Sunday, May 26
Shadow

زمین اداس ہے ، وقت کی پکار تصنیف/ قانتہ رابعہ

تبصرہ نگار : قانتہ رابعہ

قرآن بلا شبہہ آسمان سے نازل ہوئی اور الہامی کتاب ہے لیکن اس کا موضوع ،،حضرت انسان ہے۔  انسان اگر اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو تو دنیا کو بھی جنت بنا سکتا ہے اسی لیے اسے اشرف المخلوقات بنایا گیا لیکن وہ اس منصب پر پورا نہ اترے تو قرآن کی زبان میں اسے ،،اسفل السافلین ،کہا گیا ہے  نچلے درجے تک جانے کے لیے انسان اس عقل اور فہم سے بے نیاز ہو جاتا ہے جس کی بناء پر اسے تمام مخلوقات پر فوقیت دی گئی  ان مخلوقات میں سے ایک زمین بھی ہے

نظام شمسی کا ایک حصہ اور انسان کی جائے قرار ہونے کے ناطے اسے ماں کہا گیا ،جب انسان اپنی خواہشات کی پیروی میں اندھا ہو جاتا ہے تو سگی ماں پر ظلم۔کرنے لگ جاتا ہے زمین تو  پھر ماں کی مثل ہے۔

قرآن مجید میں زمین کا ذکر باقی نظام شمسی میں سب سے زیادہ کیا گیا ہے اور اس کی حرمت کا اتنا خیال رکھا گیا کہ اس پر اکڑ کر چلنے سے بھی منع کیا گیا ۔ماں کا سینہ اولاد کے برے اور اچھے رویوں سے بھرا ہوتا ہے ۔یہ ہماری دھرتی ماں ہے جس پر انسان صرف اکڑ کر ہی نہیں چلتا ،فساد میں ہی آگے نہیں نکلتا قتل و غارتگری سے اپنے آپ جو اسفل السافلین ثابت کرتا ہے اور اس زمین پر وہ زیادتی کر بیٹھتا ہے کہ زمیں کو زبان دی جائے تو وہ دنیا میں بھی وہی کچھ اپنی زبان سے بتائے گی جو روز آخرت رب کے حکم سے بولے گی اسے کیا ہوگیا ہے؟ اور وہ کون سے بوجھ ہوں گے جو وہ روز قیامت باہر نکال پھینکے گی؟

قارئین یہ وہی بوجھ ہیں جو اس کتاب ” زمیں اداس ہے “میں جمع کر دئے گئے ہیں زمیں ماں ہے ا س کو سارے دکھ انسان سے ملے ہیں جو کتاب کی  ہر کہانی میں کھول کر رکھ دئے گئے ہیں ۔آلودگی کا دکھ ،جنگلات کی لکڑی کاٹ کر  پرندوں کو بے ٹھکانہ کرنے کا دکھ،نامناسب جگہوں پر دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں سے زمین کا دم گھٹنے کا دکھ ،جانوروں کو اپنی لذت کے لیے شکار کا دکھ ،پلاسٹک بیگز کے ذریعے ہونے والے نقصانات الغرض ہر کہانی زمین کے دکھوں کی داستان ہے اور یہ دکھ وہ ہیں جن سے ہم لاعلم ہیں یا جان بوجھ کر لاعلم رہتے ہیں۔  بظاہر یہ دو دو صفحات کی مختصر کہانیاں ہیں لیکن در حقیقت زمین کے وجود پر وہ ظلم ہے جس کا روز قیامت ہمیں جوابدہ ہونا پڑے گا اور  ان سب کا مرتکب ہو کر ہم اپنے آپ  پر ہی نہیں اپنی نسلوں پر بھی عذاب مسلط کر رہے ہیں ۔کتاب پریس فار پیس فاؤنڈیشن یوکے نے شائع کی ہے اس کی مرتبہ اعلی سطح کی ایوارڈ یافتہ  مصنفہ محترمہ تسنیم جعفری ہیں ۔کتاب کی قیمت صرف چار سو روپے لیکن پیغام لاکھوں کروڑوں روپے کی مالیت سے بڑھ کر ہے۔ ازل سے لے کر   رہتی دنیا تک اس کی اصلاح کے لیے رب العزت کسی نہ کسی کو بارش کا پہلا قطرہ بناتا آیا ہے اور بناتا رہے گا ۔زمین کے آنسو پونچھنے کے لیے ،اس کے دکھوں کے مداوا کے لیے پریس فار پیس پہلا قطرہ ثابت ہوا ہے ۔دعا ہے کہ اب انفرادی و اجتماعی سطح پر اور نجی و سرکاری طور پر اس زمین کے دکھوں کو سکھ میں بدلا جائے م۔جھے خوشی ہیں کہ چند سطور کی کہانی کے ذریعے میں بھی اس خوبصورت کتاب کا حصہ ہوں

امید ہے اس کتاب کو چھوٹوں اور بڑوں میں یکساں مقبولیت حاصل ہوگی ۔میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم کو اس پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔بلاشبہ یہ کتاب ماحولیاتی آ لودگی  کے بارے میں شعور کی بیداری کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact