Sunday, May 26
Shadow

کتاب “بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں”پر ہانیہ ارمیا کا تبصرہ

ہانیہ ارمیا

اس وقت میرے ہاتھ میں کتاب بعنوان “بیتے ہوئے کچھ دن” از قلم نصرت نسیم ہے۔ بلاشبہ کتاب بہت خوب صورت ہے اس کتاب کا سرورق بہت نایاب اور کلاسک نوعیت کا ہے۔ مصنفہ نے بھی پیش لفظ میں ذکر کیا کہ کتاب کا ٹائٹل ان کے عزیز بھتیجے حیدر تمثیل نے کئی بار ڈیزائن کیا اور اس کے بعد اس کی فائنل صورت منتخب ہوئی۔ کتاب کے حتمی سرورق میں پبلشنگ ادارے کے ڈیزائنر کا ہاتھ ہے۔ پریس فار پیس کی انتظامیہ کی محنت قابل تحسین ہے۔ سرورق میرے نزدیک بہت اہمیت رکھتا ہے سرورق وہ پہلی صورت ہوتی ہے جو کتاب کو پکڑنے اور اسے اندر تک دیکھنے پہ مجبور کرتی ہے۔ جس طرح انسانی وجود میں چہرہ انسان کی شخصیت میں اہم مقام رکھتا ہے، بالکل اسی طرح کتاب کا سرورق بھی اسکے چہرے کے مترادف ہے۔ اور میں اس  کتاب کے سرورق سے بہت متاثر ہوئی۔ کتاب کی اشاعت بہت اعلی پائے کی ہے اسکے صفحات پبلیشر ادارے کی نفاست اور ادب سے محبت کا پتہ دے رہے ہیں۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ آپ اگر کسی کو تحفتاً یہ کتاب دیتے ہیں تو وہ اس کتاب کو پڑھے بنا صرف سرورق اور طباعت دیکھ کر ہی متاثر ہو جائے گا۔
کتاب کا مواد مصنفہ کی خود نوشت پہ مشتمل ہے مجھے لگتا ہے کہ افسانہ اور کہانی لکھنے کی بجائے اپنی خود نوشت لکھنا زیادہ مشکل ہے۔ کیونکہ اس تحریر میں ہم اکثر وہ باتیں بھی سامنے لاتے ہیں جو صرف ہمارے دل و دماغ کی سوچوں تک ہی محیط ہوتا ہے۔ وہ باتیں جو کسی سے کہہ نہ پائیں اور لکھ کر ساری دنیا کو بتا دی جائیں بہت جرات مندانہ اقدام ہے۔
مصنفہ کی یہ خود نوشت قسط وار ایک عالمی اخبار میں شائع ہوتی رہیں، اسکے بعد اسے کتابی شکل دی گئی۔ ساٹھ برسوں کی طویل داستان ہے یہ۔
مصنفہ کا ادبی ذوق باکمال ہے مجھے اس کتاب کے ورق ورق نے متاثر کیا۔ خاص طور آخر میں مصنفہ کی یادوں کی تصاویر نے۔ کتاب میں شاعری بھی ہے، سنجیدگی بھی، یادیں بھی، شوخ تصاویر بھی۔ نصرت صاحبہ سے ملے بنا میں کہہ سکتی ہوں یہ ادبی افسانوی داستان کی ہیروئن سے مشابہ ہوں گی۔
مصنفہ کا تعارف کتاب میں بھی موجود ہے کچھ جملے میں بھی لکھے دیتی ہوں نصرت نسیم ادب کے ساتھ تدریس کے شعبے سے بھی منسلک ہیں انھوں نے چودہ سال شہید ڈگری کالج رسالپور میں اردو پڑھائی، اسکے ساتھ وہ کالج میگزین کی ایڈیٹر کے فرائض بھی انجام دیتی رہیں یہ ان کی تحریر کردہ تیسری کتاب ہے اس سے پہلے وہ دو کتابیں “کہکشاں” اور “آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی” لکھ چکی ہیں۔
نصرت نسیم نہ صرف اچھی مصنفہ ہے بلکہ باکمال شاعرہ بھی ہیں۔ ان کی لکھی نظم “الحمد للّٰہ” کتاب کو مزید اچھوتا انداز دے رہی ہے۔ محترمہ کے ادبی ذوق اور پبلشنگ ادارے کی محنت نے اس کتاب کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔
مصنفہ کے تعارف اور نظم الحمد للّٰہ کے بعد محترمہ نصرت نے پیش لفظ خود اپنے بارے چند باتیں لکھی ہیں کہ کس طرح وہ لکھنے کی طرف راغب ہوئیں ان کی زندگی میں والدین، اساتذہ کا کیا کردار رہا؟ وہ کس طبیعت کی تھیں؟ شوہر اور بچوں نے کیسے ان کا ساتھ قدم بہ قدم ساتھ دیا؟ یہ سب کچھ پیش لفظ میں پڑھنے کو ملے گا۔ انھوں نے اپنی طالبات کی لگن کو بھی اس باب میں سراہا ہے۔
شجاعت علی راہی،صفدر ہمدانی، ناصر علی سید، غلام حیسن غازی، سعود عثمانی، ڈاکٹر ثروت رضوی، ڈاکٹر محسن مگھیانہ، ان تمام بڑی شخصیات کے کتاب اور مصنفہ سے متعلق نادر الفاظ کتاب میں محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ خوبصورت بات یہ تھی کہ ان تمام ہستیوں کی سوچ و خیال اور الفاظ کو عنوان دے کر کتاب میں ایک باقاعدہ باب کی صورت دی گئی ہے جو قابل تحسین ہے۔ اسکے بعد مصنفہ نے “اظہار تشکر” باب میں ان تمام لوگوں کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کے قیمتی الفاظ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پبلشنگ ادارے پریس فار پیس کے سی ای او محترم ظفر اقبال کے پرخلوص تعاون اور معاونت کی بھی وہ مشکور ہیں۔
کتاب کا انتساب بہت سارے قریبی لوگوں کے نام ہے جن میں مصنفہ کے والدین، اساتذہ ، بہن، پھوپھو، شوہر، بچے، دوست اور منتخب کتابیں ہیں۔
مصنفہ نے اپنی خود نوشت کو ایک طویل داستان کی صورت پیش نہیں کیا، بلکہ قارئین کی آسانی کے لیے اسے درجہ بہ درجہ حصوں میں تقسیم کر کے مختلف عنوانات دے کر آسان فہم بنایا ہے، تاکہ عمر کا ہر حصہ اور اس سے جڑی کہانی اور یاد بآسانی واضح ہو۔ دراصل عالمی اخبار میں شائع خودنوشت تیس اقساط میں شائع ہوئی تھی کتاب میں بھی بالکل اسی طرح مواد شامل کیا گیا۔
داستان کا آغاز 1965 سے پہلے کے دور سے شروع ہوتا ہے جو مصنفہ کے پرائمری سکول کا زمانہ ہے۔ یہیں سے نصرت نسیم نے اپنی یادوں کی کہانی شروع کی۔
مزید کتاب کی داستان سے آگاہی کے لیے آپ کو کتاب پڑھانا ہو گی کیونکہ کچھ مجھ جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو پوری کتاب پڑھنے کی بجائے مرکزی خیال پڑھ کر ہی مکمل تحریر کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مگر میں یہ چاہتی ہوں کہ میری طرح آپ سب بھی مصنفہ کی یادوں سے محظوظ ہوں اور وہی محسوس کریں جیسی خوشی اور سکون مصنفہ نے اسے لکھتے ہوئے محسوس کیا تھا۔
کسی بھی کتاب کو داد تب ہی ملتی ہے جب قاری کتاب کو پڑھتے ہوئے وہی احساس اپنے اندر بھی محسوس کرے۔ جو ادیب لکھتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ نصرت نسیم اپنا احساس قاری میں منتقل کرنے میں سو فیصد کامیاب رہی ہیں۔
مصنفہ کے لیے نیک خواہشات۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact