تحریر: امانت علی
ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایشیا ء میں ایک بہت وسیع اور خوبصورت جنگل تھا۔ سر سبز شاداب، ہر چیز کی ریل پیل، اجناس کی بہتات سکون اور امن۔اس جنگل میں سب جانورہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ جنگل کے مختلف حصے تھے تب سانپوں کو یہ سکون نہ بھایا اور انہیں افریقہ کے جنگلات سے معلومات ملیں کہ اگر وہ آہستہ آہستہ جنگل کے مختلف حصوں میں باری باری کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کو مسل دیں تو وہ سارے جنگل کے مالک بن سکتےہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ باقی جنگلات میں آرام سے قبضہ کرتے ہوئے گھوم پھر سکتے ہیں اور لطف اندوز ہو سکتے کیونکہ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں آتے جاتے ان کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں یہ مخلوقات سانپوں کے مزاج کو برہم کرتے ہیں ۔ سانپوں نے اس مقصد کے لیے چوہوں سے رابطہ کیا۔ چوہے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ان کو کوئی کام مل گیا وہ بھی سانپ جیسے آقاوٴں کا۔ اب اس جنگل میں کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں مسلسل مسلے جا رہی تھیں جن کو چوہے زد وکوب کر رہے تھے۔ چوہے دراصل اپنے آپ کو سانپوں کے خاص الخاص سمجھتے تھے ۔چوہوں کا سردا سمجھتا تھا جنگل کے جس حصے میں وہ تعینات ہیں اس میں انہی کے پاس اختیارات ہیں۔
تب سانپوں نے بھورے رنگ کے کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کو مختلف طرح سے لالچ دے کر اپنا غلام بنا لیا اور باقی رنگوں کے چیونٹی اور کیڑے مکوڑوں کو مارنا اور ظلم ڈھانا شروع کر دیا ۔ کبھی کبھی چوہے چیونٹی اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کی آواز سنتے تو دباؤ میں آ جاتے اور ان میں نرم دلی کا جذبہ پیدا ہو ہی جاتا تھا۔ ان کو لگتا تھا کہ شاید اب وہی کچھ کر لیں گے اور وہ کوئی فیصلہ صادر کرنے کی کوشش کرتے اسی لمحے ان کو دور بلوں میں چھپے سانپ بظاہر جو کچھ نہیں کر سکتے تھے جن کی بدنامی پہلے سے ہی پھیل چکی تھی یا مفاد کا خطرہ تھا نیا فرمان جاری کرتے کہ کسی کیڑے مکوڑے یا چیونٹیوں کو نہ سکون سے رہنے دینا ہے نہ ان کی مال جائیداد چھوڑنے ہیں۔ یہ ناچیز کیڑے اور چیونٹیاں ان کی کیا مجال۔ اگر کوئی حق مانگے یا سوال کرے تو اس پر مختلف طرح کے الزامات لگانے ہیں جیسا کہ ملک دشمن، غدار، دہشت گرد یا بے وفا۔ اس کے علاوہ ایسے کیڑوں مکوڑوں کو نشان عبرت بنانا ہے۔ یونہی سانپوں نے چوہوں کی مدد سے جنگل کے مختلف حصوں پر باری باری ظلم ڈھا کر سارے جنگل پر قبضہ جما لیا۔وہ جہاں چاہتے رہتے، جس کیڑے مکوڑے کو دل کرتا مسل دیتے اور جنگل کا خزانہ لوٹ کر نہ صرف خود بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی عیاشی کا سامان مہیا کرتے۔ 
پھر یوں ہوا کہ عجیب رواج بن گیا اگر کوئی کیڑا، یاچیونٹی کبھی حق کی بات کرتے تو باقی خاندان والوں کو بہت ناگوار گزرتی کہ اس کو کیا ہو گیا ہے حق کیسے مانگ رہا ہے؟ اب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ کیڑے مکوڑے ایک دوسرے کو کھانے لگ گے۔ اس دوران ایک چمکدار رنگت والا کیڑا اٹھا اور اس نے باقی کیڑوں کو بھی راغب کرنا شروع کر لیا کہ اس جنگل میں تھوڑا سا بالکل تھوڑا سا حق ہمارا بھی ہے۔ پہلے تو اس کی آواز پر کسی نے کان نہیں دھرے کیونکہ وہ زمینی حقائق کے حوالے سے غلط باتیں کر رہا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی باتیں باقی کیڑوں اور چیونٹیوں کو جگانے لگیں۔ ان کو ادراک ہوا کہ یہ ظلم تو مشرق، مغرب، شمال اورجنوب ہر جانب رواں رہا ہے لیکن بہت دور کسی مگر مچھ نے اپنے سپولوں کوکہا یہ کیا ماجرا ہے ؟ کیڑوں کی کیا مجال سوال کریں؟ ان کو سرداروں سمیت کچل دو۔بس پھر کیا تھا کیڑوں کی کیا مجال وہ سر اٹھا سکیں ۔ یونہی یہ جنگل اور اس کے سب حصوں پر سانپ اور سانپوں پر دور سے مگر مچھ راج کرنے لگے

One thought on “جنگل کی کہانی، تحریر: امانت علی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact