Sunday, May 26
Shadow

انجانی راہوں کا مسافر  کے بارے میں خالدہ پروین کے تاثرات

مبصرہ ۔۔۔خالدہ پروین

کتاب : انجانی راہوں کا مسافر 

مصنف: امانت علی
مصنف کا تعارف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر موجود چکوٹھی (مظفرآباد) کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے امانت علی صاحب ایک استاد (المجمعہ یونیورسٹی ریاض سعودی عرب) ،تربیت کار اور کالم نگار ہیں ۔اخبارات و جرائد میں بچوں کی تربیت ،معاشرے میں شعور و آگہی ،تعلیم کے فروغ اور دیگر سماجی اور علمی موضوعات پر تحریر کرتے ہیں ۔سیرو تفریح ان کا مشغلہ ہے۔
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا عنوان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان  “انجانی راہوں کا مسافر” اپنے اندر تجسّس اور وسعت سموئے ہوئے ہے ۔
 سرِورق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا دیدہ زیب سرِورق جس میں موجود تاریخی عمارات ،قدیم تہذیب کی علامات ، سرشاری و سرمستی کا پیکر عکس اور سفر سے متعلقہ لوازمات دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہوئے مطالعہ کی تحریک فراہم کرتے ہیں ۔
انتساب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
والد کے نام خوب صورت انتساب مصنف کی اپنے والد صاحب سے فطری محبت اور سفر اور سفر نامہ کی ترغیب کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
(کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔پہلا حصہ ترکی کے سفر کے متعلق ہے جب کہ دوسرے حصے میں کینیا (افریقہ)کے سفر کا ذکر ہے ۔)
        ترکی کا سفرنامہ
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف نے بڑی عمدگی سے سفر کے آغاز سے قبل اپنے شوق اور جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے قاسم علی شاہ کی ہم راہی میں سفر کو اپنے لیے سعادت قرار دیا ۔سفر سے متعلقہ تیاری ، اپنی بے چینی اور آغاز سفر  کو احساسات و جذبات میں گوندھ کر پیش کیا گیا ہے۔ترکی پہنچنے کے بعد ہوٹل روانگی کے دوران  شہر اور ہوٹل کی خوب صورتی ونفاست کا بیان ناصرف دلچسپ بلکہ قاری کو لبھانے کا باعث ہے ۔
ترکی کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت اور حدود اربعہ بیان کرنے کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے آغاز ،عروج ، سلطنتِ عثمانیہ کے روشن پہلو  اور زوال کو بہت دلچسپ اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے جسے پڑھتے ہوئے کبھی خوشی اور کبھی غم کے جذبات اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔
ترکی کے اہم مقامات کا ذکر کرتے ہوئے نیلی مسجد استنبول ، آیا صوفیہ ، توپ کاپی محل کی رومان پرور کہانیاں  اور اسلامی تبرکات، استنبول سے قونیہ (مولانا رومی کا شہر) روانگی، قونیہ کی سیر ، مولانا روم  کا مزار ، فیری لینڈ کی سیر ، کروز ڈنر اور یاد گار شام ، تاریخی تقسیم اسکوائر کا دورہ، مزار حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، گرینڈ بازار ترکی، آیا صوفیہ کا عجائب گھر اور استنبول سے اسلام آباد کے سفر کی تفصیلات ،واقعات ،
مشاہدات ،احساسات اور منظرنگاری قابلِ تعریف ہیں ۔ہر مقام اور اہم شخصیات کی تفصیلات نے سفر نامے کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔سفر نامہ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم بھی اس سیر میں شریک ہیں اور بھرپور انداز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔
تمام اہم مقامات اور شخصیات کی تصاویر کتاب کو خوب صورتی عطا کرنے کے علاوہ قاری کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔
سفر نامے کا اسلوبِ بیان شگفتہ اور آسان فہم ہے جو قاری کو اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا بلکہ قاری اپنے آپ کو سفر میں شریک محسوس کرتا ہے ۔ سفر کے دوران مصنف کا جوش و خروش تحریر سے عیاں ہے ۔
اس سفر نامہ کی ایک اور اضافی خوبی یہ ہے کہ اس کو پڑھتے ہوئے نا صرف ناول نگار “نمرہ احمد” کا ناول “جنت کے پتے” ذہن میں تازہ ہوتا جاتا ہے بلکہ قاری اپنے آپ کو سفر میں گُم محسوس کرتا ہے ۔
         کینیا کا سفر نامہ
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ مصنف پہلے بھی افریقہ کےسفر سے لطف اندوز ہو چکے تھے لیکن کرونا وبا کے عروج کے زمانے میں 28 اگست تا 13 ستمبر اپنی یونیورسٹی کے نو ساتھیوں کے ہم راہ کیمبرج یونیورسٹی کے ایک کورس کے حوالے سےکیے جانے والے سفر کو اپنے لیے یادگار قرار دیتے ہیں ۔
ابتدا میں کراچی شہر کے متعلق مصنف کی رائے، کراچی ہوائی اڈے کی تفصیلات کا ذکر اور انتظامیہ کے قابلِ تعریف رویے کا ذکر بہت سی غلط فہمیوں کے خاتمے کا باعث ہے ۔
تحریر کے آغاز میں کینیا کی زبان کے الفاظ اور ان کا اردو ترجمہ معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ دلچسپی سے ہے ۔
کینیا کے تعارف میں ملک کا سرکاری نام ، حدود اربعہ ، جغرافیہ ،مشہور مقامات  (وکٹوریہ جھیل ، سفاری اور متنوع جنگلات کی زندگی کے ذخائر ،مختلف، پارک ،اہم پیشہ ،آبادی اور کینیا کی وجہ تسمیہ ، مذہبی لحاظ سے آبادی کا تناسب ،زبان ، آب و ہوا اور دارالخلافہ نیروبی شہر) کی تفصیلات دلچسپی کا باعث ہیں ۔
اسلام آباد سے کینیا تک کے سفر کی تفصیلات کے بعد نیروبی شہر کی تفصیلات اور تاثرات عمدگی سے بیان کیے گئے ہیں ۔ہلکے پھلکے مقامی زبان کے جملے قاری کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا باعث ہیں ۔
مختلف تفصیلات بیان کرتے ہوئے مصنف کا مشاہداتی اور تجزیاتی انداز نا صرف مصنف کی مثبت سوچ وفکر کا مظہر بلکہ دلچسپی سے بھرپور بھی ہے ۔
اورو پارک کی تفصیلات ،بوماس آف کینیا کی روایتی موسیقی اور رقص کا ذکر ،سفاری جنگل کی سیر کو ایک نعمت قرار دینا ، سستے بار اور نوجوان نسل کی بے راہ روی پر دکھ کا اظہار ، مسائی بازار کی قدیم روایتی اشیا کے لیے پسندیدگی کا اظہار ، جومو کینیاٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لکھا ہوا جملہ:
                        Corruption Free Zone
متاثر کن ہیں۔
مجموعی طور پر معلوماتی ،دلچسپ اور متاثر کن سفرنامہ جس کا مطالعہ کسی بھی باذوق قاری کے لیے تشفّی کا باعث اور کسی بھی لائبریری کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ  ہے ۔
کتاب کی اشاعت پر مصنف کو دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی مشاہداتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہوئے مزید کامیابیاں اور عروج عطا فرمائے ۔
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کی طباعت کا معیار اور عمدہ کاغذ قاری کے مطالعہ کے عمل کو خوش گواریت عطا کرتا ہے  جس کے لیےادارہ  “پریس فار پیس” داد کا مستحق ہے

تبصرہ نگار  کا تعارف

پروفیسر خالدہ پروین محکمہ تعلیم آزاد کشمیر سے وابستہ ہیں۔  وہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سوکاسن بھمبر آزاد کشمیر میں اردو کی پروفیسر ہیں۔وہ مختلف سماجی اور ادبی موضوعات پر لکھتی ہیں۔کتابوں پر ان کی ناقدانہ رائے کو ادبی حلقوں میں معتبر سمجھا جاتا ہے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact