تحریر : ساجدہ امیر

وہ عام لڑکی نہیں ہے، وہ محبت کی چاشنی ہے۔ اس سے باتیں کرو تو دل نہیں بھرتا تھا؛ اس کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے۔ اس کا لمس اندھے کو جینا سیکھا دے، اس کی آنکھیں اس سیارے کی نہیں لگتی وہ چاند کی اٹھائیس منازل میں سے ایک منزل کی ملکہ ہے لیکن کس کی۔۔۔؟ معلوم نہیں ہے۔ وہ مریخ کے رہنے والوں کی طرح کم گو ہے، وہ مریخ کی سردی کی طرح سرد بھی ہے۔ لیکن وہ بن بولے بہت کچھ بول جاتی ہے۔ اس کی ہنسی آبِ حیات ہے جو یمن کے شہر میں دریا کے وسط میں رکھی ایک شیشے کی بوتل میں قید ہے اور کیا تم جانتے ہو؟ آبِ حیات تک ہر انسان نہیں پہنچ سکتا؛ مجھ جیسا گداگر اس تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔

”وہ میری پہنچ سے دور ہے لیکن پھر بھی اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، ایک کینوس پر بکھیرے رنگوں کی طرح جو سفید کپڑے کو رنگین کر دے، ہاتھ میں بندھے اس دھاگے کی طرح جو لوگ اس لیے باندھتے ہیں کہ ان کی منت پوری ہو جائے، میوزیم میں رکھی اس پینٹنگ کی طرح جس کی حفاظت کے لیے بہت سے نگران ہوتے ہیں، میں اس کے گلے کی چین بھی بننے کو تیار ہوں جو اس کے دل کے قریب تر ہوتی ہے۔ لیکن یہ جو ” سکتا ہوں” ہے کبھی “بن گیا ہوں” میں بدل جائے تو مجھ فقیر پر رب کی مہر ہو جائے۔“

پھینکی مسکراہٹ کے ساتھ سلیمان بولا۔

” سنو مہرماہ! تم میری فیضانِ نظر ہو، میری جانِ ادا ہو لیکن میں جانتا ہوں تم میری پہنچ سے بہت دور ہو۔“

یادوں کی چھاپ اتنی رنگین ہوتی ہے کہ صدیوں تک دھندلی نہیں پڑتی، لیکن قدموں کی چھاپ اتنی دھندلی ہوتی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا چلے تو ہر قدم کا نام ونشان مٹ جاتا ہے، کچھ ایسی ہی چھاپ سیلمان کے دماغ پر مہرماہ کی جدائی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی۔ 

تمہارے جانے کے بعد مجھے تمہاری شدید کمی محسوس ہوئی، تب میرے پاس ایسا کوئی نہیں تھا جو تمہاری کمی پوری کر سسکتا، اور ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ تمہاری کمی کوئی اور پوری کر دے۔

”سنو مہرماہ! تم میری ضرورت تو نہیں جو ہر کوئی پوری کر دے۔ تم  میری کمی ہو اور ضرورت ہر کوئی پوری کر سکتا ہے لیکن کمی ۔۔۔۔۔

کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔

اگر کسی چیز کی کمی ہو جائے تو وہ جگہ خیالی ہی رہتی ہے کوئی اور شے اس جگہ کو نہیں بھر سکتی ہے۔ جیسے جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو وہ کمی فقط پانی ہی پوری کر سکتا ہے کسی کا دیا خون نہیں۔ تم بھی میرے لیے اس پانی کے جیسے ہو جس کی کمی فقط تمہارے آنے سے ختم ہوگی پھر چاہے کوئی جان دے یا جہاں دے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“

لیکن مہرماہ اتنی دور جا چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی، آج چھ ماہ ہو گئے لیکن سلیمان کے لیے مہرماہ کا جنازہ آج ہی اٹھا تھا۔ وہ مہرماہ کی موت کو خدا کی مرضی مان لیتا، لیکن اس کے جسم پر وہ نشان ان کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ سلیمان زندگی میں پہلی بار رویا تھا اور ٹوٹ کے رویا تھا جب ہسپتال اسٹاف اور پولیس نے ” اٹمپٹ ٹو ریپ ” کہا۔

ایک خاندانی دشمنی کے باعث وہ اپنی شریکِ حیات کو کھو چکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact