Sunday, May 26
Shadow

تاریک راہیں۔سیدہ عطرت بتول نقوی

تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

اس میں تو دو راے نہیں کہ لیڈی ڈیانا ایک بے حد حسین وجمیل خاتون تھی ساری دنیا اس کے حسن وجمال کی معترف ہے وہ منسکرالمزاج بھی تھی  حسن کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی فطرت کی بھی ہمیشہ تعریف کی گئی لیکن کیا وہ عقل مند ، زیرک ،ذہین وفطین بھی تھی؟  کیا اس نے  شاہی خاندان کی پابندیاں توڑ کر کوئی فایدہ حاصل کیا ؟ بلکہ شاہی خاندان سے ناطہ ٹوٹنے کے بعد وہ در بدر ہوگئی  ایک بے   پناہ حسن رکھنے والی شہزادی  کے لیے  کوئی معمولی بات ہے کہ اس کی شادی کی آ فر کو کوئی ٹھکرا دے  جب پاکستانی ڈاکٹر حسنات نے اس سے شادی سے انکار کیا ہوگا تو اس کی شہزا دگی اور حسن نے توہین محسوس نہ کی ہوگی ؟ اور پھر  کیا گارنٹی تھی کہ  دو دی الفائد اس کے ساتھ مخلص تھا اور وقت گزاری نہیں کر رہا تھا ، ماں کے رتبے پر فائز ہونے کے باوجود  اس نے شوہر کی برائیوں کو پیش نظر رکھا ، شوہر اچھا نہیں تھا تو اسے دل کی دنیا سے نکال کر پھینک دیتی صرف ماں بن جاتی تاکہ آ ج اس کا چھوٹا بیٹا انتشار کا شکار نہ ہوتا  پابندیوں کو اسی طرح برداشت کرلیتی جیسے کیٹ میڈلٹن  نے قبول کیا اور اپنے بچوں کے ساتھ ہمیشہ خوش باش نظر آتی ہے حالانکہ پابندیاں بھی وہی اور ملکہ بھی وہی جس سے ڈیانا کا اختلاف رہا اور کیٹ نے اسی ملکہ کے ساتھ اتنے سال گزار دییے ہوسکتا تھا کہ چارلس ڈیانا کی مستقل مزاجی سے اور برداشت سے آ ہستہ آ ہستہ راہ راست پر آ جاتا بچوں سے ہمیشہ قریب رہا بیوی سے بھی قریب ہو جاتا لیکن ساری دنیا کے فوٹو گرافرز جو ڈیانا کے حسن کو ہر اینگل سے ایکسپوز کرنا چاہتے تھے اسے احساس دلا چکے تھے کہ وہ بے پناہ حسن کی مالک اور منفرد ہے

اس کے حسن وجمال سے محظوظ ہونے والے بہت تھے لیکن کسی نے اسے یہ احساس نہیں دلایا کہ چارلس سے شادی سے پہلے تمہیں کوئی جانتا نہیں تھا ۔چارلس سے منگنی کے اعلان کے بعد ہی ڈیانا راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئی۔ شاہی خاندان نے بہت عزت ووقار کے ساتھ اسے اپنایا اس کی شادی پریوں کی کہانی تھی۔ اس شاندار شادی لاکھوں افراد نے دیکھا۔  شاہی خاندان میں اگرچہ بہت مشکلات تھیں لیکن اس خاندان کا حصہ بننے کے بعد صبر وتحمل اور برداشت سے کام لینا چاہیے تھا اور ماں بننے کے بعد تو اور زیادہ  ، لیکن اختلافات اتنے بڑھے کہ طلاق تک نوبت آ ئی  اور پھر دربدری، اگر شاہی خاندان کی پابندیاں توڑ کر کچھ حاصل ہوتا تو بات بھی تھی بس وہ تاریک راہوں میں ماری گئی ۔کون جانے وہ حادثہ تھا یا قتل ، کاش آ ج وہ  کمیلا کی جگہ چارلس کے ساتھ ہوتی لیکن اس کی بہو کیٹ عقل مند ہے ۔جس نے ساری پابندیاں خوش دلی سے برداشت کیں اور مستقبل کی ملکہ کے مقام تک پہنچنے کے قریب آ پہنچی اور دوسری بہو میگھن  بھی عدم برداشت کا مظاہرہ کرکے بیوقوفی کر رہی ہے۔ شوہر اپنی اصل سے جدا ہے ۔  اصل میں پاکستانی اخبارات وجرائد میں برطانوی شاہی خاندان پر بہت لکھا گیا ۔الیکٹرانک میڈیا میں بھی بہت زکر ہوتا ہے لیکن سب نے تصویر کا ایک ہی رخ دکھلایا ۔ڈیانا کے حسن اور مظلومیت کے ہی قصے سنے حالانکہ جناب مریم کی تعلیم تو ڈیانا کے لیے بھی تھی۔ اپنے زخم چھپا کر  لوگوں کی باتیں برداشت کرکے خدا کے تحفوں یعنی بچوں کو محرومی اور انتشار سے بچانا ۔

1 Comment

  • Rehana Ejaz

    بہت خوب ۔ ہونے کو بہت کچھ ہو سکتا تھا ۔ شاید ڈیانا زندہ رہتی تو بچوں کی خاطر کوئی نہ کوئی کمپرومائز کر ہی لیتی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact