔ مزید برآں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بیواؤں اور طلاق یافتہ عورتوں سے شادی کرنے کی ترغیب دی تاکہ ان کی کفالت اور انہیں محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔اسلام میں مرد کے لئے دوسری شادی مباح ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ترجمہ)تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو)۔النساء، 4: 3۔زمانہ جاہلیت میں کثرتِ ازدواج کا رواج تھا۔ اسلام نے اس کی حد متعین کی اور ایک سے زائد شادی کرنے والے کو مشروط اجازت دیتے ہوئے اس کی حد چار مقرر کی۔

عورت کا مزاج

عام طور پر عورتیں کمزور طبیعت کی مالک ہوتی ہیں، پہلی بیوی دوسری کو اور دوسری پہلی کو خود سے کمتر سمجھتی ہے۔ یوں گھریلو جھگڑوں اور فساد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے جو آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ اس لئے لوگ دوسری شادی سے حتی الوسعٰ اجتناب کرتے ہیں۔ دونوں کے حقوق برابری کے ساتھ ادا کرنا عموماً آسان نہیں اور کسی ایک کے ساتھ ترجیحی سلوک کا وبال بڑا سخت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ)”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط (گرا ہوا) ہو گا۔”(احمد بن حنبل، المسند، 2: 347، رقم: 8549،ابن ماجه، السنن، 1: 633، رقم: 1969،ابن حبان، الصحيح، 10: 7، رقم: 4207، موسسة الرسالة بيروت)؛اور ایک روایت میں ہے کہ:’اسے اس حال میں گھسیٹا جائیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا یا گرا ہوا ہوگا۔'(احمد بن حنبل، المسند، 2: 295)۔

قرانی نقطہ نظر

بہرحال دوسری شادی کیلئے قرآن کریم میں عدل و انصاف کی شرط ہے، اگر عدل نہ کرسکے یا جسمانی و مالی لحاظ سے حقوق زوجیت ادا نہ کر سکے تو ایک سے زائد کی اجازت نہیں، اور اگر ایک بیوی کی بھی مالی و جسمانی لحاظ سے توفیق نہیں تو ایک کی بھی اجازت نہیں۔ اگر آپ مالی اور جسمانی صحت کے لحاظ سے دوسری شادی کی استطاعت رکھتے ہیں تو اپنے علاقہ کی یونین کونسل سے موجود عائلی قوانین (مسلم فیملی لاء) کے تحت پہلی بیوی سے اجازت لے لیں تاکہ شرعی و قانونی تقاضے پورے ہو جائیں۔

اسلام تسلیم کرتا ہے کہ دوبارہ شادی بہت سے افراد کے لیے ایک ضرورت ہو سکتی ہے۔ یہ تسلیم کرتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو ایسے حالات میں پا سکتے ہیں جہاں انہیں پیار کرنے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے، اور انہیں اس بنیادی انسانی ضرورت سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسلام دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔ ایک مرد دوسری عورت سے شادی نہیں کر سکتا اگر اس کی پہلی بیوی کو اعتراض ہو، اور اسے اپنی تمام بیویوں کے ساتھ مالی تعاون، جذباتی دیکھ بھال اور ہر بیوی کے ساتھ وقت گزارنے سمیت تمام معاملات میں یکساں سلوک کرنا چاہیے۔اسلام یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ دوبارہ شادی بچوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ طلاق یافتہ یا واحد والدین کے خاندانوں کے بچے جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ دوبارہ شادی بچوں کو معاون اور مستحکم خاندانی ماحول فراہم کر سکتی ہے، جو ان کی ذہنی صحت اور تندرستی کو بہتر بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں دوسری شادی کا قانون

موجودہ قوانین کے مطابق اگر کوئی مرد پہلی بیوی کی تحریری اجازت کے بغیر شادی کرے تو پہلی بیوی کی شکایت پر اسے سزا یا جرمانے یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کے مطابق دوسری شادی کرنے کے لیے تحریری اجازت نامے کے لیے یونین کونسل کے چیئرمین کو درخواست دینی ہوتی ہے جس میں دوسری مجوزہ شادی کی وجوہات اور پہلی بیوی سے اجازت حاصل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ یونین کونسل چیئرمین یہ درخواست موصول ہونے پر شوہر اور بیوی سے اپنی اپنی جانب سے ایک، ایک رکن نامزد کرنے کے لیے کہتے ہیں جس کے نتیجے میں چیئرمین کی سربراہی میں ‘ثالثی کمیٹی’ تشکیل پاتی ہے۔ یہ ثالثی کمیٹی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔

بغیر اجازت دوسری شادی پر سزا اور جرمانہ

قانون کے مطابق کچھ مواقع پر اگر ثالثی کمیٹی کی اجازت کے بغیر شادی کی جائے تو ایسا کرنے کی صورت میں مرد کو سزا ہو سکتی ہے یا اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا ایک برس تک قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ دوسری شادی کرنے والے مرد کو پہلی بیوی کو فوری طور پر مہر کی تمام رقم ادا کرنی ہو گی۔آخر میں، دوسری شادی کے بارے میں سماجی رویے اکثر منفی ہوتے ہیں، خاص طور پر مردوں کے لیے۔ معاشرہ فیصلہ کرنے اور تنقید کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔

مردوں کا دوسری شادی کہ بارے میں خیال ۔

ایک پرانی عربی کہاوت ہے کہ انسان کا گھر اس کی پوشیدہ جگہ ہوتی ہے مگر آج کل کے دور میں انسان کے گھر کے معاملات اس کی ذات تک محدود رہنے کے بجاۓ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر فرد تک نہ صرف پہنچ جاتے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول شدید تناؤ کا شکار بھی ہو جاتا ہے  آج کل کے مرد فخریہ دوسری شادی کے خواہشمند آج کل کے زمانے میں مردوں کی کسی بھی محفل میں بیٹھ جائيں ان کے درمیان بات دوسری شادی سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی ہے ۔ وہ مرد جنہوں نے دوسری شادی نہیں کی ہوتی ان کی نظر میں وہ مرد ایک ہیرو کی طرح ہوتا ہے جو کہ دوسری شادی کر چکا ہو تا ہے اس کے حق میں تمام مرد یہی دلیل دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ اسلام ان کو ایک سے زيادہ شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر یہ کہتے ہوۓ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے اس اجازت کے ساتھ دونوں بیویوں میں انصاف کی شرط رکھی ہے مردوں کی دوسری شادی کی وجہ عام طور پر مرد کی دوسری شادی کا قصوروار عورت کو ہی قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ بیوی میں کسی نہ کسی قسم کی کمی ہی ہو گی جس کی وجہ سے مرد کو دوسری عورت کی ضرورت پڑ گئی

دوسری شادی کے اسباب

عام طور پر مرد دوسری شادی کے لیۓ جن اسباب سے تیار ہوتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہوتی ہیں

بوریت

ایک مرد جو دوسری شادی کر چکا تھا جب اس سے دوسری شادی کی وجہ پوچھی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ میں نے بوریت دور کرنے کے لیۓ دوسری شادی کی اس کا یہ ماننا تھا کہ اس کی پہلی بیوی بہت اچھی ہے اور اس کو اس سے بہت محبت ہے مگر زندگی کی ایک جیسی روٹین اور ایک جیسی شکل دیکھ دیکھ کر وہ بور ہو گیا تھا اس وجہ سے اس نے دوسری شادی کر لی مگر جب اس سے کہا گیا کہ اگر دوسری بیوی سے بھی بور ہو گۓ تو کیا کرو گے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ پھر تیسری شادی کے بارے میں سوچے گا

بیوی سے مزاج نہ ملنا

 ایک اور صاحب جنہوں نے دوسری شادی کی ان سے جب اس شادی کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کا اور ان کی بیوی کا مزاج آپس میں نہیں ملتا تھا ۔ بیوی گھر کا خیال نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی بچوں کی اچھی تربیت کرتی تھی ان کے لیے گھر جانے کا خیال ہی سر درد کا باعث ہو جاتا تھا اس وجہ سے زندگی میں سکون کے لیۓ انہوں نے دوسری شادی کر لی

کسی کمزور لمحے کے سبب

ایک جاننے والے فیکٹری کے مالک تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والی ایک عورت سے وہ بہت متاثر ہوۓ اور اس سے شادی کا وعدہ کر بیٹھے ۔ اور اس وعدے کو پورا کرنے کےلیۓ ان کو دوسری شادی کرنی پڑی اب وہ دو گھروں کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہوۓ پریشان بھی ہوتے ہیں مگر اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور وہ مجبور ہیں

  دوبارہ سے جوانی حاصل کرنے کے لیۓ

 کہا یہ جاتا ہے کہ ادھیڑ عمری میں اگر مرد کسی کم عمر لڑکی سے شادی کرۓ تو یہ شادی اس کی عمر کو دس سال کم کر دیتی ہے اس وجہ سے اکثر مرد چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی کسی کم عمر لڑکی سے شادی کر لیتےہیں تاکہ جوان ہو سکیں

یہ تمام وجوہات تو مردوں کی جانب سے تھیں مگر کچھ خواتین کا رویہ بھی ان کے شوہروں کو گھر سے بدظن کر سکتا ہے جو کہ دوسری شادی کا سبب بن جاتا ہے اس کے علاوہ بیوی کی بیماری یا کسی قسم کی پیچیدگی جس کے سبب اولاد نہ ہو سکے تو یہ بھی ایک ایسی وجہ ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مرد دوسری شادی کر لیتا ہے ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact