Sunday, May 26
Shadow

حقوق اطفال اور ہماری ذمہ داریاں۔ تحریر: عصمت اسامہ

از قلم : عصمت اسامہ ۔

فقط مال و زر اچھا نہیں لگتا

جہاں بچے نہیں ہوتے

 وہ گھر اچھا نہیں لگتا !

بچے گھروں کی رونق اور اقوام کا مستقبل ہیں ۔آج کا بچہ کل دنیا کی باگ ڈور سنبھالنے والا ہے ،اس لحاظ سے بچوں پر ہی دنیا کے مستقبل کا دارومدار ہے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ نے 1954ء میں ہر سال ،بیس نومبر کو ‘یونیورسل چلڈرن ڈے’ منانے کا اعلان کیا ۔اس دن کو منانے کا مقصد ،بچوں کی تعلیم و تربیت ،صحت و حفاظت اور فلاح و بہبود کی خاطر شعور بیدار کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر کے اخبارات و رسائل میں مضامین اور کالم لکھے جاتے ہیں ،کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں لیکن اس ضمن میں مذید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔بچے کا سب سے پہلا حق جو اس کے والدین کے ذمے ہے ،وہ اس کی جان کا تحفظ ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی ۔بے شک ان کو قتل کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ سورہء بنی اسرائیل،آیت نمبر31

دنیا کا ہر بچہ جینے کا حق رکھتا ہے۔اچھی خوراک بھی اس کا بنیادی حق ہے ۔پاکستان میں تقریباً ستر فیصد بچے ،عمر کے لحاظ سے وزن میں کمی رکھتے ہیں،اس کی بڑی وجوہات میں ناقص غذائیت اور صاف پانی کی سہولیات بہت کم ہونا ہیں۔

تعلیمی صورت حال بھی ابتر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق ،پاکستان ،اسکول نہ جانے والے بچوں کے لحاظ سے ،دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ناہمواری ،غربت اور مہنگائی ہے۔ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین بعض اوقات بچوں سے مزدوری اور ہوٹلوں پہ کام کروانے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔

بھوک چہروں پہ لئے چاند سے پیارے بچے

بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے ۔

ایک سروے کے مطابق ، تعلیمی اداروں میں بنیادی ضروریات مثلاً پینے کا پانی موجود نہیں ،تیس فیصد سکول واٹر کولر جیسی سہولت سے محروم ہیں،پینتیس فیصد اسکولوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ہیں،ٹیچرز لرننگ اور ٹیچنگ اسکلز سے باخبر نہیں ہیں ۔اساتذہ کا رویہ سیکھنے کے عمل میں بنیادی کردار رکھتا ہے ،کمرہ جماعت میں کی جانے والی بے جا سختی بچوں کو پڑھائی سے متنفر کردیتی ہے۔

بقول شاعر

کاش بھولا ہوا شفقت کا سبق یاد آئے

باپ کے روپ میں اسکول میں استاد آۓ !

تعلیم کا حصول ،سیکھنے کا عمل نرمی اور شفقت کا متقاضی ہے ۔دوسری طرف نصاب تعلیم پہ نظر ڈالیں تو بچوں کا نصاب تعلیم ،ان کی عمر ،دلچسپی ،قومی زبان ،معاشرتی اقدار ،اخلاق اور روایات کے مطابق تیار کیا جانا چاہئے ،جس کو پڑھ کے ایک نظریاتی اور متحد قوم تیار ہوسکے ،لیکن افسوس کہ بچوں کا نصاب غیر ملکی ماہرین سے تیار کروایا جاتا ہے جو نہ ہمارے معاشرے کے مزاج کو جانتے ہیں نہ اسلام کو ۔ ہم نے اپنے بچپن میں اس طرح کی نظموں سے نیکی کی ترغیب حاصل کی تھی :

سچ کہو ،سچ کہو ،ہمیشہ سچ

ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ

سچ ہے سارے معاملوں کی جان

سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان

سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف

سچ کرادے گا سب قصور معاف

لیکن اب ہمارے نصاب مثلاً اولیول کی کتب میں انگریزی کہانیاں ،مغربی طرزِ معاشرت اور سرمایہ دارانہ طرزِ عمل سکھارہی ہیں ،اس کا نتیجہ بہت بھیانک نکل سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ہم اپنے بچوں کے لئے بہترین اسکول کا انتخاب کرتے ہیں ،وہاں ان کو اپنے دین کی تعلیمات سے بھی آگاہ کیا جائے،تفسیر اور سیرت کی کتابیں بھی پڑھائی جائیں ،چاہے اس کے لئے کوئ ہوم ٹیوشن رکھنی پڑے تاکہ یہ بچے اچھے مسلمان بن کے والدین کے لئے صدقہء جاریہ ثابت ہوں۔حدیث شریف میں ہے کہ

کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لئے سب سے بہترین تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔سنن ترمذی ۔

اس لحاظ سے بچوں کی تربیت میں باپ کا بنیادی کردار ہونا ضروری ہے ۔عموما بچوں کی تربیت ماں کی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے لیکن اس حدیث میں یہ ذمہ داری ،والد کی ہے۔اگرچہ ماں کی گود کو بچے کی اولین درسگاہ کہا جاتا ہے لیکن بچپن سے جوان ہونے تک بچے کو والد کی نگرانی اور تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ روز افزوں مہنگائی اور کرونا کے بعد معاشی حالات کی ابتری نے والدین کے لئے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورا کرنا انتہائی مشکل کردیا ہے۔بعض گھرانوں میں باپ کو دو جگہ جاب کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ بچوں کو پڑھا سکے لیکن جہاں والدین اتنی فیس ادا کرتے ہیں وہیں انھیں بچوں کو اپنا قیمتی وقت بھی دینا چاہئیے تاکہ وہ ان کی تربیت بھی کرسکیں ،انھیں نانی کی کہانیاں سنا سکیں،انھیں اپنی محنتوں ،قربانیوں اور بقا کی جدوجہد سے آگاہ کرسکیں،انھیں انسانیت کا درد اور امت مسلمہ سے محبت سکھا سکیں۔والدین کو مہینے میں کم ازکم ایک دن کے لئے بچوں کو رشتہ داروں سے ملانے کے لئے لے جانا چاہئے تاکہ انھیں دادا ،نانا،چچا ،پھپھو،خالہ جیسے رشتوں کی پہچان ہوسکے ،وہ صلہ رحمی سیکھ سکیں۔ آج کا بچہ کل کا نوجوان ہے لیکن لمحہء فکریہ ہے کہ گھر گھر انٹر نیٹ نے بچوں سے ان کا بچپنا چھین لیا ہے ،ماردھاڑ اور شوٹنگ والی موبائل گیمز ،بچوں کے اذہان میں تشدد کے بیج بورہی ہیں ،اس لئے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون دینے سے پرہیز کریں ،اگر تعلیمی مقاصد کے لئے انٹر نیٹ استعمال کرنا ہی پڑے تو بڑے اپنی نگرانی میں استعمال کروائیں ورنہ آپ کا بچہ آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ گا اور آپ بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ہمارے بڑوں نے ہمیں بزرگوں کی اطاعت و فرماں برداری سکھانے پہ بہت محنت کی تھی لیکن میڈیا کے اس دور میں ہماری نوجوان نسل ،بڑوں کے ادب واحترام ،لحاظ ،مروت کو فراموش کر چکی ہے ،الا ماشاءاللہ۔ان بنیادی اخلاقیات کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔اب والدین بچوں کے ساتھ دوستی کرکے ہی ان کی تربیت کرسکتے ہی،بلکہ والدین کا اصل امتحان ہی ان کے بڑے پن، اعلیٰ ظرفی اور تحمل پر منحصر ہے۔ایک عرب سکالر کی تحریر ہے جس میں اس نے لکھا کہ اے میرے بیٹے ،میں تہجد کے وقت میں اضافہ کردیتا ہوں ،اس لئے کہ میں آج تہجد پڑھوں گا تو میرا بیٹا فرض نماز تک پہنچے گا۔اولاد کی تربیت کے لئے والدین کو خود عملی مثال بننا پڑتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :

‘محنت تو ابراہیم بننے کے لئے کرنا پڑتی ہے ، پھر اسماعیل نتیجے میں ملا کرتے ہیں’۔

بچوں کے لئے سیرو تفریح کے مواقع اور مقامات ہونا بھی بہت ضروری ہیں جہاں وہ تازہ ہوا اور قدرتی ماحول میں کچھ کھیل کود کرسکیں ،کھیل ان کی جسمانی نشوونما کے ضامن بھی ہیں اور اس سے صحت مندانہ مزاج پروان چڑھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ‘چلڈرن رائٹس کنونشن’ کی رو سے ،جن ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کئے ہیں ،وہ پابند ہیں کہ ریاست بچوں کی تعلیم کی ذمہ دار ہوگی ،پرائمری تک تعلیم مفت فراہم کی جاۓ گی۔حکومت تفریحی مقامات بھی فراہم کرے گی ، مذید برآں معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ کسی بھی جنگ کے دوران بچوں کو جنگ میں شامل نہیں سمجھا جائے گا، جنگ کے دونوں فریقین ،بچوں کو آگ اور خون سے محفوظ رکھیں گے لیکن عملی طور پر یہ شق ابھی تک معطل ہی ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ملک شام میں شہری آبادی پہ بمباری کی جاتی ہے اور بچوں کے اسکول اور ہسپتال بھی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔فلسطین میں کم سن بچوں کو اسرائیلی فوجی پکڑ کے لے جاتے ہیں اور جیلوں میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، کشمیر کے خوب صورت بچے بھی ہزاروں کی تعداد میں بھارتی جیلوں میں قید ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ عالمی فورمز پر جانوروں کے حقوق کے بارے میں بات کی جاتی ہے ،وہاں مسلمان بچوں کے حقوق پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ان بچوں سے ان کا بچپن کس نے چھینا ہے ؟دنیا کو اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

#

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact