Sunday, May 26
Shadow

بہاول پور میں اجنبی | پروفیسر خالدہ پروین کی نظر میں

کتاب کا نام ۔۔۔۔۔ بہاولپور میں اجنبی
مصنف  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مظہر اقبال مظہر
مبصرہ ۔۔۔۔۔۔۔خالدہ پروین
مصنف کا تعارف
راولاکوٹ (آزاد کشمیر) کے علاقہ تراڑ سے تعلق رکھنے والے مظہر اقبال مظہر (پروفیسر) برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ میں ہی بزنس سٹڈیز کے شعبے میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔

                  “بہاولپور میں اجنبی”
کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے کا تعلق بہاولپور میں امتحانی مقصد کے تحت مختصر قیام سے ہے جبکہ دوسرے حصے میں دو افسانے:
1: دل مندر
2: ایک بُوند پانی
شامل ہیں۔
عنوان
کتاب کے عنوان سے قاری کا ذہن ایک اجنبی کی حیثیت سے بہاولپور میں مصنف کی مشکلات کا تصور کرتا ہے جبکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سرِ ورق
بہاولپور کے نمائندہ تہذیبی و ثقافتی  مراکز اور طبعی و جغرافیائی خدو خال کا عکاس دیدہ زیب  سرِورق قاری کی توجہ مبذول کرانے کا باعث ہے ۔
انتساب
منفرد انتساب جس میں مادرِ حقیقی اور مادرِ علمی سے محبت کا انداز متاثر کن ہے ۔
سب سے پہلے ماں  کی محبت ، ریاضت اور تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعاؤں کے ساتھ ماں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ۔
اس کے بعد مادر علمی جامعہ اسلامیہ بہاولپور سے محبت وعقیدت کا اظہار کرتے ہوئے اس سایہ دار شجر کی سلامتی کی دعا کی گئی ہے ۔
پہلا حصہ
بہاولپور سے وابستہ تاثرات

مصنف نے کتاب کا آغاز اپنی بہاولپور ریلوے اسٹیشن پر آمد ،ریلوے سٹیشن کے ماحول کی منظر نگاری ، “فندق الکوثر” ہوٹل میں آمد اور اس سے متعلقہ تاثرات کے اظہار سے کرتے ہوئے اپنی سوچ وفکر اور تصورات کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے ۔
مزید بہاولپور شہر دیکھنے کے متعلق اپنی سوچ اور تجربات کا بیان کرتے ہوئے باقی جامعات کے مقابلے میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی طرف کشمیری طلبا کے رجحان کو خوب صورتی سے احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے ۔
بہاولپور شہر کی سیر اور معلومات کا ذکر شہر میں میں فرید گیٹ کی مرکزیت کو خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔اندورونِ بہاولپور کے بازاروں ، وکٹوریہ ہسپتال اور زنانہ ہسپتال (کسی زمانے میں موجود) کے راستوں کے گول ہونے کے منظر کا دلچسپ پیرائے میں بیان لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے ۔
بہاولپور اور لاہور میں تانگوں کی اہمیت ، تانگہ بانوں کے مزاج ، زبان اور مغلظات کا اشاروں وکنایوں میں تذکرہ اور مغلظات کی اقسام اور ان کے بیان کا مہذب اور معلوماتی انداز قابلِ ستائش ہے ۔
بہاولپور کی سرائیکی زبان کی تاریخ اور سرائیکی علاقوں کا بیان معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپی سے بھرپور بھی ہے ۔
صادق ریڈنگ لائبریری کی وجہ تسمیہ معلوماتی اور مقامی لوگوں کی غلط فہمی ان کے بھول پن کو ظاہر کرتی ہے جب کہ میوزیم کا ذکر اور مصنف کا تنقیدی ،تجزیاتی اور تبصرے کا انداز دل خوش کر دیتا ہے ۔
جامع مسجد الصادق کی تاریخی و ثقافتی اہمیت ،طرزِ تعمیر ، عمارت کی تفصیلات ،نمازیوں کی گنجائش ، مسجد کی معاشی خود کفالت کا بیان متاثر کن اور مرعوب کن ہے ۔
فوارہ چوک کا مختلف فوارہ چوکوں سے موازنہ اور اس متعلقہ دل چسپ رومانوی داستانیں کسی اور دنیا کی سیر کروا دیتی ہیں ۔
وکٹوریہ ہسپتال ، قائدِ اعظم میڈیکل کالج اور گلیوں چوباروں کے ذکر کے ساتھ ساتھ کشمیری ناک (ناکھ ، ناخ ) سے پیدا ہونے والی غلط فہمی ،اس کی حقیقت اور اسی نسبت سے اپنے بچپن کے واقعات کا فطری اور دلچسپ بیان ، نئی برگر پیپسی پینے والی نسل سے موازنہ ،سرائیکی انداز گفتگو ، سرائیکی اور کشمیری ثقافت اور نسل کا موازنہ سوچ وفکر کو نیا رخ عطا کرتا ہے ۔
بہاولپور میں عباسی خاندان کے افراد کا آباد ہونا ،  مسلم تہذیب و ثقافت کا فروغ ،علمی ترقی ، نواب صادق کے کارناموں کا بیان ، بہاولپور کے تہذیبی ورثہ ، صوفیانہ رنگ اور شںاخت کے مسئلے کا بیان دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔
کتاب کے اختتام پر تاریخی اور اہم مقامات کی تصاویر قابلِ تعریف ہیں ۔
مجموعی طور پر تاریخی ،تہذیبی اور معاشرتی معلومات سے بھرپور قیام نامہ مع سفر نامہ جس کی انفرادیت اس کا خوب صورت ادبی اسلوبِ بیان ہے۔ مصنف کا تشبیہاتی انداز ، مختلف نکات کی شان دار فلاسفی ، معلومات کی فراہمی ، لفظی ہیر پھیر ، محاورات کا استعمال ، مصنف کی بے لاگ رائے کی خوب صورتی ، تبصرے و مشورے کا انداز اور بھرپور تخیل قابلِ تعریف ہے ۔
مصنف کا ہمدردانہ ، ہلکا پھلکا اور بات چیت کا انداز دستاویزی معلومات کو دلچسپ بنانے کا باعث ہے ۔
کتاب  موصول ہونے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر مطالعے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا لیکن کتاب پڑھنے کے بعد افسوس ہوا کہ “تاخیر کیوں ہوئی،کتاب اس قابل ہے کہ اسے فوراً پڑھنا چاہیے تھا “۔
اس قدر خوب صورت اسلوبِ بیان کی حامل عمدہ تخلیقی کاوش کے لیے مصنف مظہر اقبال مظہر صاحب داد کے مستحق ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہوئے مزید کامیابیاں اور عروج عطا فرمائے ۔
دوسرا حصہ

افسانہ#1 ۔۔۔۔۔۔دل مندر
بخت بی بی اور بُوبے (ماں اوربیٹے) کی کہانی جو دل کے مندر میں کسی کو بسائے دنیا جہان سے بے نیاز ہو گئے تھے ۔ جوان بیٹے کے اچانک غائب ہو جانے پر ماں اس کی تلاش میں بستی بستی پھرتی ہے لیکن کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ایک دن ایک لڑکے کی زبان سے ایک بستی میں بیٹے کی موجودگی کا پتا چلنے پر جب وہاں پہنچتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ ساری رات سڑک کے کنارے انتظار کرنے کے بعد صبح  پیغام  ملنے پر کہ “یا دریا(خشک ہو چکا) میں چھلانگ لگا دے یا کسی مزار پر چلہ کاٹ” وہ اس بستی سے چلا گیا تھا ۔ اس کے بعد ماں مختلف مزاروں پر بیٹے کی تلاش شروع کر دیتی ہے بالآخر ایک ویران اور بوسیدہ عمارت کے حامل مزار پر اسے بیٹا مل جاتا ہے ۔منت سماجت اور ہر دباؤ کے باوجود وہ گھر واپسی کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ماں بیٹے کے تیاگی پن کے راز کو سمجھتے ہوئے مطلوبہ مقام پر پہنچتی ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ سَسّی کی شادی ہو چکی ہے ۔ غم و الم میں ڈوبی جب وہ بیٹے کے پاس پہنچتی ہے تو اس کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن مرتے ہو ئے ماں کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات بیٹے پرحقیقت واضح کر دیتے ہیں ۔ اختتامی منظر میں پرانے مزار کے احاطے میں مائی بخت بی بی کی قبر اور مزار تک جاتی ہوئی پختہ سڑک ، مزار کا مرجع خلائق ہونا اور سفید داڑھی والے بوڑھے مجاور کی موجودگی سوچ وفکر کے در وا کر دیتی ہے ۔
ایک دل سوز افسانہ جس میں ماں اور بیٹے کے دلوں کے مندر دکھائے گئے ہیں ۔ بیٹا اس مندر کو کوشش سے آباد رکھنے کے بجائے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے جب کہ ماں دل مندر کی آباد کاری کے لیے کوشش اور محنت کے ساتھ ہر تکلیف سے گزرنے کے بعد حقیقت تک رسائی حاصل کر لیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کے دل کے مندر میں موجود اعلیٰ درجے کی محبت کی بنا پر اس کا مزار مرجع خلائق بن جاتا ہے ، ویرانہ آباد ہو جاتا ہے جب کہ بیٹے کے دل کا مندر وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا یہی وجہ ہے کہ وہ تمام عمر مجاور ہی رہتا ہے ۔
افسانے کی کردار نگاری شان دار ہے ۔تینوں نمایاں کردار اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں ۔ماں بخت بی بی کا کردار متاثر کن کردار ہے جو محبت ، تڑپ ،تپسیا کی علامت ہے ۔ بیٹے بُوبے (محبوب الٰہی) کا کردار ذمہ داری سے فرار ،بے بسی اور خود غرضی کی علامت ہے ۔ سَسّی کا باپ روایتی مجبور لیکن ایک سمجھدار اور ہمدرد کردار کے طور پر سامنے آتا ہے ۔
افسانے کی منظر نگاری اور اس کی جزیات سحر انگیز کیفیت طاری کر دیتی ہیں ۔ماں کا بیٹے کی تلاش میں مارے مارے پھرنے کا منظر ہو یا ممتا کی تڑپ کا اظہار ، صحرائی راستے کی منظر نگاری ہو یا مزار کی بوسیدگی کا بیان ، پانی کے مٹکوں کا ذکر ہو یا قبر پر موجود چادر کی منظر کشی ، ماں کے مرنے اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات کا بیان ہو یا بوبے کے گریبان چاک کرنے کی داستان سب نگاہوں کے سامنے فلم کی طرح چلتے دکھائی دیتے ہیں ۔
افسانے کی زبان ، مکالمہ نگاری اور ماں کے عمیق مشاہدے کا بیان قابلِ داد ہے۔
افسانے کے اختتام پر مائی بخت بی بی کے مزار ، پکی سڑک اور بوڑھے مجاور کے ذریعے بہت خوب صورت پیغام دیا گیا ہے کہ :
ہر دل ایک مندر ہے لیکن مندر میں موجود مورتی سے محبت کا معیار مختلف ہوتا ہے ۔محبت کے معیار کا یہ اختلاف ہی مندر کی قدرو قیمت کا تعین کرتا ہے ۔
معیاری ،خوب صورت ، عمدہ اور دل سوز تخلیقی کاوش کے لیے مصنف داد و تحسین کا حق دار ہے ۔
         افسانہ #2۔۔۔۔۔۔ ایک بُوند پانی
صحرائے تھر پر دستاویزی انداز اور بیانیہ اسلوب کی حامل خوب صورت اور متاثر کن تحریر۔
مصنف نے بڑی عمدگی سے اپنے سروے پراجیکٹ کے تحت صحرائے تھر میں موجود چھاچھرو  گاؤں تک رسائی ، راستے کی مشکلات ، گرمی کی شدت ، گوٹھ کی صورت میں چھوٹی چھوٹی بستیوں کی موجودگی ، مقامی لوگوں کا رہن سہن اور لباس ، مقامی لوگوں کی غربت اور خستہ حالی کی منظر کشی ،  پانی کے کنوؤں کے سوکھنے کا منظر ، مقامی ذریعہ آمد و رفت کیکڑے (مخصوص ٹرک)کا تذکرہ اور اونٹ کے ساتھ موازنہ ، پانی کی قلت کا مسئلہ ، منجو کے کردار کے ذریعے غربت ،خوراک اور پانی کی قلت ، پانی کے حصول کے لیے اٹھائی جانے والی مشقت کو بہت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے ۔
تمام معلومات کے لیے کی جانے والی منظر کشی قابلِ تعریف ہے ۔
کہانی کے اختتام پر منجو اور بستی کے نو بچوں کی گندا پانی پینے سے ہونے والی اموات کا تذکرہ دل دہلا دینے کا باعث ہے ۔
ملک میں موجود ایک علاقے کے تاریک اور تلخ حقائق کا عمدہ ںیان نا صرف قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے بلکہ موجود نعمتوں کے لیے شکر گزاری کا انداز اختیار کرنے کی ترغیب بھی اپنے اندر رکھتا ہے ۔
زبان اور اسلوبِ بیان متاثر کن ہے ۔
اللہ تعالیٰ مصنف کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہوئے مزید عروج اور کامیابیاں عطا فرمائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact