۔۔ خالدہ پروین

بہتر سے بہترین کی چاہ انسان کو متحرک رکھتے ہوئے نئی دنیاؤں کی تلاش اور وہاں آبادکاری پر اکساتی ہے۔
ترقی کی خواہش اور کامیابی و کامرانی کے حصول کے اسی جذبے نے انسان کو مادرِ وطن سے دور کرتے ہوئے دیارِ غیر کی جانب گامزن کیا۔ دنیا میں مختلف طبائع کے مالک انسان مختلف رویوں اور کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بعض ترقی کی چکاچوند میں گم ہو کر اصل اور ہدف دونوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں جبکہ روشن دل کی مالک شخصیات اصل اور ہدف دونوں کو یاد رکھتے ہوئے ایسی راہ کا انتخاب کرتی ہیں جو ان کے لیے عزت و کامیابی اور دوسروں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت شیخ ریاض صاحب ہیں جنھیں ترقی، کامیابی اور عروج کی خواہش جرمنی لے گئی۔
شیخ ریاض صاحب کی تخلیق “ریاض نامہ” صرف ایک کتاب ہی نہیں بلکہ ایک گائیڈ بک ہے ان نوجوانوں کے لیے جن کے نزدیک وطن میں زندگی ناکام اور مشکل جبکہ یورپی ممالک میں عیش ہی عیش ہے لیکن اس عیش کے لیے مشکلات برداشت کرتے ہوئے کتنی ان تھک محنت کرنی پڑتی ہے “ریاض نامہ” اسی جدوجہد کی عکاس ہے۔
کتاب “ریاض نامہ” (یادوں کے چراغ) کے عنوان سے مطابقت رکھتے دیدہ زیب سرِ ورق میں موجود چراغ کی لو قاری کو اپنے اندر محو کرتے ہوئے کتاب کھولنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کتاب کھولتے ہی شیخ ریاض صاحب کی فلسفیانہ انداز کی تصویر اور تعارفی جھلک روکتی ہے جبکہ صفحہ پلٹنے پر “کُوفی فونٹ” میں تحریر کردہ “تسمیہ” چشم و قلب کو خوش کر دیتی ہے۔ مزید آگے بڑھیں تو دائیں صفحہ پر جرمن پارلیمان کا عکس اور بائیں صفحہ پر کتاب کے عنوان سے ساتھ پاکستان اور جرمنی کے جھنڈوں کا یکجا ہونا مصنف کے اصل اور ہدف سے گہرے قلبی تعلق کا غماز ہے۔
  ریاض نامہ کا انتساب:
 “انسانیت سے محبت کرنے والے ہر انسان کے نام”
 مصنف کی انسان دوستی اور وسیع القلبی کی علامت ہے تو  “اظہارِ تشکر” تمام معاون احباب کی احسان مندی اور مصنف کی خوشگوار و کامل ازدواجی زندگی کا عکاس ہے۔
 علم  و معاش کے حصول کی مصروفیت کی بنا پر تصنیفی دور کے آغاز میں تاخیر کے اظہار کا خوب صورت شعری انداز اور عکس مصنف کی مطمئن زندگی کا مظہر ہے :
     کسی ہم سفر کی محبت نبھاتے
      سفر زندگی کا رہا مسکراتے
      محبت سے بھرپور تھا رستہ لیکن
      بڑی دیر کر دی ریاض آتے آتے
 شیخ ریاض صاحب کا یہ قول :
 ” میں کوئی سیاستدان ، کوئی عالم اور نہ ہی کوئی مشہور شخصیت ہوں۔ میں ایک عام انسان ہوں۔ میں نے 56 سال اپنے آبائی وطن پاکستان سے باہر گزارے ہیں۔ جن میں سے زیادہ وقت جرمنی میں گزرا ہے۔۔۔۔ میں نے اپنی زندگی کے تجربات کو ریاض نامہ میں لکھا ہے۔ یہ کتاب لکھنے کا اولین مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں میری طویل زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے مستفید ہوں۔ “
اس بات کا ثبوت ہے کہ راہنمائی کے لیے نیت، خلوص اور ہمدردانہ رویہ ضروری ہے نا کہ شہرت ومقبولیت۔
آپ بیتی یا خود نوشت ایک ایسی صنف ہے جس میں اپنی زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف اپنی ترجیحات اور لگاؤ کے مطابق سوچ وفکر ، عقائد ، تعلقات ، تجربات ، واقعات ، تہذیبی رنگ اور سیاسی فضا کو محفوظ کر لیتا ہے  یہی وجہ ہے کہ “جوش ملیح آبادی” نے “یادوں کی بارات” میں مذہبی عقائد ، روایات اور اپنے ذاتی تعلقات کو انتہائی بے باکی سے پیش کیا ، “شورش کاشمیری” نے “پسِ دیوارِ زنداں” میں اپنے عہد کا سیاسی ماحول ، قیدوبند کا زمانہ اور ظالم سامراج کے ظلم وستم محفوظ کر دیے ، “قدرت اللّٰہ شہاب” نے “شہاب نامہ” میں اپنی ذاتی زندگی ، تحریک آزادی کی فضا ، بیوروکریسی کے پلٹے ، آمریت کی کھینچا تانی کے ساتھ ساتھ روحانی رنگ کو خود نوشت کا حصہ بنا دیا ، “ممتاز مفتی” نے “علی پور کا ایلی” میں ہر چیز کو افسانوی روپ عطا کیا ۔  “نصرت نسیم” صاحبہ کی خود نوشت ” بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں” میں خیبر پختونخواہ (سرحد) کی تہذیبی روایات اور تین نسلوں کے تجربات اور ذاتی کامیاب زندگی کا نقشہ کھینچ دیا گیا۔
کسی بھی شخصیت کی سوچ وفکر، ترجیحات اور اس دور سے متعلقہ معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ بیتی کی صنف کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مذکورہ بالا آپ بیتی کے پس منظر میں جب ہم “ریاض نامہ” کا جائزہ لیتے ہیں تو  یہ کتاب ایک منفرد آپ بیتی کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ شیخ ریاض صاحب نے سادہ، رواں اور فطری اسلوبِ بیان کو اپناتے ہوئے کتاب کا آغاز بچپن لڑکپن اور جوانی کی بکھری اور دھندلی یادوں کو قلمبند کرنے سے کیا ہے  اگرچہ یادوں کی یہ فلم بے ربط ہے لیکن اس میں پیش کی گئی معلومات نایاب نہ سہی کمیاب ضرور ہیں۔ خصوصاً لاہور کے دروازوں، مزاروں،  تاریخی مقامات سے متعلقہ معلومات بہت عمدہ ہیں۔
تصنیف تخلیق کار کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ “ریاض نامہ” کے زریعے پتا چلتا ہے کہ ریاض صاحب ایک یار باش انسان ہیں ۔ ان کی دوستی کا دائرہ وسیع المشربی کا آئنہ دار ہے۔ اپنے دوستوں کا تذکرہ بہت محبت سے کرتے ہیں۔ ایک محنتی انسان ہیں جنھوں نے معاش، تعلیم اور خانگی و ازدواجی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔ سادہ مزاج انسان ہیں یہی وجہ ہے کہ معلومات کی پیش کش کھرے انداز میں دکھائی دیتی ہے۔
وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ جرمن نیشنلٹی کے حصول کے لیے پاکستانی پاسپورٹ جمع کرواتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا ۔  چونکہ جرمنی دوہری نیشنلٹی نہیں دیتا اس لیے باامرِ مجبوری ایسا کرنا پڑا تھا۔
بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کی مشکلات مختلف ممالک اور علاقوں کی تہذیب اور رویوں سے متعلقہ موازنے کا اندازہ بہت عمدہ اور دلچسپی سے بھرپور ہے۔
جرمنی کا تعلیمی نظام، تعلیم کی اہمیت، مختلف مدارج کی تعلیم اور ان سے متعلقہ شرائط، مختلف سرٹیفکیٹ کے نام اور ان کی تفصیل قابلِ تعریف ہیں۔ خصوصاً:
1۔۔۔ عمر چھے سال ہونے پر اگر بچے کو سکول نہ بھیجا جائے تو پولیس کے ذریعے بچے کو سکول بلوا لیا جاتا ہے۔
2۔۔۔۔ چھٹی کلاس سے بچوں کے پروفیشنل کیریئر کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔
3۔۔۔۔ بچوں کے لیے دلچسپی اور رجحانات کے مطابق وسیع شعبہ جات اور مضامین کی سہولت موجود ہے۔
4۔۔۔ ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی ہے تاکہ دوسرے ممالک میں جرمنی کے تعلیم یافتہ افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جرمنی کی تہذیب سے متعلقہ  معلومات بہت عمدہ ہیں۔ جرمن تہذیب کی ایک خوبی نے دل خوش کر دیا کہ جرمنی میں چپڑاسی کلچر کا کوئی تصور نہیں ہے۔
دوسری جنگِ عظیم میں ہونے والی تباہ کاریاں اس کے اثرات اور جرمن قوم کی جفا کشی کا تذکرہ بہت عمدگی سے کیا گیا ہے۔
ایک چیز قابلِ توجہ ہے کہ وہاں کا نیشنل ہونے کے باوجود بھی یہ احساس جا بجا دلایا جاتا ہے کہ آپ غیر ملکی ہیں۔
چونکہ جرمنی تہذیب میں نکاح کے بغیر بھی جوڑے کی صورت میں رہنا معیوب نہیں لہذا ایک جرمن کے نزدیک بیوی بچوں کی ذمہ داری اور نان نفقہ ایک “بلیک میلنگ” ہے ۔ ایسے میں انسان شکر ادا کرتا ہے کہ الحمدللّٰه ہم مسلمان ہیں جہاں کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہمیں تمام تفکرات سے آزاد رکھتا ہے۔
“ریاض نامہ” کا مطالعہ ذہن میں مصنف کا نقشہ بناتے ہوئے ریاض صاحب کی وفادار شخصیت کے نقش کو گہرا کر دیتا ہے۔ پاکستان مصنف کی اصل ہونے کی بنا پر مصنف کے دل کے قریب ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاحت اور پرانے دوستوں سے ملاقات کو بہت محبت سے زیب قرطاس کیا گیا ہے۔ جب کہ جرمنی ان کی زندگی میں کامیابی اور ترقی کا ضامن ہے یہی وجہ ہے کہ جرمن تہذیب، معاشرتی نظام، باشندوں کی خصوصیات کو وسیع القلبی اور وسیع المشربی کی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی مثبت سوچ وفکر اور رویے نے ہی مصنف اور ان کے اہلِ خانہ کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔
مجموعی طور پر “ریاض نامہ” عزم و جدوجہد کی ایسی داستان ہے جو نوجوان نسل اور خصوصاً دیارِ غیر کی جانب ہجرت کرنے والوں کے لیے کامیاب زندگی کی راہنمائی کا اشارہ ہے۔ یہ کتاب صرف  تصنیفی خواہش کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ایک ایسے مقصد کا نتیجہ ہے جو بڑی شخصیت، وسیع ذہن وقلب کی ہی پیداوار ہو سکتا ہے۔
مصنف کو اپنی زندگی کے تجربات نئی نسل کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنے پر  دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور عمدہ معلومات اور نئی سوچ دینے کے بہت شکریہ۔
پریس فار پیس کے طباعتی معیار کے متعلق کوئی دوسری رائے نہیں ہے لیکن ریاض نامہ کا شمار اس مخصوص کیٹیگری کی کتابوں میں ہوتا ہے جن کی تزئین وآرائش پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے  منفرد صورت میں اشاعت قارئین کو کتاب دوستی پر مجبور کر دیتی ہے۔
اللّٰه تعالیٰ مصنف اور پریس فار پیس دونوں کو مزید عروج اور کامیابیاں نصیب فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact