تحریر:مجیداحمد جائی
        ریز گاری لمحوں کی ہو یا دکھوں کی ،نوٹوں کی ہو یا سانسوں کی ،جسمانی اعضا کی ہو یا لفظوں کی بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔جب ہر طرف سے مایوسی کی بادل چھانے لگیں تو اُمید کی ریزگاری کام آتی ہے ،لفظوں کی ریزگاری سے دوسروں کے دل جیت لیے جاتے ہیں ۔دکھی انسان کے لبوں پر مسکرایٹوں کی ریزگاری سے زندگی کی رمق نمودار ہو سکتی ہے ۔بہت سے ایسے واقعات ہیں جو دل ودماغ کی سکرین پر ٹمٹماتے ہیں لیکن مجھے ارشد ابرارارش کی ریزگاری کی بات کرنی ہے ۔
        ارشد ابرار ارش کی ”ریز گاری “مجھ تک کیسے پہنچی یہ الگ داستان ہے ۔ارش کو میں نہیں جانتا لیکن اس کے قلم کو جانتا ہوں ۔ماہنامہ سچی کہانیاں کے پلیٹ فارم سے اس کے شائع ہونے والی تحریروں سے ،ان کے قلم سے آشنائی رہی ہے ۔پھر ”ریز گاری “کی خبریں سماعتوں سے ٹکرانے لگیں اور جاتے سال کے آخری مہینے یعنی دسمبر کی ٹھٹھراتی شام کو ”ریز گاری “ہمارے مزدور ہاتھوں میں آئی ۔اس مزدور کے ہاتھ کتابوں کا لمس پا کر نہال ہو جاتے ہیں ۔
        ”ریز گاری “کا سرورق زارارضوان نے کمال محبت ومحنت سے تیار کیا ہے ۔سرورق میں بہت سے سوالات سر اٹھاتے ہیں ۔قاری کئی زاویوں سے سوچتا ہے لیکن مجھے ارشد ابرار ارش کی لفظوں کی ریز گاری نے بے تاب کر دیا ۔انتسا ب سے نکل کر پیش لفظ میں ارش سے باتیں کرتے ہیں تو روح تک گھائل ہو جاتی ہے ۔یہ کم سن لڑکا جو شاید ابھی جوانی کی چوکھٹ پر ٹھیک سے قدم نہیں رکھ پایا ،اس کے قلم کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ بڑے بڑوں کو محو حیرت میں مبتلا کر دے ۔پیش لفظ سے یہ اقتباس ہی پڑھ لیجیے :
        ”میں کون ہوں اور کیا ہوں میں ۔۔؟اس سے قطع نظر اپنی ”ریز گاری “کی صورت اب آپ کے ہاتھوں میں موجود ہوں ۔یہ ریز گاری ہے ؛میرے پانچ سال کے رتجگے ،نیندیں اور میرے خواب ہیں ۔وہ خواب جو اِن جاگتی آنکھوں نے دیکھے تھے اور اب اوراق کا پیرہن اوڑھ کر تعبیر پاچکے ہیں ۔اوراق کے وہ سفید پیرہن کہ جن پر کالے سیاہ حروف سے کشیدہ کاری کرتے ہوئے میں نے اپنی انگلیوں کی پوریں چھلنی کی ہیں ،میں اور کچھ بھی نہیں ،سوائے ایک گم نام کہانی کار کے میری کوئی دوسری پہچان نہیں ہے ۔یہ تمام افسانے درحقیقت میری ذات اور زندگی کے ہی بکھرے ہوئے کچھ حصے بخرے ہیں ،دوسرے معنوں میں پیاز کی پرتوں جیسے ایک شخص کے ڈھیرسارے چہرے ۔دراصل دوسرے انسانوں کی طرح ایک ہی جسم میں سانس لینے والا کہانی کار کبھی ایک زندگی جی ہی نہیں سکتا۔“
        جب ہم ”ریز گاری “کا مکمل مطالعہ کرلیتے ہیں تو محمد جمیل اختر کے ہم آواز ہو جاتے ہیں لکھتے ہیں :”ارشد کے افسانوں میں تلخیاں زیادہ ہیں ۔یہاں آپ کو قہقہے کم اور آنسوزیادہ ملیں گے اور سچ تو یہ ہے کہ ایک اچھا افسانہ نگار زندگی کی تلخیوں کو سُپردقلم کرتا ہے ۔یقیناارشد ارش نے اپنے لمحوں کی ریزگاری کو لفظوں کی ریز گاری بنا کر ہم تک پہنچاکر خود کو سرخرو کر لیا ہے ۔اب پڑھنے والا کا ظرف ہے وہ ارشد کی ریزگاری کو اپنی ریزگاری سمجھ کر ڈوب جاتا ہے یا خاموشی کا لباڈہ اوڑھ کر سوجاتا ہے ۔
        میں نے ”ریز گاری “کا ہر افسانہ باریک بینی اور عمیق لہروں کے سُپرد ہو کر پڑھا ہے ۔ہر افسانے پر تفصیلی بات کر سکتا ہوں لیکن قلم بہت سی پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔
        ارشد ابرار ارش کی ”ریزہ گاری “نے مجھے ریزہ ریزہ کر دیا ہے ۔ہر افسانے کو میں نے قسطوں میں پڑھا ہے ۔یوں کئی دن ریزگاری کو سمیٹنے میں لگے ہیں ۔میں خود کو سمیٹنے لگا تھا لیکن ریزگاری نے میرے اندر ہلچل مچا دی ہے ۔میرے اندر کے سکوت کو توڑ دیا ہے ۔میں پھر سے بکھرنے لگا ہوں ۔یادوں ،سوچوں کی ریزگاری کا انبار مجھے تیز رفتار پانی کی طرح بہا کر لے جانے لگا ہے ۔ہائے میری زندگی کی ریز گاری ۔۔
        ”ریز گاری “میں کل بائیس افسانے پیش کیے گئے ہیں ۔کتاب کی ضخامت 224صفحات ہے ،قیمت600 اور پریس فارپیس پبلی کیشززنے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے ۔یہ ادارہ خوب صورت اور معیاری کتب شائع کر رہا ہے ۔یہ اس لیے کہ رہا ہوں کہ ان کی بیشتر کتب زیر مطالعہ رہی ہیں ۔
        ”ریز گاری “کے افسانوں کی بات کریں تو پہلا افسانہ ”قتل ِآب “ہے ۔اس کا خوب صورت جملہ ”مردوں نے قلتِ آب کے غم والم میں سینہ کوبی شروع کر دی اور عورتوں کے بین آسمان کا سینہ شق کرنے لگے ۔ملک میں پانی کا قحط ضرور پڑا تھا مگر ملکی باشندوں کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی روانی اب بھی نیل وفرات سے کم نہ تھی ۔”قصہ ایک رات کا “گوٹھ گاﺅں میں وڈیرہ شاہی اور غریب کی عزتوں کے دکھوں کو بیان کرتا ہے ۔گو کہ موضوع پرانا ہے لیکن لفظوں کے نشیب و فراز نے بہترین افسانہ بنا دیا ہے ۔”سزا“افسانے میں ناصحانہ اور خطیبانہ انداز عود کر آیا ہے ۔یہ اقتباس پڑھیے :”جب انسان کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی روح گُملا جاتی ہے اوردل پر کالا دھبہ لگ جاتا ہے ۔اگلے گناہ پر یہ دھبہ مزید پھیل جاتا ہے ۔انسان کے متواتر گناہ اس دھبے کی قامت بڑھاتے رہتے ہیں اور پھر پورے دل پر سیاہی کی ایک دبیز پرت چڑھ جاتی ۔اس مقام پر وہ بے حس اور سفاک ہو جاتا ہے اور پھر اسے گناہ ،گناہ نہیں محسوس ہوتا ۔کوئی افسوس یا پچھتاواتک نہیں ہوتا ۔یہ واپسی کی آخری سیڑھی ہوتی ہے جسے انسان پھلانگ لیتا ہے ۔“
        ”ریزگاری “میں شامل افسانہ ”چراغ“پڑھتے ہوئے مجھے پریم چند کا افسانہ ”ادیب کی عزت“یاد آنے لگتا ہے ۔چراغ کی کہانی ایک ناول نگارادیب کی کہانی ہے جسے وقت کے بے رحم لہروں نے بے بس کر دیا تھا لیکن اس کی بیوی جو خود بھی ادیب تھی کا جملہ اسے قلم پھر سے تھامنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔وہ تو بس چراغ ہے ،چراغ کا کام دوسروں کو روشنی دینا ہے اور خود کو سلگانا ۔ادیب بھی زیر لب بولتا ہے ”میں تو بس چراغ ہوں ۔جسے جلتے سلگتے رہنا ہے اور اپنی آخری سانس تک لکھتے رہنا ہے ۔“ادیب کا خود سے عہد کارآمد ہے ۔اُمید کی کرن ہے ۔زندگی کو خوش دلی سے بسر کرنے کا پیغام ہے ۔
        ”خطوں میں مخفی محبت“بیٹے کو باپ کی محبت کے دکھ سنا تا بہترین اچھوتا افسانہ ہے ۔”گستاخ“افسانہ مصنف کے عمیق مشاہدہ کا ثبوت ہے ۔ہم دوسروں کو بنا تحقیق کیے سزا دینے لگتے ہیں اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے ۔اس افسانے میں شیدے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔مسجد سے چوری اس نے کیوں کی؟ یہ جاننے کی کوشش کسی نے نہ کی اور گستاخ کَہ کر تشدد کرکے اس جہاں سے اُس جہان پہنچا دیا۔ارشدارش نے لفظوں سے جو منظر پیش کیے ہیں یہ اسی ہی کا خاصا ہے ۔
        ”بانجھ “افسانہ قدرے کمزور رہا ہے ۔مصنف اس پرگرفت نہیں رکھ سکا ۔افسانہ کا اختتام بہت پہلے کر کے کہانی کو آگے بڑھاتے رہے ۔”بڈھا سالا“ایک ایسے بھائی کی محبت کا احوال ہے جس نے بہنوں کی خاطر شادی نہ کی اور پھر جب محبت اس کے من میں جاگی بہت دیر ہو چکی تھی ۔لازوال محبت کی کہانی ہے ۔”ادکار“افسانہ عمدہ بے مثال افسانہ ہے ۔سچ ہے دُنیا میں ہر فرد فنکار ہے ۔ہر فرد اپنے مفاد کی خاطر ہزاروں روپ دھارے ہوئے ہے ۔کاش !ایسی ٹیکنالوجی ایجاد ہوتی جس سے معلوم کیا جا سکتا کہ سامنے نظر آنے والے کے من میں کیا ہے ؟
        سرورق افسانہ ”ریز گاری “کا یہ جملہ دیکھیے :اب کس غم نے اس کے زیادہ سال کھائے یا پھر ان تمام دُکھوں کی دیمک نے مل کر اس کی عمر کی ریزگاری کو چٹ کیا تھا ؟۔“”گونگے لوگ“افسانے میں بتایا گیا ہے ”ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے “”آخری آدمی “افسانہ پرانی تہذیب کو اجاگر کرتا ہے ۔یوں لگتا ہے یہ ترجمہ کی گئی تحریر ہے لیکن اس کا اخلاقی سبق متاثر کرتا ہے ۔۔”قرض“مکافاتی عمل کودہراتا افسانہ ہے ۔کسی کے ساتھ جو کرتے ہیں پلٹ کر آتا ہے ۔”دھوپ کا سفر“ماں بیٹی کا دُکھ بیان ہوا ہے ۔دونوں اپنے طور پر زندگی کو بسر کرنے کی کوشش میں تھیں لیکن کہانی میں بیٹے اور بھائی کا کردار سوال ضرور چھوڑ جاتا ہے ۔”تو آٹھواں رنگ دھنک کا“محبت کی لازوال داستان سناتا بہترین افسانہ ہے ۔شروع میں کہانی میں بوریت تھی لیکن جوں جوں بڑھتے ہیں تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے اور اختتام حیران کر دیتا ہے ۔”چہرے “افسانہ بھی محبت کی چوٹ کھائے گناہ گار کی کہانی ہے ۔جو کئی چہرے اوڑھے ہوئے ہے ۔لیکن حیرانی اس بات کی ہے ہم کسی ایک کی غلطی کی سزا دوسروں کو کیوں دیتے ہیں ۔
        ”گندی مکھی “افسانہ معاشرے کا المیہ پیش کرتا ہے ۔غریب انصاف کے لیے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے ۔”جنتے “کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوا ۔”آخری پتھر“ریز گار ی کا آخری افسانہ ہے ۔”ریز گاری “افسانوی مجموعہ موضوعاتی حوالے سے بہترین اور عمدہ مجموعہ ہے ۔جس میں مصنف کی اٹھان ملتی ہے اور اس بات کا پتا دیتی ہے کہ آگے چل کر مصنف شہرت کی بلندیوں کی سرحدیں عبور کرے گا ۔ہر افسانے میں منظر نگاری ،تشبیہات و استعارات کا استعمال عمیق مطالعہ کا عمدہ ثبوت ہیں ۔ارشد ابرارارش کے فکر اور فن کو جانچنے والے کے لیے ریزگاری افسانوی مجموعہ ہی کافی ہے ۔دعا ہے ارشد ابرار ارش کا قلم یونہی اپنی جولانی دکھاتا رہے اور اُردو ادب میں مقام ومرتبہ بلند ہو آمین !۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact