تحریر: امانت علی
ایک بات سمجھ سے بالاتر تھی کہ یہ کیڑے مکوڑے اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی اتنی اذیت ناک زندگی کیوں گزار رہے  تھے۔ان کیڑوں کو جنگل کے سرداروں اور ان کے آلہ کار جیسا کہ سانپوں، چوہوں، بچھوں اور چھپکلیوں نے ذات ،رنگ یا نسل کے نام پر تقسیم کرتے ہوئے مختلف فرائض سونپ دیےتھے۔ جن فرائض کو یہ بڑی خوشی سے سرانجام دے رہے تھے حالانکہ کیڑے مکوڑوں اس جنگل میں اکثریت تھی۔ان کی چیدہ چیدہ درسگائیں بھی موجود تھیں جن سے یہ اپنی ضرورت کے حساب سے علم بھی حاصل کر رہے تھے۔  اصل معاملہ ان کی اکثریت اقلیت یا علم کی کمی کا نہیں تھا بلکہ  شعور کی کمی تھی۔ ایک اہم خاصیت کیڑے مکوڑوں کے شوق تھے۔ یہ کیڑے مکوڑے اپنی ذات برادری یا قوم سےبے وفا اور حقوق سے نابلدجبکہ نام نہاد  اونچی ذات کے دوسرے جانوروں کے زیادہ وفادار  اوراعلی  تھے۔
ان میں  مختلف رنگ چیونٹیاں  جو در پردہ خوراک کے حصول کے لیے سانپوں، چوہوں اور بچھوں کو خبر گیری کر دیتی تھیں۔ مکھیاں اپپنے آپ کو چیونٹیوں سے ذرا اوپر درجے میں تصور کرتی تھیں حالانکہ ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مکھیاں اپنا پیٹ پالنے کے لیے گندگی میں بھنبھناتی رہتی تھیں۔  ان کو یہ شعور ہی نہیں تھا کہ وہ بھی اچھی زندگی گزار سکتی تھیں۔ ان کا ہدف ہی چند نوالے کھانا اور گندگی کے ڈھیروں کا رقص ۔جیسا کہ ان کو کھانے کی اچھی ڈش یا مرغوب غذائیں مل جاتیں تو یہ سب کچھ بھول کر اپنے آقاوں کے گھن گاتی تھیں۔  تاریخی اوراق میں ایسی مکھیاں اور چیونٹیاں آسانی سے سانپوں چوہوں اور بچھوں کے لیے کام کرتی تھیں۔ سانپ چوہوں کو جو حکم صادر کرتے وہ بجا لانے کے لیے مکھی اور چیونٹی کی نسلوں کو استعمال کرتے۔  مکڑی جیسے جانور کسی بڑے جانور کا تو نہیں پھنسا سکتے تھے لیکن ان کا جالا ہمیشہ مکھی، مچھر، یا کسی کسی چھوٹے جانور کو پھنسا لیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سانپ کبھی بھی چھوٹے جالوں یا ایسے جال میں نہیں پھنستے تھے بلکہ ہمیشہ کیڑے مکوڑے ہی پھنستے جیسا کہ قانون، عدالت یا کسی بھی الزام میں۔ 
دیگر کیڑوں کی نسلوں میں جو شوق پائے جاتے تھے وہ بڑے مضحکہ خیز تھے جیسا کہ علمی ادبی یا شعور کی مجالس سے دور رہنا، ان  کے پاس آنکھیں تو تھیں لیکن کسی میں بصیرت نہیں تھی سب میں صرف فطری بصارت تھی۔ جب بھی کوئی ظلم یا قہر کا عالم ہوتا تو کیڑے مکوڑے جذباتی ہو جاتے چند دن کے لیے کسی ایک مقام  پر جمع ہوتے اور خوب غل غپاڑہ کرتے ۔ وہ سمجھتے تھے ایسا کرنے سے حق ادا ہو جائے گا۔ بظاہر یہ بز دل اور مکار کیڑے تھے جو ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے تھے لیکن اصل میں یہ اپنی ہی نسلوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے تھے جس کا ان کو شعور نہیں تھا۔ان میں سے پچانوے فیصد دھوکے باز، فراڈی، منشیات فروش اور حتی کہ ضمیر فروش بھی تھے۔یہ سب کے سب اپنا اپنا لو سیدھا کر رہے تھے  اور شوق انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ پورا بھی کر رہے تھے۔ کبھی اگر اختیارات تقسیم کرنے کا وقت آتا تو یہ کیڑے مکوڑے ایک دوسرے کو ڈسنے، نوچنے اور فنا کرنے کو تل جاتے۔ ان کو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ یہ اپنی ہی آبرو خاک میں ملا رہے ہیں۔
 ان کی تقسیم کا سب سے بڑا راز ان کی جذباتی اور سطحی مطلب لینے کی وجہ سے تھا۔ ان کے جذبات سے ان کے حاکم خوب فائدہ اٹھاتے۔ کبھی بھی انتشار ، نفرت، تعصب یا تباہی پھیلانی ہو توان کے سردار جیسا کہ  مگر مچھ، سانپ  اور بچھو ان کے جذبات کو ہوا دینے کے لیے جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے۔ یہ معمولی کیڑے سنی سنائی باتوں پر عمل کرتے اور تباہی و بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔   
  ان کیڑے مکوڑوں میں کچھ چمکدار رنگوں کے تھے اور بعض جنگل کے کسی دوسرے حصے تک کا علم رکھتے تھے جو اپنے آپ  کو دنیا کا مسیحا سمجھنے لگ جاتے۔ سانپوں کی سرداری میں چوہوں کی مدد سے  ان کیڑوں کو کسی بھی جگہ دبوچ  لیا جاتا ور ان کی ساری ہیکڑی نکال دی جاتی۔کیڑے مکوڑوں  کا اہم شوق  معمولی چیزوں سے لطف اندوز ہونا بھی تھا۔ کوئی مذہبی طور پر لطف اندوز ہو رہا  ہوتا، کوئی سیاسی اور کوئی مقامی کھیل کود  سے۔ یہ سارے کیڑے مکوڑے اسی لیے اذیت میں مبتلا  اور ظلم و بربریت کا شکار تھے کیونکہ انہوں نے کبھی اتحاد کا نہیں سوچا تھا۔ اگر یہ اتحاد کرنا چاہتے بھی تو مگر مچھ اپنے پالتو سانپوں کو کمک بھیجتے اور وہ ان کیڑوں کوذات، رنگ، مذب یا نسل کے نام سے  تقسیم در تقسیم کر دیتے ۔ ان سب کے اپنے شوق پورے ہو رہے تھے اور اپنی بد حالی کو دیکھنے کے باوجود کسی بغاوت یا اپنی حق تلفی پر آواز نہیں اٹھا رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact