Sunday, May 26
Shadow

بہاولپور میں اجنبی / افسانہ نگار صالحہ محبوب کے تاثرات

تحریر : صالحہ محبوب

بہاولپور میں اجنبی مظہر اقبال صاحب کا ایک خوبصورت سفر نامہ ہے ۔شہر میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آمد مختصر قیام مگر سیاحت مکمل ۔ریلوے اسٹیشن سے شہر کی سیر کا آغاز ۔ہوٹل کی تفصیل ۔اسلامیہ یو نیورسٹی میں پرائویٹ امتحان دینے کے لیے سازگار ماحول آج بھی ہے ۔ریلوے کیمپس کی خوبصورتی سے فرید گیٹ کے اندر کی گلیوں کی سیاحی بہت عمدہ ہے ۔بہاولپور کے اندرون بازار ہمیشہ سے روایتی اشیاء کا مرکز ہیں ۔اگر مظہر صاحب ایک خاتون ہوتے تو یہاں کے گوٹے مقیش اور ہاتھ کی کڑھائی کے کپڑوں کا ذکر ضرور کرتے ۔یہاں کے روایتی زیورات اور ملبوسات کو بھی یاد رکھتے ۔فرید گیٹ میں موجود سوہن حلوہ بھی کھاتے اور یہاں کی میٹھی ٹکیاں بھی ۔
بہاولپور کی لائبریری میوزیم کا اچھا ذکر کیا ہے ۔یونیورسٹی کا اولڈ کیمپس بھی بہت تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔کشمیری ناشپاتی کا ذکر بہت عمدگی سے کیا گیا ہے ۔
بہاولپور کی زبان سرائکی کا اچھا تذکرہ ہے اور شاعر شاکر شجاع آبادی کا بھی ۔
ایک چند دنوں کے مہمان کی حیثیت سے عمدہ مشاہدہ کمال یاداشت اور اچھا لکھنے کا انداز ہے ۔بہاولپور کے نور محل دربار محل اور نوابوں کا ذکر پڑھ کر اچھا لگا ۔
کتاب میں شامل پہال افسانہ بوبا بھی کہانی سے زیادہ صحرا نوردی لگ رہی ہے ۔اچھی بنت کی عمدہ داستان ۔
دوسرا افسانہ ایک بوند پانی بہت خوبصورت تحریر ہے ۔سچائی لفظ لفظ سے نظر آرہی ہے ۔نعمتوں کی قدر کرنے کی دعوت دیتی تحریر ۔مجھے تو سورت ملک کی آخری آیت کی یاد دہانی ہو گئی ۔
سادہ زبان اور رواں انداز میں لکھی کتاب مظہر صاحب کی عمدہ کاوش ہے ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact