Sunday, May 26
Shadow

افسانہ:ابا جان / ڈاکٹر رفعت رفیق

ڈاکٹر رفعت رفیق

میں نے ابا جان کو ہمیشہ ایسے ہی دیکھا۔اتنے ہی سنجیدہ ،متین  اور سادہ مزاج۔۔بچپن میں میں  حیرتسے انھیں تکا کرتا کہکوئی انسان  اتنا خشک مزاج کیسے ہوسکتا ہے ؟؟؟ان  کی دنیا گھر سے کالج ،کالج سے گھرتھااور کتابیں ان کی مونس وغم خوار ۔عام سے مڈل کلاس گھروں  میں الگ سے سٹڈی رومکا کھڑاگ کون پالتا ہے یا یوں کہہ لیں پال سکتا ہے اس لئے بیڈروم ہی  اباجان کی لائبریری تھا جہاں ہمارے سونے کے بعد تک اور صبح ہمارے اٹھنے سے پہلے ہمیشہ  دروازے کی نیچے کی جھری سے ان کے ٹیبل لیمپ کی  ہلکی ہلکی روشنی نظر آیا کرتی تو ہمیں خبر ہوجاتی کہ اباجان مطالعے میں منہمک ہیں۔

اباجان کا کوئی لمبا چوڑا حلقہ احباب نہ تھا نہ ہے۔۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں  کہ ان کا مزاج غیر دوستانہ تھا۔ہمارے زمانہ طالب علمی میں وہ ہم سب بہن بھائیوں کی پڑھائی میں پوری دلچسپی لیتے۔۔خاصطور پر میری عادت تھی کہ سکول سے گھر آکر اپنے پورے دن کی رپورٹ اباجان کو پیش کرتا اور وہ پوری دلچسپی سے سنتے۔جہاں جہاں ضروری ہوتا وہ میرے تلفظ کی اصلاح کرتےجاتے۔میرے دور طلالب علمی میں استاد کو ٹیچر کہنے کا رواج نہ تھا۔سکول کے استاد ماسٹر کہلاتے ۔میں جب کبھی بتاتا ماسٹر نے آج یہ کام کروایا ،ہمیشہ ٹوکتے ماسٹر  نہیں ماسٹر صاحب کہو۔۔۔

مزاج میں سادگی کا یہ عالم تھا کہ میں نے انھیں عیدین پہ بھی نئے لباس کا احتمام کرتے نہیں دیکھا۔ہم سب بچوں اور ہماری والدہ  صاحبہ کو عید کی خریداری کرواتے لیکن اپنے لئے عید کاجوڑا نہ بنواتے تھے۔۔اپنے پہلے سے موجود کپڑوں میں سے کوئی دھلا سوٹ پہن کے عید کی نماز پڑھنے جاتے  اور پھر گھر آکر وہی کتابیں ،اخباروں کے تراشے اور اردو انگریزی زبان میں چھپنے والے میگزینز ہوتے اور اباجان ہوتے۔۔۔میں ہمیشہ سوچتا کتنے مردہ دل ہیں اباجان۔۔۔بھلا کوئی اتنا بورنگ کیسے ہوسکتا ہے کہ عید پہ نئے کپڑے جوتے بھی نہ پہنے تو  یہ کیسی عید ہوئی۔۔۔ہنہ یہ کیا سادگی ہوئی بھلا یہ تو مردہ دلی ہے۔۔۔کئی بار اس بات پہ اباجان سے بحث بھی ہوئی۔۔۔لیکن ان کا معمول وہی رہا۔۔۔ایک بار والدہ صاحبہ ان کے علم میں لائے بغیر ان کے سوٹ کا کپڑا لے آئیں اور پھر کسی نہ کسی طرح انھوں نے سلوا بھی لیا۔۔۔اباجان کو خبر ہوئی تو ناراض ہوئے۔۔نیک بخت یہاں  لوگوں کو پیٹ بھر کے کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور آپ نے  یہ اصراف کیا۔۔

آج میں  خود باپ ہوں میرے بچے اچھے اداروں میں تعلیم حاصل  کررہے ہیں۔لیکن آج وہ اپنے گزرے دن کی باتیں میرے ساتھ نہیں کرتے۔اپنی ماں کے ساتھ بھی نہیں کرتے۔۔ان کی مصروفیات ان کی دلچسپیوں  کی خبر مجھے ان کے  سوشل میڈیا سے ہوتی ہے جہاں وہ،وہ سب کچھ شئیر کرتے ہیں جو ہم اپنے والدین کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

عید قریب ہےمیری بیگم عید کی خریداری کے لئے پیسے لینے آئی ہے مجھے یاد ہے بچے کے سمسٹر کی فیس بھرنی ہے ۔۔بجلی کا بل ابھی جیب میں پڑا ہے۔۔۔میں گن کے کچھ نوٹ بیگم کے ہاتھ پہ رکھتا ہوںکہ اپنی اور بچوں کی خریداری کرلیں ۔

اور آپ کیِ؟؟؟بیگم پوچھتی ہے۔

مجھے نئے کپڑوں ضرورت نہیں۔۔ابھی کچھ دن پہلے ہی تو بنائے ہیں۔۔۔میں جواب دیتا ہوں

کچھ دن پہلے کہاں۔۔۔سال ہوگیا ہے۔بیگم یاد دلاتی ہے۔

تو کیا ہوا۔۔عید کی نماز پڑھنے کے لئے نئے کپڑوں کی شرط تو نہیں ہے۔۔

اورمجھے لگتا ہے یہ میں نہیں میرے اندر اباجان بول رہے ہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact