Friday, May 24
Shadow

انتہا پسندی کی وجوہات اور ممکنہ حل | تحریر : نسیم اختر 

تحریر : نسیم اختر 
برقی پتہ :
naseemaktar12632@gmail.com

انتہا پسندی جیسا کہ الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی ذاتی راۓ  یا کوئی فیصلہ کرنا اور پھر اس پر نفع نقصان پر غور کیے بنا سختی سے جم جانا یا اپنے رویے میں لچک کی کوئی گنجائش نہ رکھنا ، انتہا پسندی ہے ،

 اپنے عقائد،نظریات اور خیالات دیگر تمام عقائد پر مقدّم رکھنا اور انہی کے درست ہونے پر مصررہنا انتہا پسندی کہلاتی ہے۔جب اپنے لیڈر، گروہ، قبیلے، قوم یا کسی خاص نظریے سے محبّت شدّت اختیار کر جائے، اس کی کوئی برائی، برائی نظر نہ آئے، اختلافِ رائے کا احترام ختم ہو جائے، تو ایسے جذبات انتہاپسندی کا رُوپ دھار لیتے ہیں۔ دَراصل، یہ ایک منفی جذبہ ہے، جو نظریے کی شدّت سے وجود میں آتا ہے۔ ویسے عام طور پر انتہا پسندی سے مراد مذہبی انتہا پسندی ہی لیا جاتا ہے، تاہم یہ صرف مذہبی نہیں کئی طرح کی ہوتی ہے۔
انتہاپسندی دراصل ایک طرز عمل کا نام ہے۔ اگرکوئی شخص پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتاہے ،دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے دائرے میں اپنی رائے پر عمل کرنے دیتاہے، باہمی تعلقات اور باہمی مکالمہ پر یقین رکھتاہے ،افہام وتفہیم سے کام لیتاہے تو اس کایہ طرز عمل اس بات کی شہادت ہے کہ وہ انتہا پسند نہیں ۔لیکن اگر وہ کسی دوسری رائے کو برداشت کرنے پر بھی تیارنہیں، اگر وہ مخالفین کو زندہ رہنے کا حق دینے پر آمادہ نہیں، اگر وہ باہمی مکالمہ اور باہمی رواداری پر یقین نہیں رکھتا تو بلاشبہ اس کا یہ ر ویہ انتہا پسندانہ کہلائے گا۔
اہل علم و ادب کی رائے میں اصل مسئلہ کسی عقیدے یا نظریے کا حامل ہونا نہیں، بلکہ ایک تربیت کا ہے ۔ہم نے اپنے معاشرے میں افراد کی اس سطح پر تربیت کی ہی نہیں۔ ہمیں یہ درس نہیں دیاجاتا کہ ہم دوسروں کے ساتھ رائے کے اختلاف کے باوجود معاشرتی سطح پر خوشگوار تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ آج ہم وطن عزیز میں صورتحال دیکھتے ہیں ایک سیاسی جماعت کے کارکنان دوسری جماعت پر کیچڑ اچھالتے نظر آتے ہیں اور دوسری جماعت کے کارکنان تیسری جماعت پر نازیبا الفاظ میں گھن گرج کرتے ہیں ۔یہ اپنے اس رویے سے نہایت سیاسی نا پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عام لوگ اپنی اپنی جماعت کی حمایت میں دوسروں سے جھگڑتے نظر آتے ہیں ۔حالانکہ اگر ہم ملکی حالات کا غیر جانبداری سے تجزیہ کریں تو کسی بھی سیاسی جماعت نے وطن اور عوام سے اخلاص کی خاص مثال قائم نہیں کی۔ اور ہم ایسی جذباتی قوم ہیں کہ حقیقت کر پرکھنے کے بجاۓ آپس میں لڑنے جھگڑنے میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔ ہمیں پھر سے انسانی سطح پر اور پھر وسیع تراسلامی اخوت کی سطح پر باہمی احترام کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔ہمیں گھروں میں بڑوں کی طرف سے اور منبر ومحراب سے علمائے کرام کی طرف سے جب پکڑ لو ،پکڑ لو اور مار دو ماردو کا سبق ملے گا تو اس کے منفی اثرات تو لامحالہ ہمیں بھگتنے پڑیں گے۔ افہام وتفہیم کا راستہ کھلا رکھاجائے ،دوسروں کی بات کو اگر وہ دلائل کے ساتھ ہے ،سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور ایک دوسرے کو برداشت کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ انتہاپسندی سے پاک نہ ہوجائے۔
اس مسئلے کے تدارک کے حوالے سے جو یہ حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ ہر قسم کی اختلافی تحریروں پر پابندی لگادی جائے ،ا س میں کچھ حدوں کی نشان دہی ضروری ہے۔ اگر تو کوئی تحریر محض دشنام 
طراز ی پر مشتمل ہے اور اس میں مار دو پکڑ لو کا درس ہے، اس کی زبان اخلاق سے گری ہوئی ہے تو ایسی کتابوں کی اشاعت کا کوئی جواز نہیں اور ایسی کتابوں کی اشاعت پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے۔ اس باب میں دوآرا ممکن ہی نہیں۔ لیکن شائستگی ،علمی وقار اوردیانت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی جانے والی اختلافی تحریروں اور بحث مباحثے کی راہ کھلی رکھنی چاہیے، ورنہ معاشرے میں ایسی گھٹن پیداہوگی کہ پورا معاشرہ یا تو ایک مردہ معاشرے بن جائے گا اور یا پھر پریشر ککر کی طرح اس میں پریشر جمع ہوتا جائے گا اور پھر ایک دن ایک دم پھٹے گا اورپورے معاشرے کو انارکی کا شکار کر دے گا۔
معاشرے میں انتہا پسندی کا اگر تجزیہ کیا جاۓتو جہالت اس کا سب سے بڑا عنصر ہے۔دین سے بےخبری ، خود قرآن وحدیث سے بے خبری،تلاوت قران بغیر مفہوم کو سمجھے کی جاتی ہےاس عمل کے ثواب میں تو کوئی شک نہیں ہے لیکن قرآن مجید فرقان حمید کتاب ہدایت ہے اور ہدایت  پانے کے لیے  کتاب ہدایت کو سمجھنا ضروری ہے ۔ 
اگر ہم قران کا مطالعہ معنی ومفہوم سمجھ کر کریں گے تو اس سے بہت سے مسائل سلجھ سکتےہیں ہمارے ہاں ہر کس وناکس اپنی راۓ قطعیت سے دینے کا عادی ہے حا لانکہ ان میں سے اکثر کے پاس قرآن وحدیث کا علم سرے سے نہیں ہوتا۔
رواداری اور عدم برداشت کی مو جودگی  بھی انتہا پسندی کی ایک اہم وجہ ہے۔ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر برداشت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔عجلت پسندی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے چھوٹی اور معمولی باتوں پر مرنے مارنے پر تیار ہو جانا ہمارا معمول بن چکا ہے۔زمانہ جدید میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا نے تعلیمی میدان میں بھی بے حد ترقی کی جگہ جگہ کونسلنگ سینٹر قائم  ہوۓ ، تعلیمی اداروں میں بڑے بڑے  سیمنار   منعقد کیے جاتے ہیں جہاں لوگوں کو کمیونیکیشن سکلز  کی تعلیم دی جا تی ہے۔بڑ ے بڑے ماہرین لیکچرز دیتے ہیں ۔
لوگوں کو رواداری کے گر سکھاتے ہیں مگر پھر بھی نجانے کیا وجہ ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ سب سے زیادہ عدم برداشت کا شکار ہے ۔ اساتذہ فکر مند دکھائی  دیتے ہیں کہ طلبا میں شدت پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ رزلٹ میں اچھے گریڈز نہ لینے پر ایک نوٹ لکھتے ہیں اور خود کشی کر لیتے ہیں۔ 
اس رویے کی اصلاح کی اصل ضرورت ہے انسان کو دوسروں کی بات اور مخالفانہ راۓ کو  حوصلے سے سننے اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔اور اس کے ساتھ اختلافی مسائل  کو بڑے مہذب طریقے سے کرنے کا فن سیکھنا چاہیے تاکہ ہم ایک پر امن معاشرے کی تشکیل میں کامیاب ہو سکیں۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact