برطانوی سماج میں پیشین گوئیوں کا چرچا رہتا ہے۔عوام کی صحت کی حفاظت پر مامور ایک ادارے نے سنہ 2060 تک لندن جیسے بھرے پُرے رونق والے شہر پر موسمیاتی تبدیلی کے سنگین مضمرات کی پیشین گوئی کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے۔ اس پیشین گوئی کا لب لباب یہ ہے کہ بدلتی ہوئی آب و ہوا کا مملکت کی صحت پر اثر نہ بھی ہو عوام الناس کی صحت پریہ اثر ضرور پڑے گا۔ گویا یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عنقریب خوشحال ملکوں میں بھی آب و ہوا کی خرابیوں کا تماشہ عروج پر ہوگا۔ اور یہاں کا سماجی ماحول جو موسم کے دلفریب مزاج سے جان پکڑتا ہے اسے بھی نظر لگ سکتی ہے۔ کون جانے کل یہاں بھی کرسمس کا تہوار چلچلاتی دھوپ کی نظر ہوجائے اور سانتا کلاز نیکر اور بنیان پہنے آپ کے لان میں قلفیوں کی ریڑھی کے ساتھ ہاتھ کا پنکھا جھلات ہوا نظر آجائے۔

مذکورہ بالا رپورٹ میں لکھا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں لندن کے باسیوں کی صحت پر شدید منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ اس رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر اثرات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ایسے ایسے انکشافات کیے گئے ہیں جو دل و دماغ کو بالکل بھی بھلے نہیں لگتے ۔بے ضابطگیاں دل کی ہوں یا موسم کی بالآخر خرابیاں ہی پیدا کرتی ہیں۔ موسمیاتی بے ضابطگیوں کی بڑھتی ہوئی شدت کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ برطانوی آبادی کی فلاح و بہبود پر بھی آب و ہوا کی تبدیلی کے مہیب اثرات پڑ سکتے ہیں۔

اسی رپورٹ نے ایک اور دلخراش انکشاف سے بھی پردہ اٹھایا  ہے کہ  سال 2060 تک لندن  میں ڈینگی بخار، چکن گونیا وائرس اور زیکا وائرس پھیلانے والے مچھروں کی بدنام زمانہ نسل  کا  آنا جانا ہی نہیں ہوگا بلکہ یہاں ان کا گھر ہوگا۔ اس کے لیے حالات  ابھی سے سازگار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک پریشان کن پیشن گوئی یہ بھی سرگوشیاں کر رہی ہے کہ عمومی طور غریب ممالک کے لیے مختص بیماریاں 2040 اور 2050 کی دہائیوں تک لندن سے نکل کر مملکت بھر میں پھیل سکتی ہیں۔اس لیے کہ ان حالات کو روکنے کے لیے حکومتیں تو کچھ  نہیں کر رہی ہیں البتہ قدرت ایک انتقامی جذبے کے تحت تمام انتظامات کررہی ہے۔

یہ پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ 2030 تک برطانیہ میں گرمی سے ہونے والی اموات کی تعداد اس کی موجودہ گنتی سے ڈیڑھ گنا تک بڑھ جائے گی۔ بلکہ 2070 تک یہ افسوسناک تعداد خطرناک حد بارہ گنا تک بڑھ جائے گی۔ سال 2050 میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موت کو گلے لگانے والوں کی سالانہ تعداد 10,000 کی مایوس کن سطح تک پہنچ جائے گی۔ ان قیاس آرائیوں میں سے سب سے زیادہ خوفناک،سالانہ اوسط درجہ حرارت  میں 4.3 ڈگری سینٹی گریڈ  تک اضافے کی خبر ہے۔ ۔

مذکورہ رپورٹ میں عمر کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلی کے صحت کے خطرات کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کی طویل مدت کے اندر غیر معمولی رفتار کا مطلب یہ  بھی ہوگا کہ  اس کے مضر اثرات سے مختلف نسلوں کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں کام کرنے کی زیادہ سے زیادہ عمر اگر موجودہ  حد تک ہی  رہتی ہے تو چونکہ درجہ حرارت اس صدی کے وسط میں اپنے عروج پر ہونے کا امکان ہے۔ ایسے حالات میں زیادہ عمر کے افراد کے لیے کام جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔

یہ رپورٹ واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ اگر اس حوالے سے  فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے جاتے  تو موسمیاتی تبدیلی معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کی  جسمانی اور ذہنی صحت پر انتہائی مضر اثرات کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جبکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا  کی وجہ سے صحت عامہ کی مسائل اس حد تک بڑھنے کے امکانات ہیں کہ اس کی وجہ سے موجودہ عدم مساوات  نئی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔

رپورٹ میں آنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں اب اپنے طاقتور اقدامات سے زیادہ تعلق ہونا چاہئے۔ شمسی توانائی، توانائی کی بچت والی روشنی اور غیر فعال یا کم کاربن والی توانائی کے استعمال پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی عمر رسیدہ آبادی کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے ماحول کو بچانے، اپنے طرز عمل کو ڈھالنے یا نئے خطرات کا جواب دینے کے قابل ہونا ہوگا۔ ہمیں معذور افراد، بے گھر افراد ، اور کمزور معاشی حالات کا سامنے کرنے والے افراد کی زندگیوں کو خطرات سے بچانا ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ڈینگی مچھر حشرات الارض سے پھیلنے والے کسی بھی وائرس کی سب سے بڑی بیماری کا سبب بنتا ہے، جس میں ہر سال 10,000 اموات اور 100 ملین انفیکشن ہوتے ہیں۔ اس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا کہ  عوام  کے پاس مچھروں پر قابو پانے کے لیے مضبوط پروگرام موجود ہوں یہ حکومتوں کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔  اس سے قبل ایک اور برطانوی ادارے لندن سکول آف  ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن  کے سائنسدانوں اور محققین  کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن علاقوں میں ڈینگی بخار جیسی  بیماری پہلے سے موجود ہے وہاں  آبادی میں ہونے والی تبدیلیاں ڈینگی جیسی بیماریوں  میں بہت زیادہ اضافہ کرے گی، جس سے 2080 میں ایک اندازے کے مطابق عالمی آبادی کا 60 فیصد اس وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے میں پڑ جائے گا۔

مظہر اقبال مظہر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact