Sunday, May 26
Shadow

نصرت نسیم کی خود نوشت پر فضل ربی  راہی کا تبصرہ

فضل ربی راہیؔ
’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ نصرت نسیم کی ایک ایسی اہم خود نوشت ہے جسے صوبہ خیبر پختون خوا کی کسی لکھنے والی خاتون کی پہلی خود نوشت قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کی زیادہ اہمیت نصرت آپا کے منفرد اور مسحور کن اُسلوب کی وجہ سے ہے۔ آپ ایک دفعہ یہ خودنوشت پڑھنا شروع کرتے ہیں تو زبان و بیان کے چٹخارے آپ کو مزید پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔

نصرت نسیم نے بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے سے اپنا تعلق استوار کر رکھا تھا۔ شاید  یہی وجہ تھی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ درس وتدریس کے شعبہ سے بہ طور اردو استاد وابستہ ہوگئیں۔ نثار شہید ڈگری کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد تصنیف و تالیف اور مخلتف فورمز پر علمی و ادبی مضامین لکھنے میں اپنا وقت صرف کرنے لگیں۔ جس طرح ہر خود نوشت نگار اپنے بچپن سے لے کر عملی زندگی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کے حالات سپرد قلم کرتا ہے، نصرت آپا نے بھی اپنے بچپن کے واقعات، ان سے جڑی یادیں اور قریب و دور کے رشتوں کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کچھ ایسے میٹھے انداز میں بیان کی ہے کہ لفظ مجسم صورت اختیار کر گئے ہیں اور اس خود نوشت کا ہر کردار عالم تصور میں زندہ چلتا پھرتا محسوس ہونے لگتا ہے۔


’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، شائستہ اور باوقار خاتون کی خود نوشت ہے جنھیں اپنے مختلف رشتوں سے بے لوث محبت ہے اور جن کا تذکرہ انھوں نے نہایت احترام اور محبت سے کیا ہے۔ یہ ایک ایسی نگاہِ دور رس رکھنے والی ادیبہ کے قلم کی لکھی ہوئی داستانِ حیات ہے جس میں انھوں نے معاشرتی اقدار اور ماضی کی روشن روایات کی ایک خوب صورت جیتی جاگتی تصویر کھینچی ہے۔ ان کے بچپن اور جوانی میں زندگی کے معمولات کس نوعیت کے تھے، لوگ باگ بزرگوں کا احترام کس طرح کرتے تھے، مختلف تہوار کیسے منائے جاتے تھے، شادی بیاہ کے رسم و رواج کیا تھے، کھانوں کے ذائقے کیسے تھے، گرمی اور سردی کس طرح گزرتی تھیں، غم اور خوشی کے کیا تقاضے ہوتے تھے اور عام طور پر لوگ آپس کے تعلقات اور رشتے ناتے کس طرح نبھاتے تھے۔ یہ سب اور اس طرح کے بہت سے دوسرے موضوعات کے دل چسپ اور شیریں تذکروں نے اس خود نوشت کے مطالعہ کو بہت پُرلطف بنا دیا ہے۔

نصرت نسیم نے اپنی زندگی کے تلخ و شیریں واقعات اور تجربات و مشاہدات کا نچوڑ بہت سلیقے اور ادبی چاشنی سے مملو اُسلوب میں پیش کیا ہے۔ کوہاٹ ان کی جنم بھومی ہے اور انھوں نے جا بہ جا کوہاٹ کا تذکرہ اور اس کی سماجی زندگی سے وابستہ یادوں کو اپنے پُر سحر اندازِ تحریر سے اَمر کردیا ہے۔ انھوں نے زمانۂ طالب علمی اور اس کے بعد کے اپنے مختلف اسفار بڑے لذیذ انداز میں بیان کئے ہیں۔ نصرت آپا نے اپنی روحانی کیفیات کو بھی سپردِ قلم کیا ہے اور اپنے خوابوں اور ان کی تعبیروں کا طلسماتی تذکرہ بھی اپنی خود نوشت کا حصہ بنا دیا ہے۔

میں نصرت آپا کو اس خوب صورت اور دل چسپ خود نوشت لکھنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کی ہمت اور جرأت کو قابل رشک گردانتا ہوں کہ خاتون ہوکر انھوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنی خود نوشت لکھی ہے ورنہ وطن عزیز میں ہم نے دیکھا ہے کہ کسی اہم عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد عام طور پر مرد و زن ایک لحاظ سے اپنی زندگی کی سرگرمیاں محدود یا موقوف کردیتے ہیں اور ان کے پاس عملی زندگی کے جو مشاہدات، تجربات اور بصیرت افروز یادیں ہوتی ہیں، وہ دوسروں کو منتقل نہیں کرپاتے۔ اگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی زندگی کے حالات سپرد قلم کریں تو ان کی پوری زندگی کے مشاہدات اور تجربات ایک کتاب کی صورت میں سمٹ کر نئی نسل کے لئے رہنمائی اور کچھ سیکھنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے نصرت آپا کی خود نوشت کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس سے نئی پود بہت کچھ سیکھ سکتی ہے اور اپنے لئے کام یابیوں کے در وا کرنے میں مدد حاصل کرسکتی ہے۔

’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ کی طباعت کا انتظام شعیب سنز پبلشرز سوات نے کیا ہے جب کہ ناشر کی حیثیت سے اس کی تزئین و آرائش لندن میں مقیم پروفیسر ظفر اقبال صاحب اور ان کے ادارہ ’’پریس فار پیس فاؤنڈیشن‘‘ نے کیا ہے۔ 80 گرام کے کاغذ پر نفیس طباعت کے ساتھ اس کتاب کا گٹ اپ بہت عمدہ ہے۔

یہ دل چسپ خود نوشت پشاور میں یونی ورسٹی بک ایجنسی خیبربازار (فون: 2212534 091)، اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ (فون: 0512651656) اور کراچی میں فضلی سنز اردو بازار (فون: 03362633887) کے علاوہ ملک بھر کے اچھے بک اسٹوروں میں دست یاب ہے۔ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات مارکیٹ مینگورہ، سوات (فون03409552373):
 سے یہ کتاب بذریعہ ڈاک بھی طلب کی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact