Tuesday, May 21
Shadow

مظہر اقبال مظہر نے بہاول پور کی مٹی کا قرض ادا کیا تحریر: سید مسعود گردیزی

تحریر: سید مسعود گردیزی
جناب مظہر اقبال مظہر خطہ پونچھ کے نامور لکھاری ہیں۔ انکی کتاب بہاولپور میں اجنبی کا مطالعہ کیا تو بہاولپور ریاست کی تاریخی جھلک سمیت مقامی روایات کو پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کیساتھ انکی اپنے خطے کے لئے اپنائیت کے جذبات اور آزادی کی تڑپ بھی واضح نظر آئی۔ مظہر اقبال مظہر نے بہاولپور میں اپنے قیام اور تجربات پر تصنیف لکھ کر اس مٹی سے اپنا حق ادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں کئی نامور لکھاری پیدا ہوئے لیکن وہ اس طرح کے اہم اور بنیادی تقاضوں سے خود کو آزاد کر دیتے ہیں لیکن مظہر حسین تو اس مٹی کے محسن اور سفیر بن کر سامنے آئے ہیں۔ مجھے ان کی کتاب اور اس پر تبصرے پڑھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے قریبی دوست کے ٹیلنٹ کو اس قدر پذیرائی اور محبت مل رہی ہے۔
راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مصنف جناب مظہر اقبال نے بہاولپور یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کیا۔ اس جامعہ میں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان سمیت دیگر پہاڑی و پسماندہ علاقوں سے ایک معقول تعداد تعلیم حاصل کرتی رہی ہے۔ مظہر حسین اپنے جامعہ فیلو کا ذکر کر کے قاری کو بھی اپنے طالب علمی کے دور میں لیحانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ دوران طالب علمی انہوں نے بہالپور کی جدید و قدیم تہذیب کو قریب سے دیکھا ۔ اندرون و بیرون بہاولپور کی خوب منظر کشی کی۔ سرائیکی زبان کی چاشتی اور سرمستی کا ذکر کیا تو ہمیں بھی اپنی مادری زبان کی قدر محسوس ہونے لگی۔
مظہر اقبال مظہر نے چولستان کے میلوں مربع میل پر پھیلے ریگستان کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ قاری کو فوری اس طرف روانہ ہونے کا دل کرتا ہے۔مرکزی لائبریری اور میوزیم کی تاریخ اور آرکیٹکچر بارے معلومات فراہم کرنے سمیت میوزیم میں رکھے نوادرات اور نادر تصاویر اور پرانے ماڈل کی گاڑیوں کی الفاظ میں تصویر کشی کرائی ہے۔ نواب آف بہاولپور صادق محمد خان جنہیں محسن پاکستان کا لقب قائد اعظم محد علی جناح نے دیا تھا انکی تاریخ اور خدمات بارے تفصیلی اظہار کیا۔ 
جناب مظہر اقبال مظہر نے اپنی کتاب میں شناخت کے مسئلے پر جو لفاظی کی وہ حددرجہ قابل تعریف لگی۔ بہاولپور والوں کو بھی شناخت کا مسئلہ درپیش تھا اور ہم کشمیر والوں کو پاکستان کی بھر پور وکالت کے باوجود آج تک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شناخت کا مسئلہ درپیش ہے۔ وہ مسئلہ جو کبھی بند کمروں اور ہاسٹلز تک محدود رہتا تھا اب اس پر جلسہ گاہوں اور ایوانوں میں بھی گفتگو ہو رہی ہے اور میرے نذدیک یہی شعوری بیداری ہے کہ اپنی شناخت اور حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے۔
سیاسی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں نے جو سلوک کشمیریوں کیساتھ کئے رکھا ویسا ہی سلوک اہلیان بہالپور کیساتھ بھی کیا گیا۔ کشمیری تو برادریوں میں تقسیم کی وجہ سے نقصان اٹھاتے رہے لیکن سرائیکیوں نے اپنے حقوق کیلے آواز بلند کرتے ہوئے جہاں ٹھوکریں کھائیں وہیں انہوں نے علم و ادب و ثقافت کو خوب پروان چڑھایا۔ بھاولپور کی تاریخ صوفیانہ رنگ کے ساتھ اور بھی اجلی ہو جاتی ہے۔
“بہاولپور میں اجنبی ” پڑھ کر پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی کاوشوں کی تعریف کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ علم اور آگاہی کے پھیلاؤ میں یہ ادارہ فعال کردار ادا کر رہا ہے اور میری نیک تمنائیں ان کی پوری ٹیم کیساتھ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact