Friday, May 24
Shadow

انجانی راہوں کی تلاش کا سفر جاری رہے گا:  تحریر کومل یاسین

کتاب: انجانی راہوں کا مسافر

صنف : سفر نامہ
مصنف : امانت علی
پبلشر: پریس فار پیس فاؤنڈیشن یو کے

صفحات : 132

قیمت  : چھ سو روپے ( پاکستان)۔ پانچ پاؤنڈ ( بیرون پاکستان)

کتاب کے لیے رابطہ :  

www.pressforpeace.org.uk

info@pressforpeace.org.uk
مبصرہ : کومل یاسین


کتاب انجانی راہوں کا مسافر  ہاتھ میں تھامتے ہی کتاب کی بہترین کوالٹی اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن  کی ادارتی ٹیم کی  کتاب سے کی گئی محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔  کتاب میں تصاویر دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس کا سہرا بھی پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے سر جاتا ہے کہ پریس  فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شائع  ہونے والی کتابوں  میں تصویروں اور  آرٹسٹ  کے  ہاتھ سے ہونے والی تزئین و آرائش  سے  کتابوں کو نئی جدت دی گئی ہے ۔
کتاب کا انتساب ایک بیٹے کی اپنے والد محترم سے محبت کا ثبوت دے رہا  ہے ۔ مصنف کا تعارف پروفیسر ظفر اقبال نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا۔ قائم علی شاہ صاحب کی خوبصورت دعا اور تحریر نے کتاب شروع ہوتے ہی دل موہ لیا۔ پیش لفظ میں مصنف کی جانب سے  لکھا گیا ایک ایک لفظ انسان کو اپنے حصار میں مقید کر رہا تھا
“انجانی راہوں کا مسافر  ” سفرنامہ کا آغاز  مصنف نے ترکی کے مطلق چیدہ چیدہ معلومات سے کیا اور پھر  ترکی کے سفر کی جدو جہد کی روادت قارئین کی نظر کر دی ۔   اس یادگار سفر کا  آغاز 8 اگست سے شروع ہو کر 15 اگست کو اختتام پذیر ہوا۔
 مصنف نے ترکی روانگی سے لے کر ترکی پہنچنے تک کی روداد  میں ایک تیر سے دو نشانے لگائے ایک تو سفر نامے کا  پیس منظر  بیان کرکے خوبصورت آغاز کیا دوسرا ترکی کے سفر کو جانے والے سیاحوں کو گائیڈ لائن بھی مہیا کر دی۔ پاکستان سے جس نے ترکی اور کینیا کی طرف سیر کا پروگرام بنانا ہے یا جا رہے ہیں وہ انجانی راہوں کا مسافر ضرور مطالعہ کریں تاکہ آپ کو  مناسب رہنمائی مل  سکے۔


“مصنف کی ایک اور خوبی ” جو سفر نامہ لکھنے والے منجھے ہوئے مصنفوں میں پائی جاتی ہے کہ کسی بھی سفر نامہ کو لفظوں کے جال میں پرونے سے پہلے متعلقہ ملک یا شہر کی تاریخ کو کھول کر قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں ۔   مصنف نے  بھی بڑی خوبصورتی اور دلکشی سے دونوں ممالک کی تاریخ کو قارئین کے سامنے  پیش کیا ۔ مصنف  نے ترکی اور عثمانی سلطنت کے زوال اور عروج کو ایک بہاؤ میں قارئین کے سامنے رکھ دیا۔
ترکی کے مشہور مقامات جن میں نیلی مسجد استنبول ٬ آیا صوفیہ توپی محل٬ جہاں اسلامی تبرکات اور نوادرات تھے مصنف نے ان تینوں مقامات کے بارے معلومات فراہم کی ۔
اس کے بعد مصنف نے  اپنے اگلے پڑاؤ  قونیہ سے استنبول کی جانب قلم کا رخ موڑا اور جلال الدین رومی اور انکے شہر کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے درویش جلال الدین رومی کے مزار پر  حاضری  اور مزار کی معلومات کو زیر قلم لا کر  اختتام دیا۔
مصنف نے فیری لینڈ کی سیر میں وہاں کی پولیس کی اپنی نوکری کے ساتھ دیانت داری اور عوام کی مدد کو یقینی بنانے کا بھی تذکرہ کیا ۔ کروزڈنر  کی یادگار شام پڑھ کر مجھے امید ہے میری طرح باقی قارئین بھی زندگی میں ایک بار کروزڈنر  کی خواہش ضرور کریں گے۔ دلچسپ اور خطرناک خاکوں کا احوال بہت دلچسپ تھا۔
مصنف کی حب الوطنی  کو سلام جنھوں نے  خوبصورت ملکوں کی سیر کے درمیان بھی اپنے ملک کا ذکر تقریباً ہر مقام  پر کیا  اور اس حسرت کا اظہار کیا ہے کہ ہمارے ملک  میں بھی سیاحت کا  انفراسٹرکچر ایسے ترقی کرے کہ یہ بھی  غیر ملکی سیاحوں کی جنت بن جائے۔
نمرہ احمد کے ناول “جنت کے پتے ” سے میرے دل میں  تقسیم اسکوائر اور استقلال سٹریٹ  اور وہاں کے ریسٹورنٹس کے بارے اشتیاق پیدا ہوا تھا کہ واقعی یہ جگہیں دنیا میں ہیں یا نہیں مگر مصنف امانت علی نے استقلال سٹریٹ اور تقسیم اسکوائر کی جو تاریخ پیش کی بہت ہی لاجواب تھی  گویا سارا منظر نگاہوں میں سما گیا ہو۔
 مصنف نے مزار حضرت ایوب  انصاری اور  گرینڈ بازار ترکی کی معلومات کا بھی  احاطہ کیا جو کافی معلوماتی تھا ۔
مصنف کا ترکی میں آخری پڑاؤ  “آیا صوفیہ” عجائب گھر تھا۔ جس کی معلومات ہم تک پہنچانے کے بعد مصنف نے  پاکستان واپسی کی مختصر روداد  لکھ کر ترکی کے سفرنامے کو انجام تک پہنچایا ۔
مصنف کا دوسرا پڑاؤ پاکستان سے کینیا کا ہے جو 28 اگست سے شروع ہو کر 13 ستمبر کو اختتام پذیر ہوا ۔  مصنف نے یہاں بھی کینیا کے تعارف سے سفر نامے کا آغاز کیا ۔
مصنف کی فلائیٹ نے  کینیا جانے کے لئیے جن ہوائی اڈوں سے پرواز کی انکطے بارے بھی سفر نامے میں لکھا گیا جو کہیں بھی سفر پر جانے والوں کے تجسس کو نمایاں کر رہا تھا۔
مصنف نے کینیا کے دارلحکومت نیروبی شہر کی خصوصیات تاریخ ٬ ہوٹل کھانے پینے کا مینیو٬  ممبران کی زممبران کی زمہ  داریوں اور سیر و تفریح پروگرام وغیرہ کو تفصیل سے بیان کیا ۔کہیں کہیں مزاح کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔
اوور پارک نیروبی سے باقاعدہ کینیا کے سفرنامے کا آغاز کیا گیا جہاں مصنف کشتی رانی کی حیسن تجربے سے سفرنامے میں خوشگواریت کے عنصر کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ۔
 میں کینیا سفرنامے کی جان سفاری پارک جنگل کی سیر کو  سمجھتی ہوں جہاں مصنف نے اپنے سفر نامے میں منظر کشی کے فن کا مظاہرہ کیا۔ جو  میری نظر میں تصویر اور مصنف کی منظر نگاری کی وجہ سے کتاب کا روح رواں ثابت ہوا ہے ۔
مصنف نے  نیروبی میں مسلمانوں کے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی جد وجہد اور نوجوان نسل کی بے راہ روی جیسے سنگین معاملات کو بھی اجاگر کیا جو مصنف کے محب وطن ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی فلاح کے خواہاں ہونے کا ثبوت دیتی ہے مصنف نے مزید تفریحی گاہوں بوماس آف کینیا ٬ لوگاوں کی سیر  اندرون شہر کی سیر کی تفصیل بیان کی ۔
مصنف نے ترکی کی پولیس کے واقعے کی طرح کینیا میں کرنسی تبدیل کرانے کا انوکھا واقعہ بھی ہم تک پہنچایا جو قاری کی کتاب اور سفر سے دلچسپی کو برقرار رکھتاہے۔  
مصنف نے  نیروبی شہر کے اندرون بیرون اور مسائی بازار کی مجموعی تفصیل بھی سفرنامے میں شامل کیا ۔ کتاب کے آخر میں مصنف نے نیروبی میں آخری دن کو قلم بند کرتے ہوئے نیروبی اڈے سے دوحہ ہوائی اڈے ٬ امیر حماد بین الاقوامی ہوائی اڈہ قطر  کے پڑاؤ کو بھی سفر نامے میں شامل کرتے ہوئے  اختتام کو جاندار کر دیا ۔
آخر میں ایک کمی جس کا شدت سے احساس ہوا وہ تھی “منظر کشی ”  مگر اسے  پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے  ضروری تصویر یں  ، نقشے اور خاکے لگا کر  کسی حد تک منظر نگاری کا رنگ بھرا ہے۔  مجھے امید ہے  سفر نگار کا  انجانی راہوں کی تلاش کا سفر جاری رہے گا اور ان کی آنے والی تصانیف میں منظر نگاری مزید جلوہ گر ہو گی۔
_________________________

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact