Sunday, May 26
Shadow

پنجاب : تاریخ و ثقافت تحریر : نسیم اختر

تحریر : نسیم اختر

پنجاب آبادی کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب کو پنجاب کا نام پانچ دریاؤں کی نسبت سے دیا گیا ۔ پنجاب کا لفظ فارسی زبان کےلفظ پنج، بمعنی پانچ اور آب بمعنی پانی سے ملکر بنا ہے ۔یہ متحدہ ہندوستان کاایک بڑا صوبہ تھا ۔جب برصغیر پاک وہند کی تقسیم عمل میں آئی تو اس صوبہ کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجاب کی نسبت سے پنجابی کہلاتے ہیں۔پنجاب جنوب کی طرف سندھ مغرب کی طرف خیبر پختونخواہ اور بلوچستان اور شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباداور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان کی طرف جا ملتا ہے۔14 صدی عیسوی میں ایک مسلمان سیاہ ابن بطوطہ یہاں سیر کرنے کی غرض سے آئے تھے پنجاب کا لفظ ان کی تحریروں میں ملتا ہے ۔مگر اس لفظ کا وسیع پیمانے پر استعمال سولہویں صدی عیسوی میں شیر شاہ سوری کے زمانے میں ملتا ہے جس میں شیر خان کے قلعہ کاذکر ہے۔مگر اس سے پہلے پنجاب کا ذکر مہا بھارت کے قصوں میں بھی ملتا ہے۔جو پنج ندا (پانچ دریاوں )کے حوالے سے ہے۔ابو الفضل بھی آئین اکبری میں پنجاب کا ذکر کرتا ہے

یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا ۔لاہور اورملتان ۔

آئین اکبری میں ایک جگہ ابو الفضل نے پنجاب کا ذکر پنجند کے حوالے سے بھی کیا ہے۔

جہانگیر نے تزک جہنگیری میں اس علاقے کے لیے پنجاب کا لفظ استعمال کیا ہے ۔یہ وہ علاقہ ہے جس میں اسلام کی ترویج اشاعت صوفیااکرام کے ہاتھوں ہوئی،پنجابی ثقافت کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ اس ثقافت کی آبیاری کرنے والے یہی فقیر منش لوگ ہیں ۔انہوں نے اپنے کلام سے لوگوں کے دلوں کو گرمایا اور صوفی ادب کی صورت میں پنجابی ادب کے لئے ایک لازوال ورثہ چھوڑا ہے۔بلھے شاہ ‘خواجہ غلام فرید, مادھولال حسین’ہاشم شاہ اور وارث شاہ کا کلام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔

ان صوفیاء کرام نے اپنی سادگی, مساوات اور رواداری سے غیر مسلموں کو متاثر کیا ۔

یہی وہ خوش قسمت خطہ ہے جہاں محمد بن قاسم پہلی بار ایک بیٹی کی پکار پہ اسلامی لشکر کے ساتھ آیا ۔اور پنجاب کے شہر ملتان تک دین اسلام کی سچی روشنی پھیلائی_

اس نہ صرف یہاں مرد مجاہد بن کر  مظلوموں کی داد رسی کی بلکہ یہاں ذات پات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک منفرد اور عالمگیر دینی نظام دیا جس میں شاہ و گداکو ایک دوسرے پر اگر فوقیت حاصل تھی تو تقوی کی بنا پر۔

مہاراجا رنجیت سنگھ (پیدائش: 13 نومبر 1780ء– وفات: 27 جون 1839ء) پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا۔ تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں اُس کی فتوحات کے سبب سکھ سلطنت کشمیر سے موجودہ خیبر پختونخوا اور جنوب میں سندھ کی حدود سے مل چکی تھی،مہاراجہ رنجیت سنگھ خود ایک پکے سکھ تھے لیکن انھوں نے اپنی حکومت، فوج میں اور اپنے رویے میں مذہب کو کبھی روکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ مہاراجہ رنجبت سنگھ کی حکومت باباگرونانک کے فلسفے پر چلائی جاتی تھی۔ بابا گرونانک کے فلسفے کا سب سے اہم جزو سماجی مساوات اور مذہبی آزادی تھا۔ سماجی مساوات کا اثر رنجیت سنگھ کی حکومت اور ان کی فوج میں صاف دیکھا جا سکتا تھا۔

اللہ رب العزت کا بے انتہا فضل ہے کہ اس نے پنجاب کو  زرخیز میدانوں ، سر سبز کھلیانوں، فلک بوس پہاڑی سلسلوں،بل کھاتے دریاوں،ندیوں جھیلوں اورصحراؤں سے نوازا ہے۔

جہاں اللہ نے اس سر زمین کواپنی بے انتہا ء نعمتوں سے نوازا ہیں وہاں اس سر زمین کو بہادر اور جری سپوت بھی عطا کیے جنھوں نے ہمیشہ اس سوہنی دھرتی کی پکار پر لبیک کہا اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔ جن میں دلا بھٹی ,’رائے احمد کھرل’اور نظام لوہار کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔

چودہ اگست 1947 میں جب پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر ابھرا جہاں سارے برصغیر کے لوگ ہجرت کر کے پاکستان پہنچے وہاں پنجاب کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں ایک اور قربانی پنجاب کے حصے میں ائی تھی۔جی ہاں پنجابیوں کو اپنی ہی سر زمین سے نہ صرف ہاتھ دھونا پڑے بلکہ اپنے پیاروں کی قر با نیاں بھی دیں۔

جہاں بات ثقافت کی آتی ہے تو پنجابی ثقافت کاشمار دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں میں ہوتا ہے اور پنجابی ثقافت پوری دنیا سے ہر خطے کا رنگ اپنے اندر سموئے ہوئے ہےکہ دنیا کی لاتعداد نسلیں اور قومیں باہر سے آکر آباد ہوئیں _

سید سبط الحسن اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

پنجاب کی بہت بڑی آبادی ایران’وسط ایشیا’عراق کے ساحلی علاقوں چین اور یورپ میں نقل مکانی کر گئے۔یورپ کے جیسپی قبا ئل انہیں کئی ایسی نسلوں پر مشتمل ہیں جو پنجاب سے کئی وجوہات کی بنا پر نکلے تھے اور وہ اپنے ساتھ الفاظ اشیا اور تہذیب و تمدن کا بہت بڑا بھنڈار بھی لے گئے۔

لیکن اسکے برعکس یہاں کی زرخیزاور اپجاؤ دھرتی کی وجہ سے اس وسیع و عریض علاقہ میں ہزاروں قبائل اور نسلیں آئیں اور آ کر آباد ہو گئیں۔ اس انسانی سمندر نے ہر نسل کو اپنے اندر سمو لیا۔گویا اس کا ہاضمہ اس قدر تیز ہو گیا کہ جو نسل بھی ائی اس نے بہت آسانی سے اسے ہضم کر لیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،

اس کی وجہ سے یہ رنگ برنگی تہذیب یک رنگ ہو کر ایک کلچر کا روپ دھار گئی۔اور آج انکے میل جول سے وجود میں آنے والی قوم ایک عظیم الشان شاہکار بن چکی ہے،

تعلیم کے میدان میں بھی اس قدیم زبان نے ایک عظیم سرمایہ اپنے اندر سموئے رکھا ہے پنجابی میں سینکڑوں سے زائد کتابیں ایسی ہیں جو اپنے سر ورق اور معیار کے لحاظ سے ہی عمدہ نہیں ہیں بلکہ مواد کے لحاظ سے بھی اعلی معیار کی حامل ہیں ان میں  سفر نامے غیر ملکی ادب کے  ترجمے ۔

 ناول جن میں نوبل انعام یافتہ مصری ناول جس کے مصنف نجیب محفوظ مصری ہیں شامل ہے ۔بے شمار افسانوی مجموعے،تحقیقی کتب،بچوں کے لیے ادب اوربچوں کے لیے چھپنے والے آرٹ پیپرز،اخبار روزنامے ہفت روزہ پندرہ روزہ اور ماہانہ میگزین بھی شامل ہیں اور سالانہ بنیادوں پر پنجابی زبان میں درجنوں کتابیں شائع ہوتیں ہیں۔

پنجابی ادب کا عظیم سر مایہ پنجاب کی لوک داستانیں ہیں

جن میں ہیر رانجھا،سسی پنوں،مرزا صاحباں،سوہنی مہینوال کا محبت کی داستانوں میں ذکر ملتا ہے۔

یہی داستانیں پنجابی ادب کا لازوال ورثہ ہیں ۔مہمان نوازی پنجاب کی پہچان رہی ہے ۔پنجابی اپنے مہمانوں کی آؤ بھگت اپنے مخصوص روایتی کھانوں سے کرتے ہیں ۔

جن میں دیسی مرغ دیسی گھی میں بھونا جا تا ہے۔پنجاب کی روایتی ڈشوں میں ساگ مکئی کی روٹی مکھن کےپیڑے ساتھ لسی اور محبت کی کہانی سے جڑی ہوئی ڈش چوری کا تذکرہ بھی محبت کی داستانوں میں ملتا ہے ۔چوری بھی پنجاب کی خاص ڈش ہے جو لوک داستان ہیر رانجھا میں بتائی جاتی ہے ۔

پنجاب کے اپنے دلکش اور منفرد تہوار ہیں ۔جن بسنت کا تہوار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ مگر ہمارے نوجوانوں کی ناسمجھی کی وجہ سے یہ تہوار پچھلے کئی سالوں سے قانونی جرم بن چکا ہے۔

پنجاب کی خاص پہچان پنجاپی ثقافت کی جان پنجاب کے مخصوص تہوار پنجابی میلے ہیں ۔جو پنجاب کی ثقافت کو نہ صرف چار چاند لگاتے ہیں بلکہ ملک طول عرض میں بسنے والوں لوگوں کے ایک دوسرے کے قریب کرنے کا بھی ذریعہ ہیں ۔

بڑے بڑے عرس جن میں حضرت علی عثمان ہجویری کا عرس مادھو لال حسین کا عرس میلاچراغاں, بابا فرید گنج شکر کاعرس پاک پتن میں شان شوکت سے منایا جاتا ہے

پنجا ب صوفیا کی دھرتی ہے اور پنجابی ثقافت کو صوفی رنگوں سے سینچا گیا ہے جیسے ہی گندم کی کٹائی سے کسان فارغ ہوتے ہیں تو پنجابی لوک ورثہ کے زیر اہتمام پنجاب کے دیہاتوں میں جگہ جگہ میلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مگر آج کے زمانے میں جب انسان ترقی کی دوڑ میں جدید دنیا کے ہم قدم ہونے کے لئے بھاگ رہا ہے تو بہت حد تک وہ اپنی ثقافت اور پرانی قدروں سے دور ہو چکا ہے ۔

      جدید دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے انسان محنت کر رہا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے مگروہ اپنے اصل سے دور ہوتا جا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے کلچر اور روایات کو زندہ رکھنے کے لئے بھی کوشش جاری رکھنی ہیں، کیو نکہ ہماری قدریں اور ثقافت ہی ہماری پہچان ہیں۔۔ان قدروں کو زندہ رکھنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوششوں کی ضروت ہیں ۔ آج ہمیں اپنی قدروں کو زندہ رکھنے کے لئے جن چیلنجز کا سامنا ہے انکا سد باب کرنے کی ضرور ت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact