Friday, April 19
Shadow

سفر معراج النبی | محمد برہان الحق

تحریر: محمد برہان الحق۔جہلم

رجب المرجب کی اہمیت

اسلامی سال کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ رجب اُن چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ارشاد ہے: اللہ رب العزت کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اُس دن سے نافذ ہیں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان بارہ مینوں میں سے چار حرمت والے ہیں۔’’ (التوبہ36) ۔نبی اکرم ﷺ نے ان کو بیان فرمایا ہے اوروہ یہ ہیں۔ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب۔معلوم ہوا کہ حدیث نبوی ﷺکے بغیر قرآن کریم نہیں سمجھا جاسکتا ۔ ان 4مہینوں کو اشہر الحرام کہا جاتا ہے۔ ان مہینوں کو حرمت والے مہینے اس لئے کہتے ہیں کہ ان میں ایسے کام سے جو فتنہ وفساد ، قتل وغارت گری اور امن وسکون کی خرابی کا باعث ہوں منع فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ لڑائی جھگڑا سال کے دیگر مہینوں میں بھی حرام ہے مگر اِن چار مہینوں میں لڑائی جھگڑا کرنے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ ان چار مہینوں کی حرمت وعظمت پہلی شریعتوں میں بھی مسلّم رہی ہے حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔

نبی اکرم ﷺ کی دعا

رجب کا مہینہ شروع ہونے پر نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:اللہم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان۔” اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور ماہ رمضان تک ہمیں پہنچا۔” (مسند احمد وبیہقی)۔لہذا ماہِ رجب شروع ہونے پر ہم یہ دعا یا اس مفہوم پر مشتمل دعا مانگ سکتے ہیں۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک رمضان کی کتنی اہمیت تھی کہ ماہ ِ رمضان کی عبادت کو حاصل کرنے کے لئے آپ رمضان سے  دو ماہ قبل دعاؤں کا سلسلہ شروع فرما دیتے تھے۔ ماہ رمضان کی تیاری رجب سے شروع کر دیتے ۔اسی ماہ رجب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ملاقات کے لئے بلایا اور اس مبارک سفرکو خالق کائنات نے اپنی لاریب کتاب میں بھی بیان فرمایا۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمتیں

علمائے کرام نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمت و رفعت شان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر عیاں ہوتے ہیں۔ اس معراج میں کئی حکمتیں ہیں جن کا ہمیں مکمل علم نہیں۔ ہے۔ معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب زوجہ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی۔ گویا اللہ رب العزت معراج پر بلا کر اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے اگر میں یوں کہوں کہ ساری کائنات رب کائنات کو راضی کرنا چاہتی ہے اور خود رب کائنات اپنے پیارے محبوب کی رضاچاہتا ہے

خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم

خدا چاہتا ہے رضائے محمد ﷺ

آقائے کریم ﷺ کو سارے مراتب طے کروائے گئے۔ حکیمُ الْاُمَّت حضرت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کو علیٰحدہ علیٰحدہ عطا فرمائے گئے وہ تمام بلکہ اُن سے کئی بڑھ کر مُعْجِزَات حُضُورِ پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ علیہ السَّلام کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ کریم سے کَلام کرتے تھے ، حضرتِ عیسیٰ علیہ السَّلام چوتھے آسمان پر بُلائے گئے اور حضرتِ اِدْرِیس علیہ السَّلام جنَّت میں بُلائے گئے حُضُورِانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مِعْراج کرائی گئی ، جس میں اللہ پاک سےکلام بھی ہوا ، آسمان کی سیر بھی ہوئی ، جنَّت و دوزخ کا مُعائنہ بھی ہوا ، غرضیکہ وہ سارے مَرَاتِب ایک ہی سفر مِعْرَاج میں طے کرادئیے گئے۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، ص107ملخصاً)۔ (3)مالکِ کونین نے اپنی سلطنت دیکھی اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے ، اللہ پاک پارہ30 ، سُوْرَۃُ الْکَوثَر کی آیت نمبر1میں اِرشاد فرماتا ہے : (انا اعطینک الکوثر(۱) ) تَرْجَمَۂ کنزُ الایمان : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ حضور مالکِ کونین ﷺ فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔(بخاری ، 2 / 303 ، حدیث : 2977)۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں۔(مسلم ، ص512 ، حدیث : 1037)۔حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی عطا سے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں ، اسی لئے جنَّت کے پتّے پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہر جگہ لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (کریم) کی بنائی ہوئی ہیں اور محمدرسول اللہ کو دی ہوئی ہیں۔ (تو معراج کروانے میں) اللہ رب العزت کی رضا یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے) مالِک کو ان کی ملکیت دِکھا دی جائے۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، ص107 ملخصاً) چنانچہ اس لئے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی۔

وحی کی تمام اقسام کا شرف وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلا واسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، معراج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام اقسامِ وحی سے شرف پائیں ، کُتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ ” امن الرسول ” والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری دو آیات ہیں ، حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلاواسطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃُ الضُّحیٰ اور کچھ سُورَۂ اَلَم نَشْرَح معراج کی رات سُنی۔(روح البیان ، پ25 ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ : 51 ، 8 / 345)۔

حضرت جبریل علیہ السلام کی بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضری

یہ 27ویں رجب المرجب نبوت کا گیارہواں سال ہے۔ مکہ سے نجران کی جانب تقریباً 90 کلو میٹر دور طائف کی وادی میں قبیلہ ثقیف کے سرداروں کی باتیں سماعت نبوت کو خراش رہی تھیں۔ قرن الثعالب پر روح الامین(حضرت جبرائیل علیہ السلام )کی ملاقات اور عرض داشت آپﷺ کی آنکھوں کے دھندلکے دائروں میں گھوم رہی تھی۔ مقصود کائنات کے ملائم و گداز وجود پر طائف کے نوکیلےپتھروں کے نقش ابھی باقی تھے۔ ایک شب حضرت ام ہانی کے دولت کدے پر آپﷺ آرام فرما تھے کہ یہ منظر بھی کس قدر حسین ہوگا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد ﷺ کے قدموں کو بوسہ دیا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پا کر حضور ﷺ بیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں اے جبرائیل! کیسے آنا ہوا؟ عرض کرتے ہیں: یارسول اللہ! ( ﷺ) خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ان الله اشتاق الی لقائک يارسول الله.

”یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے”۔

حضور ﷺ تشریف لے چلئے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ (معراج النبوۃ)

سفر معراج النبی ﷺ کی تیاری

چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری شروع کی۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل کو دھویا۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ چاک کیا۔ سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہوگیا۔ اس قلب کو سینہ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔(بخاری شريف جلد اول صفحة: 568)۔مسلم شریف میں لکھا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سینہ چاک کرنے کے بعد قلب مبارک کو زم زم کے پانی سے دھویا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کردیا۔(مسلم شربف جلد اول صفحة: 92)۔سینہ اقدس کے شق کئے جانے میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ قلب اطہر میں ایسی قوت قدسیہ شامل ہوجائے جس سے آسمانوں پر تشریف لے جانے اور عالم سماوات کا مشاہدہ کرنے بالخصوص دیدار الہٰی کرنے میں کوئی دقت اور دشواری پیش نہ آئے۔ پھر آپ ﷺ کے سر انور پر عمامہ باندھا گیا۔ علامہ کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شب معراج حضرت محمد ﷺ کو جو عمامہ شریف پہنایا گیا وہ عمامہ مبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے سات ہزار سال پہلے کا تیار کیا ہوا تھا۔ چالیس ہزار ملائکہ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اس کے اردگرد کھڑے تھے۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد ﷺ کو نور کی ایک چادر پہنائی ۔ زمرد کی نعلین مبارک پاؤں میں زیب تن فرمائی گئی، یاقوت کا کمر بند باندھاگیا۔(معارج النبوة، صفحة: 601)

بُراق کی سواری

اس کے بعد آپ ﷺ کي بارگاہِ اقدس ميں سواری کے لئے بُراق پيش کيا گيا،پھر سيِّدِ عالَمﷺ بُراق پر سوار ہوئے اور بيت المقدس کي طرف روانہ ہوئے۔دورانِ سفرآپ ﷺ نے تين مقامات پر نماز ادا فرمائی۔مدينہ شريف جس کی طرف آپ ﷺ ہجرت فرمائيں گے۔طُورِ سِيْنا جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ موسي عَلَيْہِ السلام کو ہَم کلامي کا شَرَف عطا فرمايا تھا۔  بَيْتِ لَحْم :میں جہاں حضرتِ عيسي عَلَيْہِ السَّلَام کی وِلادت ہوئی تھی یعنی بيت المقدس آمد ہوئی اورانبيائے کِرَام عَلَيْہِمُ السلام کي امامت فرمائی۔ آپ ﷺ راستے ميں عجائباتِ قدرت کوديکھتے ہوئے اس مقدس شہر ميں تشريف لے آئے جہاں مسجدِ اقصیٰ واقِع ہےاور پھر مسجد اقصیٰ ميں انبيائے کِرَام عَلَيْہِمُ السلام کی امامت فرمائی۔

آسمانوں کی طرف سفر

بيت المقدس کے مُعَامَلات سے فارِغ ہونے کے بعد پيارے پيارے آقا، ميٹھے ميٹھے مصطفےﷺ نے آسمان کي طرف سفر شروع فرمايا۔پہلے آسمان پر حضرتِ آدم عَلَيْہِ السلام سے ملاقات ہوئی۔دوسرے آسمان پر آپ ﷺ کی حضرتِ يحييٰ اور حضرتِ عيسیٰ عَلَيْہِمَا السلام سے ملاقات ہوئی۔تيسرے آسمان پر آپ ﷺ کی حضرتِ یوسف عَلَيْہ السلام سے ملاقات ہوئی۔چوتھے آسمان پر آپ ﷺ کی  حضرتِ اِدْرِيس عَلَيْہ السلام سے ملاقات ہوئی۔پانچويں آسمان پر آپ ﷺ کی حضرتِ ہارون عَلَيْہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ چھٹے آسمان پر آپ ﷺ کي حضرتِ موسیٰ عَلَيْہِمُ السلام سے ملاقات ہوئی۔  ساتويں آسمان پر آپ ﷺ کی حضرتِ ابراہيم خَلِيْلُ اللہ عَلَيْہِمُ السلام سے ملاقات ہوئی۔

سدرۃ المنتہیٰ

ساتویں آسمان پر حضرتِ ابراہیم خَلِیْلُ اللہ علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد سیِّدِ والا تبار، دوعالَم کے تاجدار ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ کے پاس تشریف لائے۔یہ ایک نورانی بیری کا درخت ہے، جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اُوپر ہیں۔

مقامِ مستویٰ

جب پیارے آقا، میٹھے مصطفےٰ ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرتِ جبرائیل علیہ السلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے مَعْذِرَت خواہ ہوئے۔پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستویٰ کہا جاتا ہے۔

عرشِ عُلیٰ سے بھی اُوپر

پھر مستویٰ سے آگے بڑھے تو عرش آیا، آپ ﷺ اس سے بھی اُوپر تشریف لائے اور پھر وہاں پہنچے جہاں خُود ” کہاں” اور ” کب” بھی ختم ہو چکے تھے کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے حُضُورِ انور ﷺ رونق اَفْرَوز ہوئے وہاں جگہ تھی نہ زمانہ۔ اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔یہاں اللہ رَبُّ الْعِزّت عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو وہ قربِ خاص عطا فرمایا کہ جو نہ پہلے کسی کو مِلا اور نہ  کبھی ملے ۔گا ۔

دیدارِ الٰہی اور ہَم کَلامی کا شَرَف

آپﷺ نے بیداری کی حالت میں سر کی آنکھوں سے اپنے پیارے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کا دیدار کیا کہ پَردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فِرِشتہ تھا نہ کوئی اِنسان، اور بےواسطہ کلام کا شَرَف بھی حاصِل کیا۔

پچاس سے پانچ نمازیں

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب ﷺ کو ہر دِن رات 50 نمازوں کا تحفہ (بھی) عَطا فرمایا۔ پھر اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور پھر دوبار رب کی بارگاہ میں جانا اور نمازوں کا 50 سے 5 ہوجانے کا واقعہ پیش آیا۔

جنت کی سیر اور جہنّم کا معائنہ

پھر آپ ﷺکو جنت میں لایا گیا اور آپ نے جنت کی سیر فرمائی اور اس میں وہ نعمتیں دیکھیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دِل میں اس کا خَیَال گزرا، جنت کی سیر کے بعد آپ ﷺکو جہنّم کا معائنہ کرایا گیا، وہ اس طرح کہ آپﷺجنت میں ہی موجود تھے اور جہنّم پر سے پَردہ ہٹا دیا گیا جس سے آپ ﷺنے اُسے مُلاحظہ فرما لیا۔

واپسی کا سفر

اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت ہے کہ اس نے رات کے مختصر سے حصے میں اپنے پیارے محبوب علیہ السلام کو بیت المقدس اور پھر ساتوں آسمانوں نیز عرش وکرسی سے بھی اُوپر لامکاں کی سیر کرائی، بعض نادان جو ہر بات کو عقل کے ترازو پر تولنے کے عادِی ہوتے ہیں ایسے مُعَاملات میں بھی اپنی ناقص عقل کو دخل دیتے ہیں۔یاد رکھئے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادِر ہے۔ یہ زمین وآسمان، یہ پہاڑ وسمندر، یہ چاند وسورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اُسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے، عقل اس کا اِحَاطہ کرنے سے قاصِر ہے۔

صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ کی تصدیق

جب سرکارِ ﷺ نے لوگوں کو واقعہ مِعْرَاج کی خبر دی تو عقل پرست کُفّار ومُشْرِکین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ کوئی شخص رات کے مختصر سے حصّے میں بیت المقدس کی سیر کیسے کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اُنہوں نے آپ ﷺکی تکذیب کی آپ ﷺ کے سفرِ مِعْرَاج کا اِعْلان فرمانے پر بعض لوگ دوڑتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں جو آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)نے کہی، تو بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کے فوراً پیارے آقا ﷺ کی تصدیق کر دی، اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ صِدِّیق مشہور ہو گئے۔

حضور ﷺ نے براق کا حلیہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: سینہ سرخ یاقوت کی مانند چمک رہا تھا، اس کی پشت پر بجلی کوندتی تھی، ٹانگیں سبز زمرد، دُم مرجان، سر اور اس کی گردن یاقوت سے بنائی گئی تھی۔ بہشتی زین اس پر کسی ہوئی تھی جس کے ساتھ سرخ یاقوت کے دو رکاب آویزاں تھے۔ اس کی پیشانی پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔

چند لمحوں کے بعد وہ وقت بھی آگیا کہ سرور کونین حضرت محمد ﷺ براق پر تشریف فرما ہوگئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رکاب تھام لی۔ حضرت میکائیل علیہ السلام نے لگام پکڑی۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے زین کو سنبھالا۔ حضرت امام کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات اسی ہزار فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف اور اسی ہزار بائیں طرف تھے۔(معارج النبوة، ص606)

فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:

”وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں”۔(بنی اسرائيل،17: 1)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت شان و شوکت سے ملائکہ کے جلوس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ گھڑی کس قدر دلنواز تھی کہ جب مکاں سے لامکاں تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا، سواری بھی نور تو سوار بھی نور، باراتی بھی نور تو دولہا بھی نور، میزبان بھی نور تو مہمان بھی نور، نوریوں کی یہ نوری بارات فلک بوس پہاڑیوں، بے آب و گیاہ ریگستانوں، گھنے جنگلوں، چٹیل میدانوں، سرسبز و شاداب وادیوں، پرخطر ویرانوں پر سے سفر کرتی ہوئی وادی بطحا میں پہنچی جہاں کھجور کے بیشمار درخت ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ حضور یہاں اتر کر دو رکعت نفل ادا کیجئے یہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ ہے۔ نفل کی ادائیگی کے بعد پھر سفر شروع ہوتا ہے۔ راستے میں ایک سرخ ٹیلا آتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیت المقدس بھی آگیا جہاں قدسیوں کا جم غفیر سلامی کے لئے موجود ہے۔ حوروغلماں خوش آمدید کہنے کے لئے اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین استقبال کے لئے بے چین و بے قرار کھڑے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر تشریف فرما ہوئے جسے باب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا جاتا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام ایک پتھر کے پاس آئے جو اس جگہ موجود تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس پتھر میں اپنی انگلی مار کر اس میں سوراخ کردیا اور براق کو اس میں باندھ دیا۔(تفسير ابن کثير جلد3، ص7)

آفتاب نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں۔ صحن حرم سے فلک تک نور ہی نور چھایا ہوا ہے۔ ستارے ماند پڑچکے ہیں، قدسی سلامی دے رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اذان دے رہے ہیں، تمام انبیاء و رسل صف در صف کھڑے ہورہے ہیں۔ جب صفیں بن چکیں تو امام الانبیاء فخر دوجہاں حضرت محمد ﷺ امامت فرمانے تشریف لاتے ہیں۔ تمام انبیاء و رسل امام الانبیاء کی اقتداء میں دو رکعت نماز ادا کرکے اپنی نیاز مندی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملائکہ اور انبیاء کرام سب کے سب سرتسلیم خم کئے ہوئے کھڑے ہیں۔ بیت المقدس نے آج تک ایسا دلنواز منظر اور روح پرور سماں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو عظمت و رفعت کے پرچم پھر بلند ہونے شروع ہوتے ہیں۔ درود و سلام سے فضا ایک مرتبہ پھر گونج اٹھتی ہے۔ سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری مخلوق کے جھرمٹ میں آسمان کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ثم عرج بی پھر مجھے اوپر لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں نگاہ کی انتہاء ہوتی وہاں براق پہلا قدم رکھتا۔ فوراً ہی پہلا آسمان آگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا جبرائیل! دربان نے پوچھا، من معک تمہارے ساتھ کون ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! دربان نے کہا: مرحبا دروازے انہی کے لئے کھولے جائیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ دوسرے آسمان پر پہنچے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام نے، چوتھے آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام نے، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس کے بعد پھر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہٰی تک پہنچے۔ سدرہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کے علوم کی انتہاء ہے۔ فرشتوں نے اذن طلب کیا کہ اے اللہ تیرے محبوب تشریف لارہے ہیں، ان کے دیدار کی ہمیں اجازت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام فرشتے سدرۃ المنتہٰی پر جمع ہوجائیں اور جب میرے محبوب کی سواری آئے تو سب زیارت کرلیں۔ چنانچہ ملائکہ سدرہ پر جمع ہوگئے اور جمال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے لئے سدرہ کو ڈھانک لیا۔(درمنشور، جلد6، ص126)۔

اس مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور عرض کرنے لگے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب کے لئے ایک جگہ مقرر ہے۔ اب اگر میں ایک بال بھی آگے بڑھوں گا تو اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات میرے پروں کو جلا کر رکھ دیں گے۔ یہ میرے مقام کی انتہاء ہے۔ سبحان اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت و عظمت کا اندازہ لگایئے کہ جہاں شہباز سدرہ کے بازو تھک جائیں اور روح الامین کی حد ختم ہوجائے وہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرواز شروع ہوتی ہے۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، اے جبرائیل کوئی حاجت ہو تو بتاؤ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  یہ مانگتا ہوں کہ قیامت کے دن پل صراط پر آپ کی امت کے لئے بازو پھیلاسکوں تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک غلام آسانی کے ساتھ پل صراط سے گزر جائے۔(روح البيان، جلد خامس، صفحة: 221)۔

حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبرائیل امین کو چھوڑ کر تنہا انوار و تجلیات کی منازل طے کرتے گئے۔ مواہب الدنیہ میں لکھا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرش کے قریب پہنچے تو آگے حجابات ہی حجابات تھے تمام پردے اٹھا دیئے گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید اس طرح بیان فرماتا ہے: فَاسْتَوٰیo وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعَلٰیo (النجم: 6، 7)۔ ”پھر اُس (جلوہِ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا۔ اور وہ (محمد ﷺ شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)”۔ (عرفان القرآن)۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سرور دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج آسمان بریں کے بلند کناروں پر پہنچے تو تجلی الہٰی متوجہ نمائش ہوئی۔ صاحب تفسیر روح البیان نے فرمایا کہ فاستوی کے معنی یہ ہیں کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افق اعلیٰ یعنی آسمانوں کے اوپر جلوہ فرمایا۔

پھر وہ مبارک گھڑی بھی آگئی کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حریم الہٰی میں پہنچے اور اپنے سر کی آنکھوں سے عین عالم بیداری میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی۔ قرآن مجید محبوب و محب کی اس ملاقات کا منظر ان دلکش الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰیo(النجم:8، 9)۔”پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)”۔(عرفان القرآن)۔ صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اپنے قرب سے نوازا۔ (روح البیان)۔ جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارگاہ الہٰی میں پہنچے تو ارشاد فرمایا:فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِهِ مَآ اَوْحٰی.(النجم: 10)۔”پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی”۔(عرفان القرآن)۔

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے محبوب کو ارشاد فرمائی درمیان میں کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پھر رازو نیاز کی گفتگو ہوئی۔ اسرار و رموز سے آگاہی فرمائی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اس گفتگو کا علم اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی.النجم: 11۔(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا”۔اس آیت مبارکہ میں حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے قلب انور کی عظمت کا بیان ہے کہ شب معراج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں نے انوار و تجلیات اور برکات الہٰی دیکھے حتی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار پر انوار سے مشرف ہوئے تو آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی یعنی آنکھ سے دیکھا اور دل نے گواہی دی اور اس دیکھنے میں شک و تردد اور وہم نے راہ نہ پائی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے محبوب کی آنکھوں کا ذکر فرماتا ہے:

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی.(النجم:17)۔ ”اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)”۔

اس آیت کریمہ میں حضور ﷺ کی مقدس آنکھوں کا ذکر ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  شب معراج کی رات اس مقام پر پہنچے جہاں سب کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  دیدار الہٰی سے مشرف ہوئے تو اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں بائیں کہیں بھی نہیں دیکھا۔ نہ آپ کی آنکھیں بہکیں بلکہ خالق کائنات کے جلوؤں میں گم تھی۔ واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مزید ارشاد فرماتا ہے:

لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰ يٰتِ رَبِّهِ الْکُبْرٰی.(النجم: 18)۔”بے شک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں”۔

اس آیت مقدسہ میں بتایا گیا ہے کہ معراج کی رات حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مقدس آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں ملک و ملکوت کے عجائب کو ملاحظہ فرمایا اور تمام معلومات غیبیہ کا آپ کو علم حاصل ہوگیا۔(روح البيان)۔

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رايت ربی فی احسن صورة فوضع کفه بين کتفی فوجدت بردها…

”میں نے اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا پھر اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ید قدرت رکھا اس سے میں نے اپنے سینہ میں ٹھنڈک پائی اور زمین و آسمان کی ہر چیز کو جان لیا”۔(مشکوٰة شريف صفحة: 28)۔ایک موقع پر مزید ارشاد نبوی ﷺ ہوتا ہے:رايت ربی بعينی وقلبی۔”میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اور اپنے دل سے دیکھا”۔(مسلم شريف)۔ دیدار الہٰی کا ذکر ایک اور حدیث میں اس طرح فرمایا: فخاطبنی ربی ورايتة بعينی بصری فاوحی.

”میرے رب نے مجھ سے کلام فرمایا اور میں نے اپنے پروردگار کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے میری طرف وحی فرمائی”۔(صاوی صفحة: 328)

حضور صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شب معراج حضور صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل، موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار کا اعزاز بخشا۔ حضرت امام احمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قائل ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔

فخر دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔ پہلا سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں۔ جن میں اسلامی عقائد ایمان کی تکمیل اور مصیبتوں کے ختم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دوسر اتحفہ یہ دیا گیا کہ امت محمدیہ ﷺ) میں جو شرک نہ کرے گا وہ ضرور بخشا جائے گا۔ تیسرا تحفہ یہ کہ امت پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں انعامات و تحائف کو لے کر اور جلوہ الہیٰ سے سرفراز ہوکر عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، عجائب و غرائب، اسرار و رموز کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جب پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا، کیا عطا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر پچاس نمازوں کی فرضیت کا ذکر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) پر خوب تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت یہ بار نہ اٹھاسکے گی۔ آپ واپس جایئے اور نماز میں کمی کرایئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تشریف لے گئے اور دس نمازیں کم کرالیں۔ پھر ملاقات ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام نے پھر کم کرانے کے لئے کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بارگاہ الہٰی میں پہنچے دس نمازیں کم کرالیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشوروں سے بار بار مہمان عرش نے بارگاہ رب العرش میں نماز میں کمی کی التجا کی کم ہوتے ہوتے پانچ وقت کی نماز رہ گئی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا”۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے اور رات کی تاریکی میں مکہ معظمہ واپس تشریف لائے۔(تفسير ابن کثير، جلد سوئم صفحه: 32)۔سفر معراج میں رب کاٸنات نے کاٸنات کو دیدار مصطفی ﷺ عطا ٕ کر کے کاٸنات کو معراج بخشی۔ضرورت اس امر کی  ہے تحفہ معراج کی قدر کریں۔

(اس مضمون میں اگر کہیں بھی کوٸی غلطی یا کوتاہی ہو گٸی ہو تواس کی نشاندہی کی جائے۔ میں رب کاٸنات کے حضور معافی کا طلب گار ہوں)

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact