Friday, May 24
Shadow

نصرت نسیم کی  کتاب  “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں”/ تبصرہ: پروفیسر خالدہ پروین

کتاب کا نام ۔۔۔۔۔ بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں
صنفِ سخن ۔۔۔۔۔ خود نوشت
مصنفہ ۔۔۔۔۔۔ نصرت نسیم
مبصرہ ۔۔۔۔۔۔ خالدہ پروین

آپ بیتی یا خود نوشت ایک ایسی صنف ہے جس میں اپنی زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف اپنی ترجیحات اور لگاؤ کے مطابق سوچ وفکر ، عقائد ، تعلقات ، تجربات ، واقعات ، تہذیبی رنگ اور سیاسی فضا کو محفوظ کر لیتا ہے  یہی وجہ ہے کہ “جوش ملیح آبادی” نے “یادوں کی بارات” میں مذہبی عقائد ، روایات اور اپنے ذاتی تعلقات کو انتہائی بے باکی سے پیش کیا ، “شورش کاشمیری” نے “پسِ دیوارِ زنداں” میں اپنے عہد کا سیاسی ماحول ، قیدوبند کا زمانہ اور ظالم سامراج کے ظلم وستم محفوظ کر دیے ، “قدرت اللّٰہ شہاب” نے “شہاب نامہ” میں اپنی ذاتی زندگی ، تحریک آزادی کی فضا ، بیوروکریسی کے پلٹے ، آمریت کی کھینچا تانی کے ساتھ ساتھ روحانی رنگ کو خود نوشت کا حصہ بنا دیا ، “ممتاز مفتی” نے “علی پور کا ایلی” میں ہر چیز کو افسانوی روپ عطا کیا ۔ اس پس منظر میں جب ہم “نصرت نسیم” صاحبہ کی خود نوشت ” بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں” کا جائزہ لیتے ہیں تو  اس دور کی تہذیب ، روایات ،بچپن تعلیمی دور کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی کو اس خوب صورتی اور شائستگی سے تحریر میں سمویا گیا ہے کہ یہ آپ بیتی موجودہ نسل کے لیے ایک ایسی راہِ عمل کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جو اطمینان ،سکون اور کامیابی کی ضمانت ہے۔
نصرت نسیم صاحبہ کی خود نوشت کا شاعرانہ عنوان “بیتے ہُوئے کچھ دن ایسے ہیں ” قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے قیاس آرائی پر مجبور کر دیتا ہے اور فوراً دل :
جنھیں ہم بھلا نہ پائیں گے   
      یا   
 جو ہمیشہ یاد آئیں گے
کی صورت میں تکمیل دیتے ہوئے کتاب کے سرورق کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
سرِورق۔۔۔۔۔۔ پہ موجود مخصوص تہذیب کی عکاس عمارت کا دروازہ اور جھروکے ، جھروکے میں جلوہ افروز مصنفہ کا عکس کتاب کھولنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔

کتاب کھولنے پر جہاں دیدہ زیب  تزئین و آرائش کتاب کے حسن میں اضافہ کرتی ہے وہیں ڈیڈی ، والدین اور دل کے قریب رشتوں ، اساتذہ ، جیون ساتھی ، صدقہ جاریہ یعنی اولاد ، دوستوں اور کتابوں کے نام انتساب مصنفہ کی فکر و قلب کی وسعت کا غماز ہے ۔
کتاب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے عنوانات جہاں قرأت میں آسانی اور دلچسپی کا باعث ہیں وہیں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی حمد الحمدللّٰہ
چمکتا آفتاب
بہ وقتِ عصر
نیلگوں سمندر
موج اڑاتا
نگاہوں کو خیرہ کرتا ہوا
دہکتے آفتاب میں
پانی کے کیسے کیسے رنگ
کبھی نیلگوں ، کبھی زمردیں
چمکتی کرنوں میں کئی رنگ گھلے ملے
کروٹیں بدلتا سمندر
موجوں کی روانی
خیالات کی طغیانی
شکر کی فراوانی
الحمدللّٰہ ، الحمدللّٰہ
اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے اظہار کے ساتھ ساتھ مصنفہ کی اطمینان وسکون سے بھرپور زندگی کی عکاسی کرتی ہے ۔
کتاب “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں” (خودنوشت) کیا ہے ؟
تہذیب کی عکاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک گم گشتہ تہذیب ، روایات و اقدار کی پاسداری ، رشتوں کی اہمیت و خوب صورتی ، اساتذہ کا احترام، سہیلیوں کی محبت ،  اداروں کی عظمت ، زندگی کے مختلف ادوار کی رنگا رنگی  کتاب کی وہ خصوصیات ہیں جو نا صرف قاری کو اپنے اندر گم کر لیتی ہیں بلکہ کتاب کو آہستہ آہستہ پڑھتے ہوئے معلومات کو اپنے اندر جذب کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔
بچپن کے تذکرے سے کتاب کا آغاز کرتے ہوئے فطری انداز میں بچیوں کا ذکر کرتے ہوئے مخصوص دور سے متعلقہ کھیل ، مشاغل ، خوراک ، اداروں میں مساوات کا ماحول ، اعلیٰ تعلیمی معیار ، تہذیب کی علامات ۔۔۔۔  ریڈیو ، بھٹی وغیرہ اس قدر جزیات اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ ایسا قاری جس نے وہ دور نہ دیکھا ہو اپنے آپ کو ایک ایسی الف لیلوی دنیا میں موجود پاتا ہے جو اسے گردونواح سے بے خبر کر دیتی ہے ۔
دائی ، ڈومنی اور کہار جیسے اہم مگر موجودہ دور کے متروک کردار جو ایک دور کی علامت اور پہچان تھے ، رقم کی اکائیاں دمڑی ، ٹکا ، آنہ اور روپے کا دلچسپ انداز میں تعارف معلوماتی اور نئی نسل کے لیے باعثِ حیرت بھی ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں روایتی رسومات ، نشست و برخاست ، سلام وطعام ، آمد و رخصتی ، اپنائیت ومحبت ، مہمانوں کا طویل قیام ، خواتین کا پردہ واحترام ، وسیع القلبیِ پختون تہذیب کے ساتھ ساتھ شان دار اور پروقار عہد کی لفظی تصویریں ہیں جو قاری کے سامنے منظر کھینچ دیتی ہیں ۔
رشتوں کا احساس:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنفہ کی زندگی میں رنگ بھرتے ہوئے رشتے ۔۔۔۔ ڈیڈی ، پھوپھو جان ، صادق علی کا تذکرہ اگر محبت و خلوص میں گندھے ہوئے خاکوں کی حیثیت رکھتا ہے تو” تین عورتیں تین کہانیاں” کے عنوان سے  بجّٓو ، دیدی اور آنٹی چمن کا ذکر ایسے شخصی خاکوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جو بزرگوں کا ادب ، خواتین کا مؤدبانہ انداز ، وفاداری اور قربانی کی خوب صورت مثالیں ہیں۔
مصنفہ نے ان رشتوں اور کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے معتدل انداز اختیار کیا ہے جو شخصیات کے فطری رنگ کو ماند نہیں پڑنے دیتا ۔ جہاں ان کی خوبیاں ، محبت واحترام دلوں کو تقویت بخشتے ہیں وہیں تنہائی اور اپنوں کی خود غرضی اور بے اعتنائی سے پیدا ہونے والا شخصی و نفسیاتی بگاڑ دل کو دکھی کر دیتا ہے۔
محبت و خلوص کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی شخصیت نگاری اس کتاب کا خاصہ ہے پھر وہ اساتذہ سے محبت واحترام کا بیان ہو یا ان کے لباس و سادگی کا تذکرہ ، ان کی طالبات سے محبت و فکر ہو یا ادبی نشو و نما ، طالبات کی حوصلہ افزائی ہو یا پزیرائی ، سہیلیوں سے محبت ہو یا ان کے ساتھ گزارا ہوا زمانہ ۔ ہاجرہ ، شاہینہ اور روشی کی 50 سالہ دوستی کا تذکرہ ہو یا مس صفیہ چوہان ، مس فہمیدہ اختر کی محبت کا بیان دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔

کتابوں سے محبت کی صدی
بےشک نصرت نسیم صاحبہ کا دور کتابوں سے محبت کا دور ہے کتابیں ہی بہترین ساتھی ، اور معلومات کا خزانہ اور معلومات کے حصول کا ذریعہ تھیں۔ “ایک آنہ لائبریری” کتاب دوست کے لیے ایک ایسی نعمت تھی جس کا تصور بھی نئی نسل کے لیے ممکن نہیں۔ رومانوی عنوان اور انداز کی حامل نثری نظم ۔۔۔۔ “میری پہلی محبت”    اس خوب صورت عہد کو محفوظ کرنے کا منفرد انداز ہے :
میری پہلی محبت ۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے رفیق میرے ہمدم
میں نے ہوش سنبھالا تو خود کو تیری محبت میں گرفتار پایا
اسکول جاتے ہوئے تمھارا دیدار
دل کی کلی کا کھل جانا
واپسی پر ملاقات کی سرشاری یونہی تمہاری محبت میں
تم سے ملتے جلتے
کئی برس بیت گئے
تمھاری محبت و رفاقت نے مجھے کیا کچھ دیا
میرا دامن خوشیوں سے بھر دیا
میرے وقت کو بامعنی کر دیا
کتنے اچھے لوگوں سے ملوایا
کتنی ان دیکھی دنیاؤں کی سیر کرائی
کتنی مسرتیں کتنے خزانے میرے دامن میں لا ڈالے
آہ میں کیسے بیان کروں اس محبت و رفاقت کو جس نے مجھے مالا مال کر ڈالا
یہی میری متاعِ عزیز ، متاعِ گراں
جس نے مجھے سر اٹھا کر جینا سکھایا
جیون کا مفہوم سمجھایا
اور ۔۔۔ پھر نہ جانے کیا ہوا
میری آنکھیں ترس گئیں تمھیں دیکھنے کو
وقت کی گردش میں تم کہاں کھو گئی
مادہ پرستی نے تمھیں نگل ڈالا
آہ اے میری آنہ لائبریری
میری پہلی محبت میری ہمدم میں تمھیں کہاں تلاش کروں
تم کہاں روپوش ہو گئی
میری ہمدم میری ساتھی
لفظی تصویریں
عام سے واقعات کا جزیات سے بھرپور شگفتہ بیان محاکات نگاری کے ساتھ کبھی مسکرانے اور کبھی ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے خصوصاً شٹل کاک برقع اوڑھنا ، تانگے میں ہائی سکول جانا ، فرنٹیئر کالج اور ہاسٹل کی زندگی ، کراچی تفریحی سفر پر جاتے ہوئے ریل گاڑی میں محافظ سپاہیوں کی حلیہ نگاری ،سانحہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد شہر کی صورت حال اور چاروں طرف پھیلے ہوئے غم والم کا تذکرہ بیان کے کمال کا درجہ رکھتی ہیں ۔
آؤ ہمارے ساتھ چلو
نصرت نسیم صاحبہ سچائی پر مبنی فطری بیان کے ذریعے یادوں کے سفر میں  اس طرح آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں کہ قاری اپنے آپ کو اس سفر کا ایک حصہ تصور کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ کبھی “ٹل چھاؤنی” میں گھومتا ہے تو کبھی گورنمنٹ سکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتا اور تختی لکھتا نظر آتا ہے ، کبھی ہائی سکول جاتے ہوئے تانگے کی سواری کرتا ہے تو کبھی فرنٹیئر کالج کی گہما گہمی میں گم ہو جاتا ہے۔ غرض  اس دور کی خوب صورتی اور معلومات سے لطف اندوز ہونے کے لیے قاری کے لیے آہستہ آہستہ پڑھتے ہوئے معلومات کو جذب کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ۔
کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے مشعل راہ
خود نوشت میں جہاں ایک تہذیبی روایات کے امین دور کو محفوظ کر لیا گیا ہے وہی کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سسرال میں آمد کے بعد نسیم اور سسرالیوں کے ساتھ گزرے شب و روز  کی داستان اہمیت کی حامل ہے ۔
موجودہ دور میں جب احترام ، محبت ، قوت برداشت اور رکھ رکھاؤ ختم ہونے کو ہے ایسی تحریر ایک ایسے نمونے کی حیثیت رکھتی ہے جو معتدل طرزِ عمل اختیار کرنے میں معاون ہے۔
شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ مرد تعاون کرتا ہے لیکن عورت کے لیے حدود میں رہنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔آج کل جن سسرالیوں سے نالاں نظر آتے ہیں انہی سسرالی رشتوں کی محبت میں نصرت کی نوکِ قلم سے نکلے “ابا جی” سسر “اماں جی” ساس اور “نسیم” شوہر کے محبت و احترام سے تحریر کیے گئے شخصی خاکے  مثبت سوچ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کا باعث ہیں ۔ مثلاً
“بقول ہمارے ایک دوست دو پائپ کبھی سیدھے سیدھے نہیں جُڑتے ان میں چوڑیاں ڈالی جاتی ہیں تو مضبوطی سے جڑتے ہیں ۔ بس شادی کے بعد میاں بیوی کو بھی اپنی عادات میں بہت بدلاؤ لانا پڑتا ہے اور بہت سی باتوں پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے ۔”
ادبی و فطری اسلوب
خود نوشت کے خوب صورت فطری مگر ادبی اسلوبِ بیان کا ذکر نہ کرنا زیادتی کے زمرے میں آئے گا ۔جا بجا برمحل وبرجستہ اشعار جہاں نصرت نسیم صاحبہ کے عمدہ شعری ذوق کا مظہر ہیں وہیں تحریر کے تاثر کو گہرا کرنے کے علاوہ ڈھکے چھپے بیان میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ خوب صورت ادبی وشاعرانہ جملوں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں
        “گو کہ یہ اپریل کا آغاز تھا مگر یہاں ٹھیک ٹھاک گرمی تھی۔ شام ہوئی اور کچھ ہوا چلی تو موسم بہتر ہوا ۔ رات نے سیاہ زلفیں بکھیر دی تھیں ۔یہاں وہاں ہر سو اندھرے کی حکمرانی تھی”۔
  “ابھی وہ غصے میں ان کا پوچھ رہی تھیں کہ وہ سب سروں پر تولیے لپیٹے داخل ہوئیں اور پھر نہ پوچھیں بقول غالب:
   یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں “۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ خود نوشت ایک تہذیبی سرمائے کی حیثیت رکھتی ہے جو اب قصہ پارینہ کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ محبت و خلوص اس تحریر کی شان ہے ۔ شائستہ وادبی انداز مثبت اثرات مرتب کرنے کا باعث ہے ۔ عمدہ اخلاقی اقدار اور روایات کا تذکرہ غیر رسمی تربیت کا باعت ہے ۔  نوجوان نسل کے لیے یہ خود نوشت ایک تربیتی کورس کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دوسروں کی سچائی بیان کرنےکے بجائے اپنے متعلق سچ کہنا مصنفہ کی خوب صورت سوچ اور شخصیت و کردار کی بلندی کی علامت ہے ۔
منفرد انداز کی حامل یہ خود نوشت ادبی سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ مصنفہ کی مثبت سوچ وفکر کو جلا بخشتے ہوئے مزید عروج عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact