Sunday, May 26
Shadow

انجانی راہوں کا مسافر پر دانیال حسن چغتائی کے تاثرات

تبصرہ نگار : دانیال حسن چغتائی
انجانی راہوں کا مسافر نام بڑا پر کشش معلوم ہوتا ہے اور نام سنتے ہی قاری مچل اٹھتا ہے کہ وہ اس کتاب کو ضرور پڑھے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ نام میں کیا رکھا ہے تو ان سے ہم متفق نہیں ہیں۔ اس خوبصورت سفرنامہ کو امانت علی صاحب نے لکھا ہے اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے نہایت دیدہ زیب میں اس کتاب کو شائع کیا ہے ۔ کتاب کھولتے ہی سب سے پہلے جو خاص چیز معلوم ہوتی ہے وہ گرانی کے اس دور میں اسی گرام کاغذ پر کتاب کی اشاعت ہے اور سچی بات ہے کہ یہی کتاب کی عظمت ہے کہ کتاب نے اشاعت کے بعد ہمیشہ زندہ رہنا ہے ۔ مصنف نے کتاب کا انتساب اپنے والد کے نام کیا ہے ۔ اگلے صفحے پر مصنف کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ معروف مقرر قاسم علی شاہ صاحب کی قیمتی رائے بھی کتاب کا حصہ ہے ۔ ترکی کی سرگزشت کی ابتدا خاصی جاندار رہی اور ترکی سے ہماری محبت اجاگر ہوتی نظر آئی ۔ اس کے بعد قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے ذریعے کیسے رابطہ ہوا اور کیسے یہ سفر ممکن ہوا، کی روداد ملتی ہے ۔ لاہور سے پہلی اڑان میں لاہور ائیرپورٹ اور سفر کا احوال ملتا ہے ۔ اتاترک کی سرزمین میں مصنف ترکی کی سرزمین پہنچ جاتے ہیں ۔ اس سے آگے جدید و قدیم ترکی اور خلافت عثمانیہ کا احوال پڑھنے کو ملتا ہے ۔ نیلی مسجد استنبول اور آیا صوفیہ کا مختصر تعارف اس سے آگے ملتا ہے ۔ ترکی کے مشہور زمانہ میوزیم میں رکھے گئے اسلامی تبرکات کا ایمان افروز تذکرہ اس سے آگے پڑھنے کو ملتا ہے ۔ قونیہ ، ارے واہ کیا خوب شہر ہے ۔ جہاں کی فضاؤں میں مولانا رومی کے محبت ناموں کی خوشبو آج تک محسوس ہوتی ہے ۔ تقسیم سکوائر کا مختصر تعارف زبردست ہے ۔ اس سے آگے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار پر زیارت کا ایمان افروز تذکرہ ملتا ہے ۔ اور اس کے بعد ترکی کے بازاروں کی داستان بھی خاصی دلچسپ ہے ۔ آخر میں اسلام آباد واپسی اور تصاویر کا تڑکا لگا کر کتاب کو مزید خوبصورت بنایا گیا ہے ۔


کتاب کے اگلے حصے میں دور کرونا کا قرنطینہ سفر کی داستان بیان کی گئی ہے جو مصنف کو حادثاتی طور پر درپیش ہوا ۔ غیر متوقع سفر کو خاصے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس سفر کو پڑھتے ہوئے میں یہی سوچتا رہا کہ غم روزگار انسان کو کہاں کہاں سے گزار جاتا ہے ۔ ابتدا میں کینیا کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ ابتدا میں اسلام آباد سے کراچی کے سفر کا احوال ملتا ہے ۔ جس کے بعد کراچی سے دبئی تک کا دلچسپ سفر درپیش ہوتا ہے ۔ جس کے بعد کینیا کے شہر نیروبی اور ہوٹل کی کارگزاری ملتی ہے ۔ چونکہ یہ ایک غیر متوقع سفر تھا تو پھر آگے کے صفحات میں مختلف جگہوں پر سیر و سیاحت کا تذکرہ ملتا ہے ۔ کینیا کی پہلی جمعہ نماز کا تذکرہ ایقان افروز رہا ۔ کرنسی تبدیل کروانے تک مصنف نے پورے کینیا کی سیر ایک ہی نشست میں کروا دی۔ نیروبی میں آخری دن اور کرونا ٹیسٹنگ خاصا دلچسپ ثابت ہوا ۔ جب سب کے نتائج منفی آئے تو کیسے خوشی دیدنی تھی ۔
بحثیت مجموعی یہ ایک اچھا سفرنامہ رہا جس میں ادبی تصنع کے بجائے سادہ اسلوب زبان کو ترجیح دی گئی ہے جو مجھے بہت پسند آئی ہے اور جو لوگ گھر بیٹھے ہی ترکی اور کینیا کی سیر کرنا چاہتے ہیں ان کی لائبریری میں یہ کتاب ضرور موجود ہونی چاہئے۔ کتاب کے درمیان میں اور آخر میں تصاویر نے کتاب کو مزید خوبصورت بنا دیا ہے۔ میں تو یہ کتاب پڑھ کر چیدہ چیدہ نکات آپ کو بتا چکا ہوں۔ اب آپ کی باری ہے کہ کتاب خریدیں اور ایک شاہکار سے لطف اندوز ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact