تبصرہ کتاب  : بہاولپور میں اجنبی //    تبصرہ نگار : نعمان حیدر حامیؔ   

 چند دن پہلے مظہر اقبال مظہر کی تصنیف ”بہاولپور میں اجنبی“ کے مطالعہ کا موقع ملا تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تاریخ اور تحقیق سے لکھنے والے ابھی بھی موجود ہیں۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ایسی منفرد اور جامع تصنیف زیرِ مطالعہ آئی تو پڑھ کر جس قدر مزہ آیا ناقابل بیان ہے۔

“بہاولپور میں اجنبی”نہایت معلوماتی اور دلچسپی سے بھرپور  کتاب ہے۔ اس میں تہذیب اور ثقافت کے ساتھ ساتھ نوابوں کے دور کی خوب عکاسی کی گئی ہے۔ مصنف مظہر اقبال مظہر ایک منجھے ہوئے لکھاری کے ساتھ ساتھ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔

 کتاب ”بہاولپور میں اجنبی“ کا نفسِ مضمون سفر نگاری ،تاریخی پسِ منظر،دکھ درد اور نوجوان نسل کو ماضی کی حسین یادوں سے واقفیت حاصل کروانا ہے۔ ساری کتاب کے موضوعات ایک طرف اور کتاب میں موجود دو افسانے ”دل مندر“ اور ”ایک بوند پانی“ اپنی مثال آپ ہیں۔ دونوں افسانے سوز و گداز اور درد بھرے ہیں۔

 پہلے افسانے ”دل مندر“ میں ماں کی محبت، پیار اور دلی غمگینی کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے ، جبکہ دوسرے افسانے میں اللہ ربّ العزت کی عظیم نعمت ”پانی“ کی ایک بوند کی اہمیت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

تھر کے لق و دق صحرا میں پیش آنے والی مشکلات ، گرم ریت پر چلنے والے معصوم چہروں کے جذبات اور مناظر کو احسن طریقے سے قرطاس کی زینت بنایا گیا ہے۔

یہ کتاب ہمارے ادب میں ایک بہت بڑا معلوماتی اضافہ ہے۔ یہاں پر کتاب کے پبلشرز ادارہ “پریس فار پیس فاؤنڈیشن “ نے جس محنت سے کتاب پبلش کی ہے اگر اس محنت کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ حق تلفی کے مترادف ہوگی۔

دعا ہے اللہ پاک مظہر اقبال مظہر کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے آمین۔

Discover more from Press for Peace Publications

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact