Friday, April 19
Shadow

مہوش اسدشیخ  کے  افسانوی مجموعے ” آئینے کے پار” پر اریبہ عائش کا تبصرہ

تبصرہ نگار: اریبہ عائش
مجھے کتاب خریدنے پر اس کے سرورق نے مجبور کیا۔ افسانوی مجموعہ پر اس سے پہلے کبھی ایسا سرورق نہیں دیکھا تھا۔ انوکھی سی منفرد سی نظر آنے والی چیزیں مجھے ہمیشہ ہی بہت پسند رہی ہیں۔ سرورق کو دیکھتے ہوئے میں نے سب سے پہلے سرورق کہانی پڑھنے کا ارادہ کیا۔ شروعات سے ایسا ہی لگا کہ وہی عام سی کہانی ہے لیکن کہانی کا اختتام کمال است، واقعی یہ ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں بن بیاہی، بڑھتی عمر کی لڑکی موجود ہے ۔ ایسی ہر لڑکی آئینے کے پار اک شہر بسائے بیٹھی تبھی تو جی رہی ہے۔ سرورق افسانوی مجموعہ سے میل کھائے نہ کھائے مگر کہانی کے عین مطابق ہے۔ جب جب میری نگاہ سرورق پر پڑتی ہے اس لڑکی کا کرب یاد آ جاتا ہے۔ اللہ پاک ہر لڑکی کا نصیب اچھا کرے آمین ۔
پہلی تحریر “میری کشتی ڈوبی وہاں “۔۔۔ ایک شگفتہ تحریر ہے لیکن اک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ مصنف لوگ اپنی کتابوں پر جوانی کی تصاویر لگا کر جانے کس جذبے کی تسکین کرتے ہیں، واہ کیا خوب چوٹ کی گئی ہے۔ آخری ورق بھی اک عمدہ تحریر ہے، شروعات سنجیدہ ہے مگر اختتام مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اپنی طرز کی اک منفرد کہانی ہے۔
“اعتبار کا موسم” میاں بیوی کے رشتے پر لکھا گیا ایک بہت پیارا افسانہ ہے۔ خدا کرے یہ اعتبار کا موسم سبھی کی زندگی میں سدا بہار رہے۔ آہ۔۔۔! کیسا دلسوز افسانہ ہے، واقعی اپنے بددعا نہیں دیتے لیکن ٹوٹے دل سے آہ نکل ہی جاتی ہے۔
“آخری سورج”! آہ ایک بدبخت کی کہانی ہے۔ کون جانتا تھا کہ سال کا آخری سورج زندگی کا آخری سورج بن جائے گا۔ وہ ماں کب جانتی تھی کہ اس کی دعا اس طرح پوری ہو گی۔
“توبہ کے نفل” دیکھا و سمجھا جائے تو ہم سب کی کہانی ہے، ہم سب پر توبہ کے نفل واجب ہیں۔ چور رستہ بھی ایک منفرد افسانہ ہے،  سب خواتین یہ تحریر اپنے رفیق حیات کو ضرور پڑھائیں۔
“ناولوں کی دنیا”، ناول کی رسیا تمام لڑکیوں کو ضرور پڑھنا چاہیے، حقیقی اور ناول کی دنیا کا فرق واضح رہے۔ خوابوں میں جینے والی لڑکیوں کے لیے حقیقت سے آگاہی ہے۔
روز محشر ایک بہت ہی زبردست افسانہ ہے، افسانچہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔” سونا آنگن “ایک بہت بڑا سبق لیے ہوئے ہے۔ کسی کی گود اجاڑ کر اپنا آنگن بسانا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ “توکل” کتاب کا آخری افسانہ، شروعات بہت پیاری ہے، پڑھتے پڑھتے دل ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے اختتام پر نبیل پر ترس بھی آتا یے اور غصہ بھی۔ کاش اس نے اپنے رب پر توکل کیا ہوتا۔
اس مجموعے کو سب رنگ افسانے کہا گیا ہے تو کچھ غلط نہیں کہا گیا، ایک سے بڑھ کر ایک افسانہ پڑھنے کو ملا۔ ہر افسانہ صرف پڑھنے کا نہیں ہے بلکہ پڑھ کر محسوس کرنے کا ہے۔ پندرہ افسانوں پر مشتمل بہت پیاری کتاب ہے۔ محمد شاہد محمود صاحب نے مہوش اسد شیخ کو منفرد اسلوب کی مصنفہ کہا ہے سو فیصد درست کہا۔ ان کا انداز تحریر الگ سا ہے۔ ان کی پہلی دو کتابیں پروفیسر بونگسٹائن اور مہرالنساء دونوں میری لائبریری میں موجود ہیں۔ کتاب “آئینے کے پار “پریس فار پیس جیسے معتبر ادارے سے اشاعت شدہ ہے۔ آپ بھی یہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مصنفہ یا ادارے سے رابطہ کر سکتے ہیں
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact