Friday, April 19
Shadow

“لمحوں کی دھول “از رباب عائشہ/تبصرہ : قانتہ رابعہ

تبصرہ : قانتہ رابعہ

“زندگی صرف ایک بار ملتی ہے کسی کے لیے یہ زہر کی مانند ہے اور کسی کے لیے تریاق ،کامیاب ہے وہ جو دوسروں کی زندگی سے سبق سیکھتا ہے ناکامی کا ہو تو بچنے کی کوشش اور قابل رشک ہو،تو اسے اپنانے کی”۔ 

کسی بھی نامور شخصیت کی داستان حیات بالعموم اس کے مرنے کے بعد لکھی جاتی ہے لکھنے والا جو لکھتا ہے وہ سو فیصد ویسی نہیں ہوتی جو زندگی گزارنے والے نے گزاری۔  

انیس بیس کا فرق رہتا بھی ہے لیکن جو داستان حیات لکھنے والے نے خود لکھی وہ ایک فلم کرنے والے کیمرہ کی مانند ہوتی ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ 

میری رائے میں بہترین کتاب وہ ہے جو شروع کریں تو ادھوری چھوڑنا مشکل ہو جائے ۔کتاب ہاتھ سے رکھنا پڑے تو دھیان گیان اسی طرف رہے۔ 

میرے پاس بھی کسی ناول کے کرداروں سے مزین  ،افسانوں جیسی دلچسپ  اور کہانیوں جیسی سادگی لئے معروف  خاتون صحافی کی آپ بیتی”لمحوں کی دھول”موجود ہے،جسے میں نے رمضان المبارک سے قبل کی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے سرسری دیکھ کر رکھنا چاہا تھا لیکن میں ایسے نہیں کرسکی۔

کتاب میں بیتے ہوئے دنوں کی کہانی اتنے سادہ اور دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہے کہ قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ راولپنڈی میں پرورش پانے اور روزنامہ جنگ سے اپنی ملازمت کا آغاز کرنے والی رباب عائشہ نے اپنے اردگرد جو دیکھا بلا کم و بیش لکھ کر اس دور کی تہذیب، روایات اور طور طریقوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا ہے ۔محمود شام نے درست فرمایا کہ”رباب کی آپ بیتی پاکستان کی آپ بیتی ہے ۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے جذبات کی ہوبہو ترجمانی ہے۔” 

اپنے خاندان کے تعارف  میں رباب عائشہ نے اردو ادب کے بہت بڑے ادیبوں سے اپنی رشتہ داری ظاہر کی، الطاف فاطمہ، نشاط فاطمہ،ان کی والدہ کی خالہ زاد بہنیں ہیں تو سید رفیق حسین ان کی والدہ کے ماموں۔ اپنے شوہر اختر حسین رائے پوری کی سوانح عمری لکھنے والی حمیدہ اختر ان کی والدہ کی تایا زاد بہن۔ 

ان کے علاوہ بھی بہت سے افراد انگریزی شاعری ،ٹیلی ویژن ڈرامہ، ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے یوں “ایں خانہ ہمہ آفتاب است “کی مثال ان پر صد فیصد سچ ثابت ہوتی ہے۔

کتاب کیا ہے اک دبستان ہے پھولوں جیسے لوگوں کی خوشبو بھری یادوں کا، لیکن اصل میں کتاب ایک عورت کی جدوجہد کی وہ داستان ہے جس پر انہیں سلیوٹ پیش کرنا چاہئیے ۔ایک لڑکی دوران تعلیم ہی روزگار کے لئے کیسے کوششیں کرتی ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صحافتی ادارے سے وابستہ ہوتی ہے وہاں پر سب کچھ پلیٹ میں رکھا نہیں ملا بلکہ راولپنڈی کے گلی کوچوں میں لوگوں کے مسائل تلاشی ہیں اس پر فیچر لکھتی ہیں کیسے ان کا کام پائہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے کن مراحل میں سے گزرتا ہے۔ 

کتاب کیا ہیرے موتیوں جیسی یادوں کا گلبن ہے ،ہر یاد ایک الگ رنگ لئیے ہوئے۔ بہرحال یہ کتاب ہی ہے جو یہ ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ عورت صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں سے زیادہ بہادر ہوسکتی ہے وہ مشکل سے مشکل حالات ندی نالوں کی مانند رشتے نکالنے کا ہنر جانتی ہے۔ مایوس کن حالات میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔ 

مجھے اپنے لیے اس کتاب میں بہت اہم سبق ملے۔ میں نے جانا  کہ عورت کو ملازمت کے لئےفولادی اعصاب کی ضرورت ہے ۔مجھے معلوم ہوا ،آگے بڑھنے کے جتنی بڑی رکاوٹیں آئیں بہرحال خدا پر اعتقاد ہی انہیں دور کرتا ہے۔ 

میرے علم میں اضافہ ہوا کہ ملازمت ختم بھی ہوجائے تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔سیدہ ہاجرہ کی طرح پتھریلی چٹانوں پر بھاگنا پڑتا ہے۔ رباب عائشہ کے لئے بھی جب زندگی پتھریلی ہوگئی تھی ،والدین جدا ہوچکے تھے تو انہوں نے بچوں کے لئے لکھنے ،کتب کی اشاعت انہیں بہت بڑے پیمانے پر سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کی اور ان کی سعی بار آور ہوئی ،ہزاروں کے حساب سے کتب کی ڈیمانڈ اور پسندیدگی نے ثابت کیا کہ دوسروں کے لئے مثال بننا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ 

روزنامہ جنگ سے نوائے وقت کا سفر آسان نہیں تھا لیکن ہر طرح کے حالات میں ڈھال لینے کی خوبی نے اسے آسان بنایا۔ 

عورت کو ملازمت میں کن مسائل سے سامنا کرنا پڑتا ہے ،کے علاوہ رباب کی ملازمت فیچر رائٹنگ تھی جس میں انہوں نے خط غربت کے نیچےزندگی گزارنے والے انسانوں کے مسائل اور اشرافیہ کی زندگیوں کو دیکھا ۔دو انتہاؤں میں لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں، اچھوتے واقعات کتاب میں کہانیوں کا رنگ بھرتے ہیں ۔کتاب کے آخری باب میں تجسس بھی ہے اور، حیرت انگیز  سچ بھی ،زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے انٹرویوز میں چشم کشا قصے،کہیں کوئی منجم ہے تو کہیں بیکری والا کہیں فالج کا روحانی علاج تو کہیں کچھ بہرحال کتاب ان کی صحافتی زندگی کی ہی نہیں واقعی پاکستان سے تعلق رکھنے والی محب وطن افسانہ نگار کی داستان ہے جس کے نام میں لفظ”دھول”پر میں متردد ہوں ۔دھول کی بجائے خوشبو، مہک کوئی بھی متبادل ہوسکتا تھا جو بھی ہو کتاب میں ایک سے بڑھ کر ایک رنگ ہے قصہ ،کہانی ،افسانہ ،جسے پڑھ کر انسان بہت کچھ یاد کرتا ہے، رکتا ہے تائید کرتا ہے اور پاکستان کی عوام اور خواص دونوں کو مصنفہ کی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن، پروفیسر ظفر اقبال صاحب اور مصنفہ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ 

۔ اردو ادب میں ایک عمدہ آپ بیتی اور بہترین انداز سے شائع ہونے والی کتاب کا اضافہ اردو ادب شیدائی کو بھی مبارک ہو 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact