Tuesday, May 28
Shadow

Tag: عنیزہ عزیر

 خوابوں کا شبستان تحریر : عنیزہ عزیر

 خوابوں کا شبستان تحریر : عنیزہ عزیر

افسانے
تحریر : عنیزہ عزیرکمر تک آتے ریشم جیسے خوبصورت بالوں میں ہولے ہولے برش پھیرتی، وہ اپنے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ گلابی دیواروں والا خوبصورت سجا ہوا کمرہ جس کی ہر شے میں گلابی رنگ نمایاں تھا۔ کھڑکیوں پر پڑے گلابی مخملیں پردے، جالی دار سفید جھالر جن کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی۔ سفید فالز سیلنگ والی چھت پر جلتی مدہم روشنیاں کمرے کو مزید خوابناک بنا رہی تھیں۔دیوار گیر الماری  میں ایک طرف شیشے سے نظر آتی ڈھیر ساری گڑیاں سجی تھیں تو دوسری طرف لکڑی کا پٹ لگی بند الماری تھی۔ دوسری دیوار پر اس کا نام روشنیوں کی مدد سے جگمگا رہا تھا۔ اور وہ خود سرخ اسٹرابیری والے سفید ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھی۔پورے کمرے میں گھومتی نگاہیں بند الماری پر جا کر رک گئیں۔ اس نے برش  اپنے سامنے موجود سنگھار میز پر رکھا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی الماری کی طرف بڑھی۔ الماری کا پٹ کھولا، اندر دنیا جہان کی کتابوں ...
کہانی : بزم۔ کہانی کار : : عنیزہ عزیر

کہانی : بزم۔ کہانی کار : : عنیزہ عزیر

کہانی
تحریر : عنیزہ عزیردن بھر برسنے والی موسلا دھار بارش کا زور ٹوٹ چکا تھا لیکن کِن مِن ابھی بھی جاری تھی۔ دسمبر کی سرد ہوا، بارش کے قطروں کو چھو کر جسم سے ٹکراتی تو کپکپکی طاری ہو جاتی۔ بیگ منزل کے لاؤنج میں موجود نئی نسل، ایک دوسرے سے لا تعلق اپنے اپنے موبائل پر مصروف تھی۔ جہاں موبائل فون نے فاصلے سمیٹ دئیے تھے، وہیں قریب والوں کو دور کر دیا تھا۔ کچن میں خواتین کھانا پکانے کے علاوہ وقتاً فوقتاً چائے بنا کر بیٹھک میں مرد حضرات تک پہنچا رہی تھیں۔بیگ منزل کے سربراہ، سمیع بیگ اپنے کمرے میں بستر پر دراز سوچوں میں گم تھے کہ حماد دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا دبے قدم اندر داخل ہو کر ماحول میں اپنا تاثر چھوڑ گیا۔"بابا جان! آپ آج سب کے ساتھ نہیں بیٹھے؟ "  حماد نے پوچھا۔"سب موبائل پر مصروف ہوتے ہیں میں وہاں بیٹھ کر کیا کروں؟"" ٹھنڈ کے باعث بچے باہر نہیں جا سکتے اسی لئے موبا...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact