تبصرہ نگار : قانتہ رابعہ
انسان کو جن نعمتوں کی بناء پر اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے ان میں سے الہامی کتاب کی ستائیسویں پارے کے وسط کی صورت میں ایک نعمت ،،بیان ہے ،،زبان تو چرند پرند کو بھی دی لیکن مافی الضمیر بیان کرنے کا ہنر صرف حضرت انسان کو دیا انسان بات کرتے ہوئے بہترین الفاظ چنے لہجہ شیریں ہو کلام دلپزیر ہو تو سننے والا بھی وجد میں آجاتا ہے کلام میں روانی بحوروقیود کی پابندی اور نغمگی ہو تو اسے شاعرانہ انداز قرار دیا جاتا ہے
اس وقت میرے ہاتھوں میں ایسی ہی خوبصورت کتاب ہے جو جمالیاتی ذوق کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہے ۔بہت عمدہ اشعار ،چکنا سفید کاغز بہترین سرورق اور مناسب قیمت۔
عربوں میں شعرو شاعری گھٹی میں پڑی ہوئی تھی لیکن اسلام نے شاعری پر قدغن نہیں لگائی بلکہ ان سفلی جزبات پر مبنی اشعار جو جنس ہوس اور شراب شباب کباب تک محدود ہوں کو سخت ناپسند کیا۔
بحیثیت ایک مسلمان کے ہمیں ہر شوق کی تکمیل کے لیے اسوہ حسنہ کو دیکھنا لازم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جو اچھے شعر کو بار بار سننے اور ان شعراء کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کے متعلق ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاعری کی یوں تعریف بیان کی:
،،یہ اظہار کا طریقہ ہے اس کا اچھا پہلو حسین،خوبصورت( نافع) ہےاور اس کا قبیح پہلو بدنما ،فحش ( نقصان دہ) ہوتا ہے
( مسند ابو یعلی)
ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم بڑا شاعر اسے ہی قرار دیے ہیں جو اس کے قبیح پہلو کو شعرو شاعری کا موضوع بناتا ہے۔
اور خوش نصیبی یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی بہت سے شعراء کرام ان قبیح ہتھیاروں کے بغیر بھی کامیاب شاعر سمجھے جاتے ہیں جن کی شاعری میں پاکیزگی اور مقصد کو سامنے رکھا گیا ہے انہی میں سے ایک خوبصورت لہجے ،اور محبت بھرے دل والی شاعرہ فرح ناز فرح بھی ہیں جن کا شعری مجموعہ ،،عشقم ،اپنی طرز کا خوبصورت اور منفرد مجموعہ کلام ہے۔
عشقم  فرح کی شخصیت کا عکاس  ہے۔درد بھرے دل سے وہ واردات قلبی کو شعروں میں ڈھالتی ہیں ۔ان کی شاعری بہت سی آج کی شاعرات سے یکساں طور پر مختلف ہے کہ فرح کے پاس وسیع ذخیرہ الفاظ ہے۔ کلام میں سلاست ہے ۔بحر چھوٹی ہو یا بڑی وہ بڑی مہارت سے اس میں الگ انداز سے شاعری کا رنگ بھرتی ہیں۔ وہ دیگر شاعرات کی طرح ہجر وصال کی ہی داستان بیان نہیں کرتیں بلکہ امید کا پیغام دیتی ہیں۔ ان کی ہر غزل میں کوئی نہ کوئی ایسا شعر ضرور موجود ہے جس میں مکمل داستان سمیٹ دی گئی ہو ان کی شاعری چونکانے والی شاعری ہے۔
احساس کی دیوار میں سو چھید ہو گئے
احوال اس نے پوچھا جو احسان کی طرح
ہم کو کوئی ہے اس سے توقع نہ امید
بس ہم سے کبھی  مل لے وہ انسان کی طرح
فرح نے دوسرے شعراء کے مضامین بھی اپنی شاعری میں سموئے ہی جیسے یہ  شعر پڑھیں تو تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یاد آتا ہے
چلائی ہے جو یوں باد مخالف
خدا اونچا اڑانا چاہتا ہے
فرح نے اشعار میں بہت ہی خوبصورت استعارے اور حسین الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ جیسے یہ شعر:
ہوائیں گنگناتی ہیں نظارے رقص  کرتے ہیں
کنواری شب کے آنچل پر ،ستارے رقص کرتے ہیں
بجے پازیب پتوں کی،تو گل بھی جھوم جاتے ہیں
میری نیندوں میں سپنے بس تمہارے رقص کرتے ہیں
فرح شراب شباب کباب کی شاعری نہیں ان کی شاعری میں شعر ایک حد میں ہوتا ہے۔وہ اپنے قلم اور لفظوں کو خدا کی عنایت قرار دیتی ہیں جیسے یہ اشعار:
مرا یہ قلم ،میرے حرف یہ
بس عطائے رب جلیل تھی
تیری یاد تھی ترا درد تھا
وہی چاند تھا وہی جھیل تھی
فرح یاس کی نہیں آس امید کی شاعرہ ہیں ۔ان کے ہجر میں بھی وصال کی نوید ہے دیکھئے:
وہ خوش ہیں انہیں چاندنی راتیں ہیں میسر
ہم خوش ہیں ہمیں دھوپ وراثت میں ملی ہے
نفرت میں لوگ جتنے رہیں زہر گھولتے
لہجے میں اپنے،میں تو شہد گھول رہی ہوں
عورت ناز نخرے اداؤں کا دوسرا نام ہے لیکن فرح نے شاعری میں محبوب کے ناز نخروں کے ساتھ مخلوق خدا کے درد کا بھی احساس رکھا ہے:
یہ آندھی یہ طوفان یہ شور مسلسل
خدایا یہ تیرا غضب تو نہیں ہے
جو خلق خدا کو ستایا ہے ہم نے
عذاب خداہو عجب تو نہیں ہے؟
فرح کے کچھ شعر معرفت کی دنیا میں لے جاتے ہیں
بس ایک گھونٹ جو مل جائے مئے تصوف کی
یہ مئے کدہ ہے کیا یہ جام اور سبو کیا ہے
الغرض فرح کی عشقم رب سے عشق کی جھلک بھی دکھاتی ہےاور رب کی مخلوق سے پیار بھی سکھاتی ہے ۔ان کی نظمیں بھی بہت موثر ہیں بالخصوص ماں ،بیٹیاں اوربھرم وغیرہ۔
پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی طرف سے یہ کتاب ہی نہیں ہر کتاب شاہکار کتاب کہلائے جانے کے قابل ہے ۔میں شاعرہ فرح ناز،اور پریس فار پیس کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی  ہوں۔

Leave a Reply

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact