انعم طاہر

کل ایما اور علی کی شادی کو پورے چھ سال ہونے والے

 تھے۔ ہر سال وہ اپنی شادی کی سالگرہ بہت دل سے مناتے تھے۔ انکے لیے یہ دن بہت خاص اہمیت رکھتا تھا۔ دونوں میں محبت بھی تو اتنی تھی۔ اس محبت کی شادی کے لیے دونوں نے بہت انتظار کیا تھا۔ اب دونوں ساتھ تھے تو خوشی منانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ خاص طور پر شادی کی سالگرہ انکے لیے کسی تہوار سے کم نہیں تھی __ نئے کپڑے ، سیر سپاٹا،  ایک دوسرے کی پسند کے تحفے۔ 

ایما کچن میں کام کرتے ہوئے مسلسل اپنی شادی کی سالگرہ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ گزرے دنوں کی اچھی یادیں بار بار اسے بےچین کررہی تھیں۔ اور  کل آنے والی ان کی شادی کی سالگرہ اسے اداس کررہی تھی۔ اب حالات پہلے جیسے کہاں تھے۔ کچھ ماہ پہلے ہی علی کی اچھی خاصی نوکری چھوٹ گئی تھی جہاں سے اسے بہت اچھی تنخوا ملا کرتی تھی۔ اس وقت تو وہ ایک معمولی سی تنخواہ والی نوکری کر رہا تھا۔ پورا مہینہ بھی مشکل سے کٹتا تھا۔ کبھی کبھار تو ادھار لینے کی نوبت آجاتی تھی۔ 

آج مہینے کی انیس تاریخ تھی اور ان کے پاس پیسے تقریباً ختم ہوچکے تھے۔ ایما سوچ رہی تھی کہ کاش وہ شادی کی سالگرہ اچھے طریقے سے منا سکیں ، اتنے ہی خاص طریقے سے جتنا خاص یہ دن تھا۔ وہ علی کو اسکی پسند کا تحفہ دینا چاہتی تھی ، کچھ ایسا جسے دیکھ علی خوش ہو جاتا۔ اسکے لیے علی کی خوشی اور سکون سب سے مقدم تھا۔ بار بار اسکے ذہن میں ایک خیال آرہا تھا آیا، بار بار وہ اس خیال کو جھٹکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ علی کو سرپرائز دے لیکن وہ علی کو بتائے بنا ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی تھی جو علی کو کسی طرح بھی تکلیف دے۔ وہ کشمکش میں تھی____ اس کے پاس بس آج کا ہی دن تھا، اسے فیصلہ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔

علی جب سے گھر واپس آیا تھا وہ محسوس کررہا تھا کہ ایما کچھ الجھی الجھی سی ہے۔ روز وہ اسکے آتے ہی ڈھیروں باتیں کیا کرتی تھی۔ آج وہ علی کو کھانا دے کے خاموشی سے اسکے برابر والے صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔ وہ اس کی باتوں کے جواب میں صرف ہوں ہاں کررہی تھی جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔ علی جانتا تھا کہ ایما کو کوئی چیز پریشان کررہی تھی، وہ یوں بھی بہت حساس تھی، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ گھنٹوں بیٹھ کے سوچا کرتی تھی۔ علی اسکے چہرے کا ہر رنگ پہچانتا تھا۔ علی نے کھانا کھا کر برتن کچن میں پہنچائے اور واپس آکر ایما کے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گیا۔

” کیا ہوا میری ایمی کو ، اتنا گندہ منہ کیوں بنایا ہوا ہے؟” علی اپنے مخصوص لاڈ والے انداز سے بولا تھا۔ 

“کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ منہ تو نہیں بنایا ہوا ” ایما نے قدرے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“ایسے کیسے کچھ نہیں ہوا _ بتاؤ مجھے کیا سوچ رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے ناں میں تمہیں ایسے بلکل نہیں دیکھ سکتا” علی اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تھا۔  

“سچ کہہ رہی ہوں کچھ نہیں ہوا” وہ نظریں چراتے ہوئے بولی تھی۔ 

علی نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا ، وہ اسکی اداسی کو دل میں اترتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔ 

“اداس ہو ؟”  وہ پوچھنے لگا تو ایما خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔ 

“کل ہماری شادی کی سالگرہ ہے اور تم یوں اداس ہو رہی ہو ” وہ مصنوعی منہ بناتے ہوئے بولا تھا ۔ 

“اداس تو نہیں ہوں علی پر ایسے ہی بس۔۔۔ پتہ نہیں کیوں پچھلی اینیورسریز یاد آرہی ہیں۔ اس بار کیسے منائیں گے اینیورسری۔۔۔۔ ” وہ مایوسی سے بولی تھی۔ 

” ارے ، مائے لو۔۔۔۔۔ میں ہوں ناں تم فکر کیوں کرتی ہو۔۔۔ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا ” 

“کیا کرو گےعلی ؟ پیسے ہی نہیں ہیں ” وہ جھجکتے ہوئے بولی تھی۔ 

” میں کرتا ہوں ناں کچھ، دیکھتا ہوں شاید کسی سے لون (ادھار) مل جائے” وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تھا۔ 

“بلکل نہیں ، تم کسی سے لون نہیں لو گے۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نا مجھے یہ بات بلکل اچھی نہیں لگتی کہ تم کسی سے ادھار مانگو”۔ ایما اسکے ہاتھوں میں سے اپنا ہاتھ نکال کر سختی سے بولی تھی۔ ایسی ہی محبت تھی اسکی۔ وہ ہزار تنگی میں بھی علی کو ادھار مانگنے سے منع کرتی تھی۔ شاید یہی اسلوب ہے محبت کا____ محبت میں مبتلا شخص اپنے محبوب کوکسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلائے نہیں دیکھ سکتا ! 

“میں تمہیں اداس تو نہیں دیکھ سکتا ناں ، تمہیں پتہ ہے مجھ پہ کیا گزرتی ہے جب تمہیں اداس دیکھتا ہوں ۔۔۔۔ اور پھر یہ دن بھی تو بہت خاص ہے ہمارے لیے ” وہ سچائی سے بولا تھا۔ 

“میں سوچ رہی تھی اگر میں…… ” کچھ کہتے کہتے وہ رک گئی تھی۔ اپنی بات کہتے ہوئے وہ جھجک رہی تھی ۔ 

“کیا کہنا چاہ رہی ہو ایمی ؟ ” علی نے پوچھا۔ 

” علی اگر ہم میرا والا لیپ ٹاپ بیچ دیں تو۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے ایما کا سر جھکا ہوا تھا۔ علی کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ ایما کی بات سے اسے تکلیف ہوئی تھی۔ علی جانتا تھا ایما کے لیے وہ لیپ ٹاپ کیا اہمیت رکھتا تھا پھر بھی وہ ایسا سوچ رہی تھی۔

“ایمو میری طرف دیکھو ۔۔۔۔۔ ” علی نے ایک بار پھراسکا ہاتھ تھاما تھا۔ “ایسا کیسے سوچ لیا تم نے، میں ہوں تو تمہیں یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا مجھے نہیں پتہ تمہیں اس لیپ ٹاپ سے کتنا پیار ہے” وہ دکھ سے بولا تھا۔ 

“ہاں پر مجھے سب سے ذیادہ پیار تم سے ہے۔ ہماری اینیورسری ہے اور میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں تمہیں کوئی اچھا سا گفٹ دوں” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی۔ 

“دل تو میرا بھی چاہ رہا ہے پھر تم مجھے کیوں منع کررہی ہو لون (ادھار) لینے سے۔۔۔۔” وہ کچھ لمحے خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر بولا ” اس لیے کہ تمہیں اچھا نہیں لگتا میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلاوں، ہے ناں ؟ ۔۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میں نے ابھی تک کسی سے ادھار کیوں نہیں مانگا؟ صرف اس لیے کہ مجھے پتہ ہے میری ایمی کو یہ بات اچھی نہیں لگے گی۔ پھر تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ تم اپنی سب سے پسندیدہ چیز کی قربانی دے دو گی اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا” وہ دکھ سے بولا تھا ۔ 

“میں جانتی ہوں علی اسی لیے تو اب تک میں بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکی تھی ___  ورنہ تو  میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتی تھی۔ کتنی بار سوچا تمہیں بتائے بنا ہی۔۔۔۔۔ پر نہیں کر سکی۔ بس یہی خیال آتا رہا کہ تم ہرٹ نہ ہو جاؤ “۔ ایما نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔ دونوں ہنس پڑے تھے۔ یہ لمحہ بہت خاص تھا۔ محبت نے اس لمحے میں ان دو دلوں کو بہت پیار سے دیکھا تھا۔ 

“ہم ساتھ ہیں ایمی اور ہمیشہ رہیں گے___ یہ وقت مشکل ہے پر وقت ہمیشہ ایک سا تو نہیں رہتا۔ ساتھ اور احساس ضروری ہے۔ ” 

” ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔۔ میں نے کہیں پڑا تھا کہ محبت کو صرف بےلوث محبت کی ضرورت ہوتی ہے___ باقی ہر شے بےمعنی ہوتی ہے۔ ” ایما کی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں۔ علی بھی مسکراتی آنکھوں سے اپنی محبوبہ کو فخر سے دیکھ رہا تھا۔ 

وہ دونوں کافی دیر تک محبت پہ بات کرتے رہے، ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ کبھی اچھے دنوں کو یاد کرکے مسکراتے، کبھی برے دنوں میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے پہ خود کو سراہتے، اور کبھی آنے والے وقت کے لیے پرامید ہوتے۔ کچھ دیر پہلے والی مایوسی کے بادل چھٹ گئے تھے۔ 

شام کو علی بازار کی طرف نکل گیا، اسکے پاس ذیادہ پیسے تو نہیں تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ ایمی کو کیا پسند تھا۔ وہ گفٹ شاپ پہ گیا،  ایک گفٹ لیا اور اسے ایک خوبصورت سے ریپنگ پیپر میں پیک کروایا۔  وہاں سے نکل کے وہ پھولوں کی دکان میں گھس گیا۔ مطلوبہ چیزیں لینے کے بعد اس نے اپنی سفید مہران میں پٹرول بھروایا۔ وہیں اسے اپنے مطلب کی ایک اور چیز بھی مل گئی جسے خرید کر اس نے گاڑی میں رکھ دیا تھا۔ علی نے کام ختم ہونے پہ سکھ کا سانس لیا اور گاڑی گھر کی طرف بھاگا دی۔ 

رات کو بارہ بجے دونوں ایک دوسرے کو  بھرپور طریقے سے وش کرنے کے بعد جلدی ہی سونے کی غرض سے لیٹ گئے تھے۔ صبح تہ شدہ پلان کے مطابق انھیں ایک آدھ گھنٹے کی مسافت طے کرکے ایک تفریحی مقام پر پہنچنا تھا۔ ایما دروازے کو تالا ڈال کے جس وقت باہر آئی تو علی سارا سامان ڈگی میں رکھ کر خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سھنبال چکا تھا۔ ایما اپنا ہینڈ بیگ اٹھائے عجلت میں گاڑی کا دروازہ کھول کے اندر بیٹھ گئی تھی۔ وہ ۔ٹھٹکی تھی___ “او مائی گاڈ علی ” اس نے حیرت سے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا۔ 

“اتنا پیارا سرپرائز _ اتنا سب کیسے کیا تم نے ” وہ ابھی تک حیران لیکن بے حد خوش تھی۔ علی نے پوری گاڑی کو غباروں ، پھولوں اور کارڈز سے سجایا ہوا تھا۔ یہ تینوں ہی چیزیں ایما کو بہت پسند تھیں اور علی یہ بات اب تک جانے ہوئے تھا۔ ایما کو یاد آیا کہ علی نے اسکی پسند کو مد نظر رکھ کر اپنی شادی کی رات بھی انہی چیزوں سے سجاوٹ کروائی تھی۔ 

” دیکھ لو ___ تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری طرح کریٹیو نہیں ہوں ” علی اسے چھیڑنے لگا تھا۔ وہ مسکراتی نم آنکھوں سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔ علی نے ڈیش بورڈ پہ رکھے گجرے اٹھائے اور اسکی کلائیوں میں ڈال دیے۔ ایما نے گجروں کو اپنے ناک کے قریب لے جا کے انکی خوشبو کو اپنے اندر اتارا تھا۔ ذندگی جیسے مہکنے لگی تھی۔ 

کتنا خوبصورت سفر تھا۔ نہ ختم ہونے والی باتیں ، قہقہے ، محبت کا اظہار اور ایک دوسرے کا ساتھ۔ وقت کیسے کٹا پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ اپنے مقام پہ پہنچے تو سورج پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اچھا یہ تھا کہ وہاں موسم کافی خوشگوار تھا۔ دونوں درختوں کے سائے میں چہل قدمی کرتے اور ایک دوسرے کی تصویریں بناتے رہے۔ اچانک ایما کو یاد آیا تھا “علی پہلے کیک کاٹ لیتے ہیں، کہیں خراب نہ ہو جائے، بہت محنت سے بنایا ہے میں نے”.  علی گاڑی سے کیک اور باقی سامان اتار کے لے آیا تھا۔ گھنے درختوں کی چھاوں میں چادر بچھا کے وہ بیٹھ گئے تھے__ اب کیک کاٹنے کی باری تھی۔ علی نے دیکھا ایما نے اسکی پسند کا کیک بنایا تھا۔ وہ بے ساختہ مسکرایا تھا۔ دونوں نے کیک کاٹا اور ایک دوسرے کو کھلایا۔ پھر علی نے باقی سامان کے ساتھ پڑا ہوا ایک گفٹ بیگ اٹھایا اور ایما کو تھمایا “لیں میڈم میری طرف سے ایک چھوٹا سا گفٹ” ۔ ایما نے مسکراتے ہوئے اسکےہاتھ سے تحفہ لیا اور بولی “ابھی کھول لوں؟”  علی نے سر ہلایا “تمہارہ گفٹ یے جب مرضی کھولو” ۔ ایما نے گفٹ بیگ میں سے تحفہ نکالا اور کھولنے لگی _____ ایما اور علی کی مسکراتی ہوئی تصویر جس میں علی ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ پہنے مسکراتا ہوا ایما کی طرف دیکھ رہا تھا، اور ایما سبز رنگ کے کپڑوں میں ملبوس علی کے کندھے پہ ہاتھ رکھے بے تحاشہ ہنس رہی تھی۔ یہ تصویر ایما کو بہت پسند تھی _ اس تصویر میں زمین و آسماں میں موجود سارے رنگ یکجا تھے۔

ایما سرشار سی ہوگئی تھی۔ اس نے علی کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا۔ علی نے اسکی خوشی کے لیے ایما کی توقعات سے بڑھ کر کوشش کی تھی__ ایما سچ مچ بہت خوش تھی۔ اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ اس سے پہلے کبھی اس نے خود کو اتنا قیمتی محسوس کیا تھا۔ محبت میں محبوب کی طرف سے کی ہوئی ایک چھوٹی سی ‘کوشش’ بھی دنیا جہاں کے خزانے سے قیمتی لگتی ہے۔ ایما کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔ 

پھر ایما نے مسکراتے ہوئے اپنا بیگ پیک کھولا اور اس میں سے تحفہ نکال کے علی کو تھمایا “اور یہ تمہارا گفٹ”۔ یہ سرخ رنگ کے ریپنگ پیپر میں لپٹا تھا، پیکٹ کے اوپر ایما کے ہاتھ کا بنا خوبصورت سا کارڈ لگا تھا۔ جس نفاست سے یہ کارڈ بنایا گیا تھا صاف ظاہر تھا کہ ایما نے بہت وقت لگا کے اسے بنایا تھا۔ علی کو اس پہ بے تحاشہ پیار آیا۔ اس نے کارڈ پڑھا اور گفٹ کھولنے لگا ۔ ایما دلچسپی سے اسے دیکھتی رہی۔  اندر ایک ڈبہ تھا_ علی نے ڈبہ کھولا تو حیرت کے مارے اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا “یہ کس نے بنائی ہے ؟ ” وہ تقریبا چیخا تھا۔ ایما نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ بس مسکراتے ہوئے علی کو دیکھ رہی تھی۔ علی نے کچھ سمجھنے کی کوشش کی اور حیرت سے پوچھا “یہ تم نے بنائی ہے؟”۔ 

“ہاں جی میں نے بنائی ہے ” اس کے لہجے میں فخر تھا۔ 

“تم نے یہ اسکیچنگ کہاں سے سیکھی ہے ؟ ” وہ ابھی بھی حیران تھا۔ آج سے پہلے تک اسے ایما کی ایسی کسی صلاحیت کا نہیں پتہ تھا۔ یہ علی کا ایک فرفیکٹ اسکیچ تھا ! 

“اس بات کو چھوڑو ابھی ، میں بعد میں تمہیں بھی سکھا دوں گی ” وہ علی کے تاثرات دیکھ کر لطف انداز ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی علی کو گھر جاکے بتائے گی کہ جو لیپ ٹاپ وہ بیچنے کا سوچ رہی تھی اسی کو استعمال میں لاکر اس نے علی کا اسکیچ بنایا تھا۔ یہ آئیڈیا بھی اسے یوٹیوب نے دیا ورنہ یہ حقیقت تھی کہ اس سے پہلے اس نے کبھی اسکیچنگ کا سوچا بھی نہیں تھا۔ علی ابھی تک بغور اپنے اسکیچ کو دیکھ رہا تھا__ وہ سمجھ گیا تھا کہ رات کے کسی پہر جب اسکی آنکھ کھلی تھی تو ایما بستر پر موجود کیوں نہیں تھی____ اسے جلدی سونے کا کہہ کر وہ خود پتہ نہیں کتنی دیر تک جاگ کر علی کا اسکیچ بناتی رہی تھی____ اس سے ذیادہ خوبصورت تحفہ علی کے لیے کیا ہوسکتا تھا؟  

 ایما اور علی کھلے دل سے ایک دوسرے کو سراہتے اور تشکر سے دیکھتے رہے _____ میٹھی میٹھی سی گنگناہٹ ، دھیمی دھیمی سے ہنسی فضا میں گونجتی رہی_____ شام ہونے پر ان دو دلوں میں قابل رشک سکون پھیلا ہوا تھا____ نہ تو کچھ نہ ہونے کا ملال تھا،  نہ ہی کچھ کھو دینے کا پچھتاوا___  

اگر آپ نے جم اور ڈیلا کی کہانی پڑھ رکھی ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ اپنی محبت کے لیے انہوں نے کس قدر عظیم الشان قربانی دی تھی۔ ایک وہ تھے جنہوں نے  ایک دوسرے کو تحفے دینے کے لیے اپنی سب سے قیمتی چیزوں کی قربانی دی تھی۔ اور ایک یہ تھے____ ایما اور علی ____ جنھوں نے ایک دوسرے کی خاطر ایسی کسی بھی قربانی سے گریز کیا تھا۔ جم اور ڈیلا واقعی سمجھدار تھے کہ وہ محبت میں قربان ہونا جانتے تھے، لیکن مجھے کہنے دینا کہ ایما اور علی ایک دوسرے کو جانتے تھے____ وہ تھے __  

The Wisest 

3 thoughts on “A New Magi’s Gift/Written by Anam Tahir”
  1. What a fabulous and master piece of literature! Really happy to see you back in a style that exactly suits you. Your writings are always full of impact. The way you depict the society is extremely wonderful. “just like a wowww! “. The love, the most scolded! “ایمو میری طرف دیکھو”,these words fill gaps of the heart of a reader. I found Ms Anam Tahir as one of the greatest teachers of my student life and I feel all of her students must be proud of such a lovely soul. More power to you, stay blessed and ever shinning

  2. Mam Anum is an amazing teacher, literally my favourite one. She has poured her heart and soul into her profession. It’s so nice to read something that your teacher has written. It’s such a good story. It’s incredible to see her talent shine through. Her creativity and dedication are truly inspiring. I hope her story touches the hearts of many readers. Your students will keep supporting you and celebrating your achievements❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact