تحریر: نگہت سلطانہ

” دیکھورمشہ! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ۔ ۔ ۔ “مجھے کچھ معلوم نہیں میرا صبر اب ختم ہو گیا ہے”اس نے حامد کا ہاتھ جھٹکتےہوئے کہا اب کرسی پر

سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی ” یہ ۔ ۔ ۔ یہ میرے چہرے کی رنگت دیکھی تم نے گھر کی پریشانیوں نے برباد کر دی میری صحت میری خوبصورتی ۔ ۔ ۔ “” مجھ سے غلطیاں ضرور ہوئی ہیں مگر اب لڑائی کرنے کا فائدہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔”” غلطیوں سے سیکھا بھی تو نہیں تم نے ۔ ۔ ۔”کمرے کا دروازہ ہلکے سے دھکے کے ساتھ کھلا آگے چار سالہ علی اور پیچھے چھ سالہ دعا علی کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے، علی نے کمرے کے اندر جھانکا اور دھیرے سے کہا

“مما ! مما ! ۔ ۔ ۔ “مما اور بابا نہ سن سکے اس کی آواز ۔۔دعا نے اسے پیچھے کھینچ لیا اور دروازہ آواز پیدا کئے بغیر بند کر دیا۔

دونوں واپس اپنے کمرے میں آگئے اور مذاکرات جہاں ختم ہوئے تھے وہیں سے شروع ہو گئے علی بولا ” اب کیا کریں مجھے بھوک لگی ہے ۔ ۔ “” بھیا تھوڑا سا صبر اور ، شائد لائٹ ابھی آ جائے اور ہم اوون میں گرم کر لیں دودھ ۔ ۔ ” وہ علی کے فیڈنگ کپ کو بار بار ٹٹول رہی تھی جس کے اندر دودھ خاصا ٹھنڈا ہو رہا تھا سردی کے موسم میں مما نے ٹھنڈا دودھ پینے سے منع کر رکھا تھا۔

دعا ایک مرتبہ پھر کچن میں گئی کہ شائد کوئی صورت نکل آئے دودھ گرم کرنے کی۔ ماچس اور لائٹر نجانے مما نے کہاں رکھ دیئے تھے۔ اوون اس کی رینج میں تھا مگر لائٹ بند تھی۔

” چلو تم بتا دو آج تم بتا دو کیسے سیکھتے ہیں غلطیوں سے ” اب حامد کی آواز بھی اونچی اور لہجہ کرخت ہو رہا تھا۔ اس نے تکیہ اٹھا کر دیوار کے ساتھ دے مارا اور بیڈ کی پائنتی پہ اکڑوں بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔

” سیکھتے یوں ہیں کہ یہ اسٹول جو آپ جناب وہاں سے اٹھا لائے ہیں اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ آئیے ۔ سو بار کہا ہے کہ گھر کی سیٹنگ خراب نہ کیا کرو مگر تم نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ،،

حامد بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اٹھا اور اسٹول اٹھا کر دروازے کے قریب پٹخ دیا ” نہیں رکھوں گا واپس میں اسے ۔ ۔ ” وہ اب کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر کا نظارہ کرنے لگا ” ٹھیک ہے ٹھیک ہے تم ۔ ۔ ۔ ” رمشہ کے فون کی بیل بجنے لگی ” تم ڈٹے رہو اپنے طریقے پر میں بھی ہار ماننے والی نہیں ۔ ۔ “فون کی بیل مسلسل بجتی رہی ۔حامد پیچ و تاب کھاتا کھڑکی کے آگے کھڑا رہا وہ مسلسل بولے جا رہی تھی اور ساتھ اپنی وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی تھی۔

کمرے کا دروازہ ایک بار پھر ہلکے سے جھٹکے سے کھلا دعا آگے، علی پیچھے دونوں نے پل بھر کے لئے کمرے کے اندر کا جائزہ لیا اور پل بھر کے اندر ہی آنکھوں کے اشارے سے ایک فیصلہ کیا۔ دعا دبے قدموں کمرے کے اندر داخل ہوئی، آواز پیدا کئے بغیر اسٹول اٹھایا اور باہر آ گئی۔ علی نے آہستگی سے دروازہ بند کر دیا۔

دعا اور علی کے گھر کے ساتھ آنٹی روبینہ کا گھر تھا اتفاق سے درمیانی دیوار ذرا چھوٹی تھی مگر بچوں کے قد سے بہرحال بڑی تھی دونوں نے مل کے ایک تدبیر نکالی تھی کہ اسٹول کو دیوار کے ساتھ رکھتے ہیں اس پر کھڑے ہو کر آنٹی روبینہ کو آواز دیں گے کہ دودھ گرم کر دیں۔

دعا نے اسٹول دیوار کے ساتھ جما کے رکھ دیا علی اسٹول پر چڑھ کر کھڑا ہو گیا۔

” صحیح طرح کھڑے ہو گئے ناں ! ۔” دعا نے پوچھا ” ہاں ” علی نے اپنا ایک ہاتھ دیوار پر جما لیا

” یہ لو کپ ” دعا نے ایک ہاتھ سے اسٹول کو تھامے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے فیڈنگ کپ علی کی طرف بڑھایا علی نے فیڈنگ کپ لے کے دیوار پر رکھ دیا اور آوازیں دینے لگا ” آنی لوبی (آنٹی روبی) آنی لوبی ! ۔”” علی ! کیا بات ہے بیٹا ! ۔۔” آنٹی روبی نے کچن سے پوچھا”آنی ! ایک کام کر دیں ۔ ۔ ۔ ” علی نے چمکتی آنکھوں سے دعا کی طرف دیکھا .”صدقے جاؤں آئی بیٹا ۔ ۔ ۔” آنٹی روبی کچن سے تیز تیز قدم اٹھاتے ادھر آگئیں ۔ ” آنٹی! یہ دودھ گرم کر دیں ۔ ۔ ” دعا دیوار کے ساتھ منہ لگا کے بولی ” اچھا ضرور کر دیتی ہوں مگر بیٹا ماما کیا کر رہی ہیں ۔ ۔ “” وہ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔” علی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کہے ” وہ اپنی وارڈروب کے سامنے بیٹھی ہیں آنٹی ۔ ۔ “دعا نے بتایا .” ٹھیک ہے بیٹا لاؤ میں گرم کر کے لاتی ہوں دودھ ” اور پھر تھوڑی دیر کے بعد علی نے گرم دودھ کا فیڈنگ کپ دعا کو تھمایا، دعا نے فیڈنگ کپ زمین پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اسٹول کو تھامے رکھا۔ علی نے نیچے چھلانگ لگائی اور پھر دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے دعا سٹول بھی ساتھ اٹھا لائی۔ دعا نے علی کو اپنے بازو کے سہارے سے ساتھ بٹھا لیا۔ علی نے دودھ پینا شروع کیا مگر پہلی گھونٹ کے ساتھ ہی ننھے دماغ میں ایک سوال ابھرا ” مما اتنا ناراض کیوں ہو رہی تھیں بابا سے ۔ ۔ ؟”

” علی ! بابا کو بھی تو غصہ آیا تھا بہت زیادہ ۔” ” کیوں لڑتے ہیں دونوں ۔؟” علی نے فیڈنگ کپ منہ سے ہٹایا اور سیدھا بیٹھ کر دعا سے سوال کیا اور دوبارہ فیڈنگ کپ منہ میں ڈال کر دعا کے کندھے کے ساتھ ٹیک لگا دی.” علی ! وہ اس سٹول کی وجہ سے لڑ رہے تھے ۔” دعا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی .

” آپ کو معلوم ہے ناں ہمارے مما بابا بہت اچھے ہیں ہر وقت نہیں لڑتے آج اس اسٹول نے انہیں لڑوا دیا اور ۔ ۔ ۔ ” وہ باتیں کر رہی تھی نگاہ اسٹول پر جمی تھی اور پھر اچانک بھائی کی طرف نظر گئی تو دیکھا کہ وہ تو سو چکا ہے۔ خالی فیڈنگ کپ چھوٹی چھوٹی انگلیوں کے ساتھ لٹک رہا تھا۔

دعا کو خیال آیا کہ بھائی کو بیڈ پر لٹانا چاہئے، کمبل دینا چاہئے مگر کیسے ؟ اگر خود اٹھے تو اس کی نیند میں خلل آتا۔ تو پھر مما کو آواز دے مگر مما بابا اب تک لڑ رہے ہیں یا صلح کر لی ہوگی ؟ اگر آواز دوں تو مجھ سے بھی خفا تو نہیں ہوں گے ؟ اگر آواز دوں بھی، تو علی کی نیند خراب ہو گی ۔

دفعتاً ایک خیال اس کے ننھے ذہن میں آیا اور پھر اس نے اپنے کوٹ کے بٹن بڑی احتیاط سے کھولے کندھے کے جھٹکے سے اپنے بازو پر سے کوٹ کو اتارا اور اپنی کمر کے پیچھے سے لا کر علی پر لپیٹ دیا۔ اب صورت یہ تھی کہ دایاں کندھا علی کے لئے تکیہ بن گیا تھا، بائیں بازو پر سے کوٹ علیحدہ ہو کر علی کے لئے کمبل بن چکا تھا اور یہی بازو علی کا حصار بن گیا تھا

جوں جوں شام کے سائے ڈھلتے جا رہے تھے ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی اور ننھی دعا کا بایاں کندھا اس ٹھنڈ کو ٹھیک ٹھاک محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔

حامد کھڑکی سے باہر لان کا نظارہ کر رہا تھا چھوٹے سے لان میں ہری ہری گھاس، بیل بوٹے، مہکتے پھول۔ اس چھوٹے سے لان میں زندگی اپنا پتہ دیتی تھی۔ ایک ٹہنی پر بیٹھے چڑا اور چڑیا کی گفتگو حامد کی توجہ کا مرکز بن گئی اور دفعتاً ذہن کے کسی کونے میں مسجد میں ہوئے درس حدیث میں مولوی صاحب کی پیش کردہ چھوٹی سی حدیث کے الفاظ گونجنے لگے۔

” تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو “اس نے پردہ برابر کر دیا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا رمشہ کی وارڈروب کے پاس آ کھڑا ہوا رمشہ اپنے کپڑے چھانٹنے میں مصروف تھی ایک سوٹ بیگ میں رکھتی اور دو بیگ سے باہر نکالتی ۔” رمشہ ! ۔ ۔ ۔” حامد اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا ” رمشہ ! یہ سب جوڑے اسی طرح واپس رکھ دو،، اس نے دونوں بازو پھیلا دیے  ۔ ۔ ۔ “وہ جس کے پورے وجود کو غصے  نے دہکتے انگارے میں بدل دیاتھا پیار کے دو لفظوں کی شبنم سے جل تھل ہوگئی۔۔ ہاتھ جہاں تھا وہیں رک گیا اور پھر جب وہ وارڈروب میں لگے آئینے میں پیچھے کھڑے حامد کا مسکراتا چہرہ دیکھ رہی تھی تو اسے اپنی باجی کی بات یاد آگئی دو دن پہلے ہی تو ملاقات ہوئی تھی اور وہ کہ رہی تھیں .

” موج بڑھے، آندھی آئے، ہوائیں بے وفا ہو جائیں، موسم رنگ بدل لے، کچھ بھی ہو جائے آشیاں کو بکھرنے نہ دینا۔” اور پھر اگلے ہی لمحے وہ اس حصار میں پناہ لے چکی تھی جہاں کسی کے سانسوں کا ساز، دھڑکنوں کا گیت اور قرب کی خوشبو ہی اس کا سرمایہ تھی کہ جسے وہ کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے دل کا موسم خوشگوار ہوا تو یوں لگا جیسے کمرے میں جا بجا پیار کےدیپ جل اٹھے ہوں کمرہ بقعہ نور بن گیا اب کہاں کی ٹھنڈ، کہاں کی خنکی مگر باہر خنکی بڑھتی جا رہی تھی چھوٹے سے لان میں پودے اور پھول ٹھنڈ سے بچنے کے لئے اپنے من میں سمٹ رہے تھے چڑا اور چڑیا بچوں کو آوازیں دے رہے تھے کہ جلدی گھونسلے میں پہنچو۔ دفعتاً دماغ میں کرنٹ سا لگا ” میرا علی ، میری دعا ، حامد چھوڑیں میں بچوں کو دیکھوں سردی میں باہر کھیل نہ رہے ہوں ۔ ۔ ۔” ” ہاں ہاں ضرور مگر ایک وعدہ ۔ ۔ ۔”” کیا ۔ ۔ ؟؟”

” اپنے پیارے ہاتھوں سے چائے بناؤ ، چاکلیٹ کیک بناؤ میں سموسے لے کر آتا ہوں ۔ ۔ ۔ “

” ٹھیک ہے ۔ ۔ ” اور پھر وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ باہر کو لپکی ۔#

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact