Tuesday, May 28
Shadow

Tag: انگبین عُروج

“اپنے دسترخوان کی نمائش نہ لگائیے۔” انگبین عُروج،کراچی۔

“اپنے دسترخوان کی نمائش نہ لگائیے۔” انگبین عُروج،کراچی۔

آرٹیکل
انگبین عُروج،کراچی۔ نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے اپنی امت کو تاکید کی ہے،جس کا خلاصہ ہے کہ اچھے پکوان بنائیں تو اپنے پڑوسیوں کو ضرور بھیجیں اور اگر اس قدر استطاعت نہ ہو تو احتیاط کریں کہ اُس کھانے کی خوشبو بھی آپ کے پڑوسی کے گھروں تک نہ پہنچے!! بحیثیتِ مجموعی ہم ایک ایسی قوم تو بن ہی چکے ہیں جن کا دین،ایمان،مذہب سب کچھ کھانا،کھانا اور محض کھانا ہی رہ گیا ہے۔قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ایک خوان اٹھے گا اور دوسرا سج جاۓ گا اور فی زمانہ یہ نشانی اس قدر عام ہو گئی ہے کہ قیامت پاس ہی کھڑی محسوس ہوتی ہے،انا للہ وانا الیہ راجعون!! اُمتِ مسلمہ کی جو حالت ہے،جس کیفیت سے ہمارے مسلمان بہن بھائی اور نبیﷺ کے امتی گزر رہے ہیں کیا ہم جان کر بھی انجان نہیں بنے بیٹھے ہیں؟؟کہیں بھوک سے روتے بلکتے معصوم بچے گھاس کھا کر بھوک کو جھوٹے دلاسے دے رہے ہیں تو کہیں دو دو ماہ سے ہمارے بہن بھا...
کتاب: سائنسی جنگل کہانی ۔تبصرہ :انگبین عُروج

کتاب: سائنسی جنگل کہانی ۔تبصرہ :انگبین عُروج

تبصرے
تبصرہ :انگبین عُروج(کراچی)۔مُصّنفہ کا تعارفمحترمہ تسنیم جعفری ادبِ اطفال کے اُفق پر ایسا روشن ماہتاب ہیں جن کا نام یقیناً کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مُصنّفہ کی شخصیت اور ادب کے لیے ان کی بیش بہا خدمات کے اعتراف میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترداف ہے۔آپ کی مثبت شخصیت عجز و انکساری،نرم خوئی اور اخلاق و کردار میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔گہوارۀ علم و ادب کا روشن و تاباں چراغ محترمہ تسنیم جعفری جنہیں پاکستان میں"ادبِ اطفال میں سائنس فکشن" کا بانی کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا۔فی زمانہ محترمہ تسنیم جعفری کا شمار پاکستان میں ادبِ اطفال کی خدمات اور ترویج کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنے والے چند ایک بڑے ادیبوں میں ہوتا ہے۔محترمہ تسنیم جعفری کا تعلق پاکستان کے علم و ادب سے منسلک شہرِ لاہور سے ہے۔آپ عرصۀ دراز سے شعبۀ تدریس سے وابستہ ہیں،یہی وجہ ہے کہ قوم کے ننھے معماروں اور نوجوانانِ وطن سے بہت گہرا قلبی و ...
افسانوی مجموعہ:آئینے کے پار تبصرہ نگار:انگبین عُروج

افسانوی مجموعہ:آئینے کے پار تبصرہ نگار:انگبین عُروج

تبصرے
تبصرہ نگار:انگبین عُروج۔کراچی مہوش اسد شیخ ایک جانی پہچانی مُصنفہ ہیں جنہوں نے اپنی ادبی زندگی کا سفر تو سوشل میڈیا سے شروع کیا لیکن ہمت و حوصلے سے آگے بڑھتی چلی گئیں اور اب تک مُصنفہ کی مختلف اصناف میں تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔مہوش کے اسلوبِ بیان کا اندازہ انکی تحاریر سے لگانا مشکل ہے۔میں نے چونکہ بیشتر مصنفہ کے لکھے مِزاح اور بچوں کی کہانیوں کا مطالعہ کیا ہے تو میں انہیں شوخ و چنچل اسلوب کی مُصنفہ گردانتی تھی کیونکہ انکی بیشتر تحاریر شوخی و شرارت سے بھرپور ہوتی ہیں۔ انکی تصانیف کی بات کی جائے تو بچوں کے لئے شوخی و شرارت،سسپنس اور تجسس سے بھرپور کہانیوں کا مجموعہ "پروفیسر بونگسٹائن" کافی مقبول رہا۔ان کا معاشرتی و اصلاحی ناول "مہر النساء" جسے ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی اور اب افسانوی مجموعہ "آئینے کے پار" متاثر کن کاوش ہے۔ اس کی وجہ مُصنفہ کی سماجی و معاشرتی مسائل پر گہری...
×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact