تحریر : عنیزہ عزیر
کمر تک آتے ریشم جیسے خوبصورت بالوں میں ہولے ہولے برش پھیرتی، وہ اپنے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ گلابی دیواروں والا خوبصورت سجا ہوا کمرہ جس کی ہر شے میں گلابی رنگ نمایاں تھا۔ کھڑکیوں پر پڑے گلابی مخملیں پردے، جالی دار سفید جھالر جن کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی۔ سفید فالز سیلنگ والی چھت پر جلتی مدہم روشنیاں کمرے کو مزید خوابناک بنا رہی تھیں۔
دیوار گیر الماری  میں ایک طرف شیشے سے نظر آتی ڈھیر ساری گڑیاں سجی تھیں تو دوسری طرف لکڑی کا پٹ لگی بند الماری تھی۔ دوسری دیوار پر اس کا نام روشنیوں کی مدد سے جگمگا رہا تھا۔ اور وہ خود سرخ اسٹرابیری والے سفید ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھی۔
پورے کمرے میں گھومتی نگاہیں بند الماری پر جا کر رک گئیں۔ اس نے برش  اپنے سامنے موجود سنگھار میز پر رکھا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی الماری کی طرف بڑھی۔ الماری کا پٹ کھولا، اندر دنیا جہان کی کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا۔
اس نے اپنی پسندیدہ کتاب اٹھائی اور بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔ کتاب کھولی تو اس میں سے ایک خوبصورت تتلی نکل کر اڑی۔
“گلابی تتلی! کتاب میں؟ ” وہ تحیّر سے بڑبڑائی۔
تتلی دیکھنے میں اتنی مگن ہوئی کہ گود سے کتاب نیچے گر گئی۔ وہ کتاب اٹھانے جھکی تو اس کا ہاتھ زور سے زمین سے ٹکرایا۔
“اُف! ” ہاتھ دوسرے ہاتھ سے تھامتی وہ اٹھ کر بیٹھی۔ ہاتھ دیکھا تو اکھڑے ہوئے سیمنٹ والے فرش پر زور سے لگنے کے وجہ سے ہاتھ پر تھوڑی سی خراش پڑ  گئی تھی۔ آنکھیں مسل کر کھولیں تو اپنے آپ کو جھلنگا سی چارپائی پر پایا۔ ساتھ والی چارپائی خالی تھی۔ جس کا مطلب تھا کہ اماں اٹھ چکی تھی۔
اس نے جھک کر نیچے دیکھا تو بوسیدہ سی کتاب جو وہ سونے سے پہلے پڑھ رہی تھی، نیچے گری ہوئی تھی۔کتاب اٹھا کر  سیدھی ہوئی تو اماں کی آواز سنائی دی۔
“اٹھ جا اب! دن چڑھ گیا ہے۔ لیٹ ہو گئے نا تو باجی نے وہ عزت کرنی ہے کہ کیا بتاؤں۔”
“اٹھ رہی ہوں اماں، اٹھ رہی ہوں اماں۔”
اماں کو آواز دیتی اٹھی۔ کتاب سینے سے لگائی، احتیاط سے اس کو طاقچے پر رکھا اور خراب ہونے کے ڈر سے اوپر کپڑا ڈال دیا تا کہ خراب نہ ہو۔
“آجا نی آجا۔ لگتا ہے آج پھر سپنوں میں کسی اور جہاں کی سیر کر کے آرہی ہے۔”
اس کو آرام آرام سے، دھیما دھیما چلتا دیکھ کر اماں بڑبڑائی۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑبڑاہٹ اس کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی۔
سُنی اَن سُنی کر کے پیڑھی گھسیٹی اور اماں جو پہلے ہی ناشتہ کر رہی تھی اس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔
                               _*_*_*_*_*_*_*_*_*_
ثوما ،اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔  ثوما کا باپ دیہاڑی دار مزدور تھا جبکہ ماں، لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ دونوں کی تنخواہ سے مل ملا کر گھر  اور ثوما کی پڑھائی کا خرچہ نکل  آتا تھا۔اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اس لئے وہ بہت محنت اور لگن سے پڑھتی تھی۔ وہ دن رات سوچتی کہ پڑھ لکھ کر افسر بنے گی تاکہ اپنے والدین کو سکھ دے سکے۔
 ایک دن اس کا باپ  ایک گھر کی تعمیر کا کام کروا رہا تھا۔ اینٹیں اپنے  ہاتھوں پر اٹھائے لکڑی کی سیڑھی چڑھ کر دوسرے مزدور کو پکڑانے لگا کہ ایک دم چکر آنے کے باعث سیڑھی سے نیچے جا گِرا۔ ساتھی مزدوروں  نے انتہائی خراب حالت میں ہسپتال پہنچایا ۔ ہفتہ دس دن موت کی کشمکش میں مبتال ہونے کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملا۔
ثوما اور اس کی ماں کے لئے صدمہ بہت بڑا تھا لیکن پیٹ کی بھوک نے غم بھی منانے نہ دیا۔ ہسپتال اور میت کے کفن دفن کی وجہ سے بہت سارا قرض بھی چڑ گیا تھا اور اماں عدت کے باعث کام پر جانے سے قاصر تھی۔ مجبوراً ثوما کو اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اماں کی جگہ کام پر جانا پڑا۔ سکول تو چھوٹ چکا تھا لیکن اس نے کتابوں سے ناطہ نہیں توڑا تھا۔
ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں آنکھوں میں سجاۓ وہ روز گھر سے نکلتی، سارا دن تھک ہار کر رات کو  بستر پر لیٹتی اور کھلی آنکھوں سے اپنی مرضی کے منظر آنکھوں میں سجانے لگتی۔
خوابوں کے شبستان میں گزری شب اس کے پورے دن کی تھکاوٹ بھلا دیتی۔ اور جس دن وہ خواب میں کسی ایسے منظر کاحصہ ہوتی وہ سارا دن کھویا کھویا سا گزرتا ۔
                            _*_*_*_*_*_*_*_*_*_*_
“ایک تو یہ لڑکی بہت تنگ کرتی ہے آج پھر کچھ توڑ دیا۔ مالکن نے چھوڑنا نہیں ہے۔ کچھ ٹوٹنے کی آواز پر اماں ثوما کو کوستی کچن کی طرف لپکی تو وہاں ثوما، ہاتھ سے بہتے خون سے بے نیاز کانچ کے ٹکڑے ہاتھ سے اکٹھے کر رہی تھی۔
” ثوما! جھاڑو بیلچہ لا کر ٹکڑے اٹھا۔ ہاتھ کی بھی کچھ پرواہ کر لے۔”
“اماں! خوابوں کے شبستان کے ٹوٹنے کے تکلیف کے آگے یہ تکلیف تو کچھ بھی نہیں۔” ٹوٹے لہجے میں اماں کو جواب دیتی کانچ اکٹھا کرتی رہی۔
“چل جھلی! میری دھی کے لئے تو۔۔”
“نہیں اماں!” ثوما نے ماں کی بات کاٹی۔ تھوڑا رک کر پھر گویا ہوئی۔
“ہم جیسوں کے گھروں میں شہزادے نہیں آتے۔ اس لئے شہزادے کی  آس میں زندگی نہیں تیاگ دینی۔ کتابوں سے رشتہ ایسے ہی نہیں جوڑا میں نے۔ کتابیں زندگی گزارنے کے اسلوب ہی نہیں سکھاتیں بلکہ آگے بڑھنے کی راہوں کا بھی پتہ دیتی ہیں۔ ایک دن اپنی تعبیر میں خود حاصل کروں گی اماں!”
کچھ کر دکھانے کا عزم لئے، ہمت اور حوصلے کے دیپ جلاۓ وہ بولتی جا رہی تھی۔
”  بس یہ قرضہ اتر جائے تو کچھ سہولت ہو جاۓ گی۔ میں اپنی تعلیم جاری رکھوں گی۔ پھر ضرور وہ دن آۓ گا جب مجھے اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں سمیٹنی نہیں پڑیں گی بلکہ ان میں حقیقی رنگ بھرنا ہوگا۔”
اس کی باتیں سنتی اماں اس کے خوابوں کے پورا ہونے کی دعا کر رہی تھی۔ جانتی تھی کہ ابھی تو ایک آس ہے اس لئے  وہ خود کو سمیٹ لیتی ہے لیکن اگر یہ خواب پورا ہونے کی آرزو بھی چھن گئی تو وہ کبھی خود کو سمیٹ نہ سکے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact