Sunday, May 26
Shadow

موسمیاتی تبدیلیاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ۔تحریر : مظہر اقبال مظہر

تحریر : مظہراقبال مظہر
عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی آفات پاکستان کے ترقیاتی عزائم اور غربت کو کم کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ سکتی ہیں ۔ حال ہی میں جاری کی گئی ورلڈ بینک گروپ کی کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے واقعات، ماحولیاتی انحطاط اور فضائی آلودگی کے خطرات کی وجہ سے  2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں کم از کم 18 سے 20 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔ ملک کی 60 فیصد آبادی شہروں میں منتقل ہو چکی ہوگی  جبکہ زرعی پیداوار میں 50 فیصد کمی متوقع ہے  جس سے غذائی تحفظ  کو  خطرہ  ہے ۔
اس رپورٹ کے مطابق  پاکستان کو اپنی ترقی کی راہ اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے  آب و ہوا  پر پڑنے والے اثرات کو  کم کرنے کے لیے  ہنگامی بنیادوں پر بہتری کے اقدامات کئے جا سکیں۔ حالیہ چند برسوں میں پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے  شدید گرم  موسم  میں  ہیٹ ویوز  کا شکار  رہا ہے۔جس کے ماحول اور انسانی سرگرمیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔  خصوصاً رواں برس  ایک تباہ کن اور غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے 1700 سے زائد افراد ہلاک اور 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
عالمی بینک کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر،  زمینوں ، فصلوں اور مویشیوں پر تباہ کن اثرات کی وجہ سے  ملک بھر میں 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ محفوظ تخمینوں کے حساب سے تقریباً 30 ارب ڈالر سے زائد کے اقتصادی نقصانات ہوئے ہیں۔ عالمی بینک نے حالیہ سیلاب اور انسانی بحران کے بعد پاکستان کے عوام اور اس کی معیشت کو مزید تباہی سے بچانے کے لئےجن  فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے  وہ  زیادہ پائیدار اور جامع ترقی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
پاکستان  میں حالیہ برسوں میں  شہری آبادی میں خطرناک اضافے کی وجہ سے محفوظ سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ اور سرمایہ کاری کی مالی اعانت کے لئے نئے میونسپل اور پراپرٹی ٹیکسوں میں اضافے سمیت محصولات کو متحرک کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔مذکورہ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں  کے تناظر میں جن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے  ان میں  زراعت، تعمیرات اور  توانائی  کے شعبوں کے علاوہ   انسانی سرمایے کے بہتر استعمال اور فعال مالیاتی پالیسیوں جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ   زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی  آمدنی اور  خوراک  کی فراہمی کے نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ ہنگامی بنیادوں پر  محفوظ شہروں کی تعمیرات بھی پاکستان کی اشد ضرورت قرار دی گئی  ہے ۔ اس کے علاوہ    توانائی کے قابل تجدید  وسائل  میں اضافہ  اور پائیدار و   مساوی ترقی اور موافق آب و ہوا کے حصول کے لیے انسانی سرمائے کو مضبوط  کیا جانا چاہیے۔  مزید یہ کہ  مالیاتی پالیسیوں، ترغیبات اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری  لانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
زرعی شعبہ پاکستان میں خاص طور پر غریب اور کمزور گھرانوں کے لیے سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا ہے۔ لیکن زمینوں کی زرخیزی کیمیائی مادوں  کے بے تحاشہ استعمال اور غیر محفوظ کاشتکاری کے طریقوں ،  پانی کے  غیر ذمہ دارنہ  استعمال اور تحقیق کی کمی کی وجہ سے اس شعبے کی پیداواری صلاحیت گر رہی ہے۔ 2050 تک پیداوار میں 50 فیصد کمی متوقع ہے، جس سے غذائی تحفظ کو خطرہ ہے۔ ماحولیات  کو بہتر بنانے کے لیے محفوظ اور قابل تجدید زرعی طریقہ کار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان گلوبل وارمنگ میں اہم کردار ادا کرنے والا نہیں ہے، لیکن یہ  فاسل  ایندھن کے استعمال سے منسلک کاربن کے اخراج کی بلند ترین سطح پر ہے۔ جو کہ تیزی سے  بگڑتی ہوئی فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے ۔  ملک میں آب و ہوا ک کی بہتری کے لیے ایسے ہنگامی  اقدامات  کی ضرورت ہے جو نہ صرف قدرتی ماحول کو انسانی و جنگلی حیات کے لیے محفوظ بنا سکیں بلکہ ترقی کے نتائج کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔
2050 تک پاکستان کی 60 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہے گی، جو پہلے ہی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا بہت زیادہ شکار ہیں۔ شہروں کو زیادہ قابل رہائش اور جامع بنانے سے بڑے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ مزید مربوط زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، میونسپل خدمات میں سرمایہ کاری، فطرت پر مبنی حل کے استعمال، اور توانائی کی کارکردگی اور صاف نقل و حمل میں سرمایہ کاری کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مضبوط میونسپل حکومتیں اور پراپرٹی ٹیکس کے ذریعے شہر کے مالیات کی توسیع اہم ہے۔
پاکستان کا توانائی کا شعبہ معاشی ترقی اور غربت میں کمی کا ایک اہم معاون ہے۔ تاہم، یہ عوامی مالیات اور غیر ملکی زرمبادلہ پر ایک بہت بڑا  بوجھ ہے ۔ اس ضمن میں پاکستان کو ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں تکنیکی اور وصولی کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔  توانائی  کے وسائل  میں  بچت کرنے کے علاوہ اس شعبے میں لاگت  کے حساب سے  ٹیرف کو یقینی بنا نا ہوگا.  کسی بھی معیشت کے لیے پالیسی کا تسلسل بہت ضروری ہے.
پاکستان کو انسانی سرمائے کے بحران سے نمٹنے کی بھی  ضرورت ہے۔ یہ پینے کے  پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے ناقص انتظامات سے نمٹنے  جیسے اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے،۔یاد رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق  پاکستان   جیسے ملکوں کو  بچوں کی خراب نشوونما  جیسے مسائل کا سامنا ہے۔  جس کے محرکات میں  بچوں کو ناقص غذائیت اور بیماریوں سے محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے  بار بار انفیکشن  وغیرہ شامل ہیں۔  خراب نشوونما کے بچے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ  بچوں میں سیکھنے کی  ناقص صلاحیت اور خراب تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ کم اجرت بھی  پیداواری صلاحیت میں کمی  کا باعث بنتی ہے جس کے ملک کی مجموعی پیداوار پر منفی اثرات  مرتب ہوتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  پاکستان کو معیاری اسکولنگ تک عالمی رسائی کو بھی یقینی بنانا چاہیے اور فوائد کو بہتر بنا کر اپنے سماجی تحفظ کے نظام کو بڑھانا چاہیے۔  خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان میں ماحولیاتی بہتری اور ترقی کے اہداف کے حصول کے درمیان مربوط پالیسی سازی کے فقدان  کی نشاندہی کی ہے۔ ان پالیسیوں  کے نفاذ کے  لیے پاکستان کو  سرمایہ کاری کو لاگو کرنے کے لیے ایک جامع مالیاتی حکمت عملی، نجی شعبے کی زیادہ شمولیت، ملکی آمدنی کو متحرک کرنے، اور ایسے مضبوط اداروں کی ضرورت ہوگی جو عوامی اخراجات میں بہتری کے لیے جوابدہ ہوں۔ لچکدار اور جامع ترقی کے لیے پاکستان کے اپنے عزم کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی موسمیاتی فنانسنگ ضروری ہو گی۔
بین الاقوامی برادری  گزشتہ ہفتے سے  مصر میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP27) کے لیے جمع ہے اور  موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی  کے میکینزم پر بھی غور کر رہی ہے۔اس فورم پر  پاکستان کے لیے قرضوں میں ریلیف اور موسمیاتی معاوضے کے مطالبے کا اعادہ کیا  گیا۔ یہاں تک کہ  سیکرٹری جنرل گوٹیرس نے بین الاقوامی برادری اور کثیر جہتی قرض دینے والے اداروں سے اپنی پالیسیوں میں اصلاح کرنے اور قرضوں کے تبادلے کی اجازت دینے کی اپیل  بھی کی۔تاہم دنیا کے امیر ممالک  کی جانب سے اس مرتبہ حوصلہ افزا اقدامات کی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے   موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے عالمی امداد  کے علاوہ   پالیسی سازی کے میدان میں  ان ہنگامی اقدامات پر  غور کرنا ہوگا جو عالمی بینک کی مذکورہ رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact