تبصرہ: ادیبہ انور یونان
کتاب : بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں
لکھاری: نصرت نسیم
اشاعتی ادارہ: پریس فار پیس یو کے
یورپ سے پاکستان کا سفر ہمیشہ طویل ہوتا ہے اور اس میں فلائٹ تبدیل کا انتظار لازمی ہوتا ہے۔  ایسے میں اگر بچے ساتھ سفر نہ کر رہے ہوں۔ تو کتاب کا ساتھ بہترین رہتا ہے۔
والد صاحب کی خرابی طبعیت کی وجہ سے عجلت میں پاکستان کے لیے نکلی تو پریشانی میں کتاب ساتھ لینے کا خیال نہ آیا۔
دو ہفتے کا یہ سفر مسلسل ہسپتال میں گزرا۔ دن رات ابو جی کے پاس ٹھہرنا تھا۔ تو نصرت نسیم صاحبہ کی کتاب ” بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“  امی سے کہہ کر گھر سے منگوا لی۔
یہ وہ کتاب ہے جو پہلے یو کے سے یونان پارسل ہوئی ۔ مگر مجھے موصول نہ  ہو  سکی۔
پھر پاکستان والے گھر میں ادارے کی طرف سے ارسال کی گئی۔ لیکن جب پاکستان سے یونان کتابیں منگوائیں۔ تو یہ کتاب پھر بھی یونان نہ پہنچ سکی۔
اللہ رب العالمین کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔ اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ جن کو ہم ناقص العقل نہیں سمجھ پاتے۔ مگر جب حکمت سمجھ آتی ہے تو اس رب العالمین پر بے انتہا پیار آتا ہے۔ ممکن ہے کہ اگر یہ کتاب میں مختلف دونو۔ اور حالات میں پڑھتی تو مجھے ایسی گہری محسوس نہ ہوتی۔  جتنی ان دنوں ہوئی۔۔
پاکستان میں ہسپتال پہنچ کر دو دن تو پریشانی میں گزر گیے۔ امی گھر سے آتے ہوئے پوچھنے لگیں ۔ کچھ چاہیے؟ میں نے صرف اس کتاب کا نام لیا ۔ کہ وہ لے آنا۔
” بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ میرے ہاتھ میں تھی۔ کتاب کا کور ، تصویر اور ڈیزائین بلا شعبہ انتہائی جاذب ہے۔ ادارے نے ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ کی اشاعت کا حق ادا کر دیا۔ ہے۔ بہترین اشاعت پر پریس فار پیس یو کے کی ٹیم کو مبارک۔۔
ہسپتال میں جہان دن تو طویل ہوتے ہی ہیں ۔ راتیں عجیب گہری، خاموش اور بے چین طوالت لیے ہوتی ہیں۔ ایسے میں یہ کتاب میری خاموشیوں  کو زبان دینے لگی۔ میری سوچوں کے دائرے بڑھتے گئےاور نصرت نسیم صاحبہ کی یاداشتوں کے سفر میں، میں نے اپنے بچپن سے اب تک کا سفر کر ڈالا۔  اپنے بابا کی باتیں، ان کے بغیر گزارے ماہ و سال، ان کے ساتھ گزرے انمول لمحے۔ بہن بھائیوں کے ساتھ گزرا وقت، زندگی کے میٹھے کھٹے، واقعات و حالات  سب نصرت نسیم صاحبہ کا یاداشتوں کے ساتھ ورق در ورق کھلتے گئے۔ نصرت نسیم صاحبہ اپنی خالاؤں اور بہن کے ساتھ گزرتے وقت یاد کرتیں تو مجھے اپنے سے چھوٹی پانچ بہنوں کا ساتھ یاد آتا۔ ان کی تعلیم و تربیت، شادیاں اور پردیس کے سفر۔ سالوں کی دوریاں سب دل میں ہوک سی پیدا کرتیں۔
انکل کا پردیس جانا، گویا اپنے والد کا پردیس کا سفر، وہ بھی ہر بار ایسا ہی بوجھل ہوتا جیسا ڈیڈی کو لگتا۔ بابا پاکستان آتے۔ ان کے جانے پر کچھ دن ایسے خاموش ، طویل، اداس اور بے چین ہوتے۔ انکل جو پردیس گئے تو لوٹ بھی آئے۔ مگر ہمارے بابا۔ انہوں نے تو اپنی جوانی پردیس کو دے دی۔ ہماری خوشیاں اور آسانیاں جمع کرتے ہوئے۔  لوٹتے ہوئے اتنی دیر کر دی کہ تب تک ہم پردیسی ہو گئے۔
 ڈیڈی میں اپنے دادا کے ساتھ گزرا بچپن۔ اور ان کے پاس بیٹھ کر اپنے بابا کو خط لکھنا سیکھنا یاد کرا گیا۔
آہ کیا دن تھے۔ 
بچپن کی معصوم خوشیاں، کھانے، رسم رواج، لوگوں سے میل ملاقات، پڑھتے ہوئے بالکل ایسا لگتا ہے کہ نصرت نسیم صاحبہ کسی بوڑھے کو بچہ بنا کر، اس کی انگلی پکڑ کر اس کے بچپن کی سیر کراتیں  ہیں۔ ہر قاری اس کتاب کو پکڑ کر اپنے بچپن کو یاد کرے۔ اس کتاب کے الفاظ میں ایسا ہی سحر ہے۔  بہت سارے رسم رواج ایسے بھی تھے جن سے پہلی بار تعارف ہوا۔
پھر بچپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے، وہ جھجک، شرم، وہ احتیاط کا عالم ، وہ خود ستائشی کی چاہ ، اور علم و فن کی منزلیں طے کرنا۔ نصرت نسیم صاحبہ بہت خوش قسمت ثابت ہوئی کہ شعور کے ساتھ ساتھ کتاب و علم کے ساتھ جڑی رہیں۔ کتاب کو دوست بنایا تو یہ دوست ان کو ہر جگہ آسانی سے ملا۔ اور پھر استاد بھی ایسے ملے کہ درست منزل کی جانب رہنمائی حاصل ہوئی۔ یہ کامیابی و خوش نصیب ہر ایک کے ہاتھ نہیں آتی ۔
پھر زندگی کے تلخ تجربات، ہر کردار کی اپنی کہانی ، ہر کردار کا مثبت اور منفی چہرہ دکھاتے ہوئے نصرت نسیم صاحبہ نے انتہائی دیانتداری سے کام لیا ہے۔۔اور ہر کردار کے ساتھ جڑا نصرت نسیم صاحبہ کا قلبی تعلق ان کے دل میں موجود محبتوں کے سمندر کی جھلک دکھاتا ہے۔ ہر کردار کو یاد کرتے ہوئے، مصنفہ جس طرح ان کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں۔ اور خود کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ کہہ کر پیش کرتی ہیں ۔ اس سے بحیثیت انسان ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند نظر آتا ہے۔
بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں۔  بلاشبہ ایک بہترین یاداشت ہے۔ نئے آنے والے دور کے قارئین کو بیتے ہوئے دنوں اور لوگوں کا بہترین تعارف کرائے گی۔

Leave a Reply

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact