Sunday, May 26
Shadow

پہلا گھر، تحریر: دانیال حسن چغتائی

تحریر: دانیال حسن چغتائی

یہ قصہ ابو الانبیاء اور جد الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ ان کی اولاد میں بہت سے نبی ہوئے۔ جن کی تعداد چار ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ کہانی سورہ بقرہ میں پہلے پارے میں بیان ہوئی ہے۔ اللہ نے جو بھی امتحان دیا وہ اپنے ہر امتحان میں کامیاب رہے۔ جیسے آگ میں پھینکا جانا، بیوی بچوں کو بے آب و گیاہ ریگستان میں چھوڑنا ، یا پھر ننھے بچے کی قربانی کرنا۔

اللہ تعالی نے انہیں بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی اور جب بچہ تھوڑا بڑا ہوا تو حکم ہوا کہ مکہ کے صحرا میں ماں بیٹے کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی لیکن وہ اس میں کامیاب رہے۔ اللہ نے ننھے اسماعیل علیہ السلام کے قدموں سے مکہ میں زم زم کا چشمہ جاری کر دیا اور یوں یہاں آبادی ہو گئی ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی کبھی بیوی اور بیٹے کو ملنے آتے تھے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 30 سال ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کام کا ارادہ کیا جس کے لیے انہوں نے بیٹے کو اس کی جگہ پر چھوڑا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ پہنچے تو اسماعیل علیہ السلام زم زم کے قریب بیٹھے تیر بنا رہے تھے۔ باپ بیٹے کی ملاقات ہوئی سعادت مند بیٹا کھڑا ہوگیا اور باپ کو گلے ملا۔ اس ملاقات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ کا حکم بتایا اور بیٹے نے بھی فورا مندی ظاہر کر دی کہ اللہ کا حکم ہے تو دیر کیسی۔ بیٹے کی رضامندی کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قریب ایک جگہ پر اشارہ کیا جو دیگر مقامات سے کچھ اونچی تھی وہاں پر اللہ کی بنیاد رکھی گئی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لگاتے رہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو لگاتے رہے۔ آخر میں ایک جگہ خالی رہ گئی ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑیوں پر جب وہ پتھر ڈھونڈنے گئے تو ان کو وہاں پر فرشتے ملے جنہوں نے ان کو سفید پتھر دیا جو بالکل سفید تھا۔ واپس آکر انھوں نے اپنے والد کو بتایا کہ یہ پتھر فرشتے دے کر گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور یوں جنت کے پتھر کو خالی جگہ پر لگا دیا گیا۔

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ عربی میں اسود کالے کو کہتے ہیں اور یہ پتھر بھی کالا ہے کیونکہ جو لوگ عمرے یا حج پر یاد جاتے ہیں سب اس کو چومتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگوں کے گناہوں کی اثر کی وجہ سے یہ کالا ہوگیا ہے ورنہ پہلے یہ سفید تھا۔ مسلمانوں کے لیے یہ پتھر بہت متبرک ہے۔

جب دیوار کچھ اونچی ہو گئی اور حضرت ابراہیم کا ہاتھ اوپر تک نہیں پہنچ رہا تھا تو نیچے ایک پتھر رکھا گیا جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہوکر باقی کا کام کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشان اس پر ثبت ہو گئے اور یہ پتھر آج تک موجود ہے جسے ہم مقام ابراہیم کہتے ہیں۔ یہاں مسلمان دو نفل پڑھتے ہیں۔

اب ایک حیران کن بات یہ ہوئی کہ جیسے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ بلند ہوتا ، یہ پتھر بھی خود بلند ہوتا چلا جاتا ہے جیسے لفٹ لگی ہوئی ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم میں اس جگہ کو آباد کرنے کی دعا کی اور اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انہی کی اولاد میں سے ہوئی۔

تھوڑے دنوں میں یہ عمارت مکمل ہوگئی جسے ہم خانہ کعبہ، بیت اللہ یا اللہ کا گھر کہتے ہیں۔ جسے اللہ کا گھر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مرکز ہے۔ اللہ کے حکم سے قائم ہوا۔ نماز اسی کی طرف رخ کر کے پڑھتے ہیں۔ حج عمرہ کی ادائیگی اس کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ یہاں پر آکر لوگ طواف کرتے ہیں اور یہ ہدایت کا مرکز ہے۔ اللہ کے گھر سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ یہاں رہتے ہیں۔ اللہ تو ہر جگہ موجود ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی کہ اے اللہ اسے امن کا شہر بنا دے اور اللہ نے دعا کو یوں قبولیت بخشی کہ آج مکہ دنیا کا مصروف ترین شہر ہے۔  لاکھوں لوگ ہر وقت یہاں موجود ہوتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا ثمر نظر آتا ہے۔ اللہ نے اپنے خلیل کا تذکرہ اس طرح زندہ رکھا کہ آج تک درود ابراہیمی میں ہم ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact