تحریر: امانت علی
اس جنگل میں سانپوں کو چرچ کے معاملات بھی سنبھالنے تھے کیونکہ جنگل کے سارے جانور قدرت سے لگاؤ رکھتے تھے۔ جانوروں کو کہیں نا کہیں روحانی تسکین یا خالق سے لگاؤ ضروری تھا۔ یہ عمل جنگل کے لیے ضروری بھی تھا اور بہت اچھے اور مذھبی لگاو والے کیڑے بھی موجود تھے  کچھ کیڑے مکوڑے قدرت سے زیادہ لگاؤ رکھتے تھے اور کچھ کم۔ سارے کیڑے مکوڑے اتنےباعمل نہیں تھے لیکن بعض کیڑوں کی جذباتی لحاظ سے  ہاتھ بھر کی زبان تھی۔  ان کے لیے چرچ و مندر کے بنیادی معاملات مکھی چھوڑ کر ہاتھی نگلے کے مترادف تھے لیکن ہمہ وقت مٹھی میں ہوا بند کرنے کے در پر ہوتے تھے۔  جو اپنے آقاوں کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے تھے۔  عام کیڑے ان کیڑوں کا اپنے سے افضل سمجھتے اور ان کو چرچ کے معاملات سونپے ہوئے تھے اور کو ذرے کا آفتاب بنا رکھا تھا۔ اس طرح جنگل میں چرچ کا نظام بحال تھا
وہ کیڑے جن کو زیادہ سہولیات میسر تھیں جیسا کہ کھانے پینے کے فراوانی، مرغوب غذائیں اور اپنے تئیں جن کو وہ عیاشی سمجھتے تھے ان کا مذھب سے لگاؤ کم  تھا اور کم مراعات یافتہ اور بھوکے ننگے کیڑوں کا مذھب کی طرف جھکاؤ زیادہ تھا سانپوں کو چرچ کے معاملات سنبھالنے کے لیے بھی کچھ ایسے کیڑے مکوڑے چاھیے تھے جو ان کے قابو میں ھوں اور ان کو کسی بھی وقت چرچ یا مذھب کے نام سے، اپنی جیسے کیڑوں کی نسل کشی، صفیں الٹنے  یا دیگر معاملات میں استعمال کیا جا سکے۔ سانپوں کو اس بات میں دشواری ہو رہی تھی کہ کیڑوں کی نسلوں میں سے ایک جیسے کیڑے چند رنگوں کے فرق کی وجہ سے ان کو  کیسے فرق کیا جائے۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایسے خاص قسم سے کیڑے ہوں جن کو الگ شناخت دی جائے۔
اس مقصد کے لیے سانپوں نے اپنے خاص بندوں کے زریعے کیڑے مکوڑوں کے سروں اور پروں کو رنگ کرنے کا پروگرام بنایا۔ یوں ان کو مختلف ادوار میں ان کیڑوں کو پہچاننے میں آسانی ھوتی تھی۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ  سانپوں نے کیڑوں کے سروں اور پروں کو مختلف رنگوں میں رنگ کر الگ الگ جھنڈ بنا دیے۔  ان میں نمایاں رنگ، زرد، سیاہ، سرخ اور سفید تھے۔یوں تو سبھی کیڑوں کا خدوخال و جسامت ایک جیسی ہی تھی لیکن ان کیڑوں کو مختلف رنگوں دیا اس طرح ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی سانپوں نے مختلف طریقوں سے مختلف ادوار میں ان سے کام لینا شروع کر لیا۔ حتی کہ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ایسے کیڑوں مکوڑوں کو اصل دین یا مذہب کی بنیاد سے دور کرتے  ہوئے ان سے مرنے مارنے جیسے کام لینا شروع کیا۔ مختلف ادوار میں چرچ یا مندر کے نام پر کیڑوں کے رنگ بدلتے رھے۔ یوں سمجھیے ان کیڑوں کی ذہن سازی کر کے ایسے کھلونے بنا دیے گے تھے جب جی چاہا چابی مروڑی اور جنگل کا نظام درہم برہم کرنے پر تُل گے۔ایک ہی رنگ، ذات اور نسل کی ان کیڑوں کو خاص حصوں میں تقسیم کر دیا گیااور ان کو مختلف کام دیے گے ۔
یہ ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ بنتے، اپنے خدائی دین کویا  چرچ کو اپنے اپنے طریقے سے ڈھالتے۔  جنگل کے کسی بھی حصے میں فساد برپا کرنا ہوتا تو سانپ کسی ایک سربراہ کو چابی دیتے اور یوں ذہن سازی کے زریعے اصل دین اور مقصد سے ہٹے ہوئے کیڑے کہرام برپا کر دیتے۔ جونہی کوئی سانپ بر سر اقتدار آتا چرچ و مندر کیڑوں کے سربراہ  جی حضوری میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ ان کے جذباتی پن اور کم علمی کی وجہ سے دوسرے کیڑے اور جانور بھی خمیازی بھگتے۔  یہ کیڑےخیالی پلاؤ پکاتے رہتے کہیں ان کا الو بھی سیدھا ہو جائے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر اپنا دین، مذہب اور دیگر ایسے اثاثہ جات بیچنے کو تیار رہتے تھے۔ یہ کیڑوں میں سے وہ طبقہ تھا جن کا ظاہر رحمان کا اور باطن شیطان کا تھا۔ان کیڑوں  نے قدرت کے دیے گےدین اور فطرت سے متصادم اپنے اپنے چرچ کا نظام،  نصاب اور طریقہ طے کر رکھا تھا۔ کیڑوں مکوڑوں کے ایک جیسے مسکن، ایک ہی جنگل کے باسی، ایک ہی دین کے پیروکار اور ایک ہی جیسے طبقے تقسیم در تقسیم ہو رہے تھے۔
  برسراقتدارسانپ اپنے بلوں میں بیٹھ کر اس سب کھیل میں تماشائی کا کردار ادا کر رہے تھے۔  چرچ کا  طبقہ کافی با اثر تھا  اور یوں یہ عام کیڑوں کے جذبات سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ عام کیڑوں نے نہ ہی کبھی اپنے دین کی تعلیمات حاصل کیں اور نہ ہی کبھی اس طرف دھیان دیا بلکہ  ان کو جو رنگ کیا ہوا کیڑا سربراہ بنا دیا گیا انہی کی باتوں پر من و ہن عمل پیرا  ہوتے تھے۔  کیڑوں کی جذباتی خصوصیت اور منفی ذہن سازی نے ان کے بہترین اور فطری دین کو نہ صرف اس جنگل بلکہ ارد گرد کے دوسرے جنگلات میں بھی بندنام کیا ہوا تھا۔ اگرکوئی اچھے طبقے کا جانور ان  سانپوں کی  عادات ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے بہترین مذہب کا پرچار کر نے میں بھی کامیاب ہو جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact