Sunday, May 26
Shadow

جدید دور میں ادیب کا کردار۔ از قلم : عصمت اسامہ ۔

از قلم : عصمت اسامہ ۔

علامہ اقبال نے فرمایا تھا

خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو

سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

ایک ادیب اور لکھاری کا قلم معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے،وہ انسانیت کے مسائل کو سمجھتا ہے،وہ اپنی دماغ سوزی اور درد مندی سے ان مسائل کا حل تلاش کرتا ہے،وہ اپنی فکر_خام کو لفظوں میں پگھلا کر قلم سے قرطاس پر منتقل کرتا ہے،اس کی مقصدیت لوگوں کی سوچ کو بدلنے لگتی ہے،اس کا درد_ دل انسانیت کے زخموں کا مرہم بن جاتا ہےاور پھر وہ منزل آتی ہے کہ اس کے قلم پارے ،شہ پارے بن جاتے ہیں اور اس کے قلم کی تاثیر رنگ لے آتی ہے اور پھر یہ عالم ہوتا ہے کہ بقول شاعر

جس طرف بھی چل پڑے آبلہ پایان_شوق

خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا 

موجودہ دور کمیونیکیشن سائینسز اور موبائل جرنلزم کا دور کہلاتا ہے ۔آپ کے ہاتھ میں جو اسمارٹ فون ہے ،آپ اس سے دعوت دین کا کام بآسانی کرسکتے ہیں۔بمطابق حدیث_ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:

وبلغوا عنی ولو ایہ

ترجمہ: میری طرف سے ایک آیت بھی تمہیں پہنچے تو اسے آگے پہنچادو۔ بحوالہ بخاری شریف۔

ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ نے ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو آپ پودے لگائیں ،اگر آپ نے دس سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو درخت لگائیں لیکن اگر آپ نے صدیوں کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو آپ افراد_کار تیار کریں تاکہ وہ اس کام کو پایہء تکمیل تک پہنچا سکیں۔

موجودہ صدی کو کتابوں سے عشق کی آخری صدی کہا جاتا ہے۔آئندہ دور میں کمیونیکیشن اسکلز کی اہمیت بہت بڑھ جاۓ گی۔ہمیں بحیثیت مسلمان ادیب ،یہ فکر ہونی چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو علم اور صلاحیتیں دی ہیں ،ہم انھیں کس طرح اللہ کے راستے میں استعمال کرسکتے ہیں۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے سیرت کا واقعہ بیان کیا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،عمرہءقضا کے سفر پر تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اس کی مہار حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔آپ مکہ کی پہاڑیوں سے اتر رہے تھے ۔آپ کے قافلے کے زیادہ افراد لبیک پڑھ رہے تھے لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ،رجزیہ شاعری پڑھ رہے تھے۔اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نظر پڑی تو انھوں نے دور سے ہی حضرت عبداللہ کو چپ کرنے کو کہا۔ نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھ لیا تو اونٹنی کی پشت سے ان کو آواز لگائی کہ چھوڑو عمر ،رہنے دو،اس کے اشعار تو مشرکین کے سینوں میں لگ رہے ہیں ۔نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے ذرائع ابلاغ کو ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا ،آپ نے کفار کے پروپیگنڈہ کا جواب دینے کے لئے ،ناموس_رسالت کا دفاع کرنے کے لئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اپنے اشعار سے کفار کے پروپیگنڈہ کا توڑ کریں اگر چہ فتح_ مکہ کے بعد آپ نے توہین رسالت کے مجرموں کو تلوار سے قتل کرنے کا حکم بھی دیا۔ ہر جنگ کے اپنے جرنیل ہوتے ہیں ۔

قوموں کے عروج و زوال میں بھی ادب نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادیب کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے ،وہ اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔قیام_ پاکستان کی جدوجہد میں ادیبوں اور دانشوروں نے تاریخی کردار ادا کیا ہے ۔ایک ادیب اپنے خوابوں کو دوسروں تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ علامہ اقبال کا قلم ،قیام_پاکستان کی منزل کا رہبر ثابت ہوا۔اسی طرح سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کی تحریر کردہ کتب نے لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا ۔آپ نے اپنی کتاب “ادب میں تغیرات اور معاشرت میں اس کی اثر انگیزی ” میں لکھا ہے 

“لٹریچر یعنی ادب ،پیش قدمی کرتا ہے ،رائے عامہ اس کے پیچھے آتی ہے ،آخر میں اجتماعی اخلاق،سوسائٹی کے ضوابط اور حکومت کے قوانین سب اس کے تابع ہوجاتے ہیں”-

ایک اور تصنیف میں انھوں نے لکھا:” ہمارے نزدیک ایک مسلم ادیب کے لئے اظہارِ رائے محض حسن اور ذوقِ جمال، تفریح کا ذریعہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہ اس بات کا ادراک رکھتا ہے اور اسے ادراک رکھنا بھی چاہئیے کہ اس کے قلمی رحجانات ،عنوانات،نسل اور سماج کی صورت گری کر رہے ہیں جو معاشرے کی سوچ ،فکر اور طرزِ زندگی پر لامحالہ اثر انداز ہوتے ہیں”-

نبیء کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس کواس حالت میں موت آگئ کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کر رہا تھا تو جنت کے اندر اس کے اور انبیائے کرام کے درمیان صرف ایک درجہ کا فاصلہ ہوگا۔ (بحوالہ مشکو’ۃ شریف ،جلد اول).

قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے ان کو فرعون کے دربار میں جاکر اللہ کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا تو انھوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے نبوت طلب کی کیوں کہ انھیں احساس تھا کہ بھائ اس پیغام کو زیادہ موثر زبان میں پہنچاسکے گا ۔

ادیب کو اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے ،کسی کی تنقید پر صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے ،اسے مخالف کے زاویہء نگاہ کا ادراک ہونا چاہئے ۔حالات_حاضرہ پر ری ایکشن دینے کی بجائے اسے پروایکٹو ہونا چاہئے تاکہ معاملات کی پیشگی منصوبہ بندی کرسکے۔ اسے کسی مسئلہ پر قلم اٹھانے سے قبل تحقیق کرلینی بھی ضروری ہے تاکہ وہ افواہوں اور جھوٹی اطلاعات سے بچ سکے ۔اسے اپنی تہذیب اور معاشرتی روایات کی پاسداری بھی کرنی چاہئے ۔بقول شاعر

کبھی کھل کے لکھ جو گذر رہا ہے زمین پر

کبھی قرض بھی تو اتار اپنی زمین کا !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact