Sunday, May 26
Shadow

نثری نظم: کچھ باتیں آج فرض کرتے ہیں| ہانیہ ارمیا

ہانیہ ارمیا
فرصتوں کی بہار میں جاناں
چلو آج ہم تم حقیقتوں کے دائرے سے نکلتے ہیں
کچھ باتیں فرض کرتے ہیں
فرض کرتے ہیں
گہرا عشق سوتا ہے تمھارے میرے دل کی آغوش میں
جو شوخ لمحوں میں دھیرے سے گدگداتا ہے
اس کی مدھم سی سرگوشی
رات کے سناٹوں میں
گونجتی ہے روح کے نہاں خانوں میں
مگر قسمت کے خوف میں بہہ کر ہم
اس ضدی لہرِ عشق کو
بیگانے پن کی دیوار بنا کر واپس موڑ دیتے ہیں
چلو آج یہ بھی فرض کرتے ہیں
کہ وہی وقت انمول ہے
جو قربتوں کی سوغات لیے
ہنستا مسکراتا دوڑتا آتا ہے
مگر رازِ الفت عیاں ہو جانے کے ڈر سے
ہم ان نایاب لمحوں کو
مصروفیت کی آگ میں جھونک دیتے ہیں
فرض کرتے ہیں
زندگی جو کٹ رہی ہے
وہ بےجان ہے
زندگی کو زندہ بنانے کے لیے
ایک ساتھ چلنا ضروری ہے
مگر یہ عشق ادھورا رہ جائے گا
یہ ساتھ مکمل نہ ہو پائے گا
اس لیے سنو جاناں
یہ جو کھیل ہے فرض کرنے کا
حقیقت سے الجھنے کا
اسے بس فرصتوں کے نام کرتے ہیں
اور پھر سے مردہ سانسوں کو لیے
جیون میں آگے بڑھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact