Tuesday, May 21
Shadow

ارشد ابرار ارش کی “ریزگاری”/تحریر: کومل شہزادی

کومل شہزادی

ریزگاری کے مترادف الفاظ دھات کا سکہ یا پیسہ وغیرہ کے ہیں۔لکھاری بعض اوقات اپنی زندگی کا احوال اپنی لکھت میں قلمبند کردیتے ہیں وہ چاہے فکشن کی صورت میں ہو یا سخن کی صورت میں ہو۔زیر نظر تصنیف”ریزگاری” ارشد ابرار کا افسانوی مجموعہ ہے جو ٢٠٢٣ء میں پریس فار پیس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔جو٢٢۴ صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں ٢٢ افسانے شامل ہیں۔ہر کہانی اپنے اندر ایک الگ ہی قصہ رکھتی ہے۔اول افسانہ “قتلِ آب” ہے جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ کہانی کا موضوع کیا ہوگا تو کہانی کا موضوع پانی کی قلت ،بے حسی جو کہ ایک بوڑھے کے ذریعے پانی کی قلت سے ہونے والی تباہی اور مستقبل میں اس سے ہونے والی اموات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔کہانی کار نے بہت عمدہ انداز میں اس المیہ کی جانب توجہ دلائی ہے اور اس کہانی میں ایک مثبت اور فکر انگیز پیغام  بھی دیا ہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:

“پانی کے ذخیرے بناو۔اپنے لیے،اپنے بچوں کے لیے،اپنی آنے والی نسلوں کے لیے۔جاو!! ابھی بھی یہاں بیٹھے رہے تو موت تمہارے سر تک آپہنچے گی۔”

مجھے یہ افسانہ پڑھتے ہوئے منٹو اور نجم الحسن رضوی کے افسانے ذہن میں آئے کہ اس نوعمر افسانہ نگار کے ہاں فکر کے وہ تمام پہلو موجود ہیں جو جلد اسے سنجیدہ لکھنے والوں کی فہرست میں لاکھڑا کریں گے۔منٹو نے پانی بند ہونے کے سلسلے میں افسانہ لکھا اور نجم الحسن رضوی نے کراچی میں پانی کی قلت پر افسانہ قلمبند کیاجن کے اثرات مجھے ارشد کے اس افسانے میں بھی ملتے ہیں۔افسانہ “چراغ ” جس کا موضوع ایک ادیب کی آپ بیتی محسوس ہوتی ہے جو اپنی لکھت صفحہ قرطاس پر اتارنا اپنی بساط میں شامل کرچکا ہے اور اپنی کتاب کی مقبولیت پر آرزو رکھتا ہے جس پر وہ پرامید ہے۔ایک ادیب کی طرززندگی اور لکھت سے اس کی عقیدت ہمیں اس کہانی میں مل جاتی ہے اس افسانہ میں  مصنف کی زندگی کی کہانی جھلکتی ہے۔
جیسے افسانہ نگار رقمطراز ہے:
” میں بھی واقف ہوں نئے زمانے کی ترجیحات سے۔مگر یہ کتاب اپنے اندر آفاقیت رکھے ہوئے ہے۔دیکھنا ایک زمانہ معترف ہوگا اور عشروں تک یہ آئندہ نسلوں کے زیر مطالعہ رہے گی۔”
افسانہ “گستاخ ” جس میں دنیا وآخرت کی تکرار ملتی ہے اور کہانی کار فکر مند ہے کہ
“آج کل قبر کی فکر کس کو ہے خیر دین !تم بھی کمال کرتے ہو۔یہ نیا زمانہ ہے اب لوگ صرف اس دنیا کا سوچتے ہیں۔”

معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر جن میں مسجد میں چوری اور طاقتور کی مظلوم پر زورآزمائی کی جانب مصنف نے خوب کنایہ انداز میں اس برائی کو چند کرداروں سے تذکرہ کردیا ہے۔علاوہ ازیں پروفیسرخلیل ،حاجی نصیر اور شیدے کے کرداروں سے اس معاشرے کے اُس ظلم کا تذکرہ کیا گیا ہے جو مظلوم طبقے کی بے بسی کا مزید تماشا بناتے ہیں اور حاجی نصیر اور پروفیسر خلیل کے ہاتھوں شیدے پر ظلم یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ کمزور افراد پر ظلم کرنا معاشرے کے حاجی نصیر اور پروفیسر خلیل جیسے افراد اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جنہیں سزا اور انصاف محض کمزور طبقے کے لیے نظر آتا ہے۔اس کہانی کے آخر میں شیدے کا احوال قارئین کو بھی افسردہ اور نم آنکھ کردے گا۔

“شیدے کی ادھیڑی ہوئی بے گوروکفن لاش ابھی بھی وہیں پڑی تھی اور اب شام کے سائے بڑھتے جارہے تھے جبکہ مسجد کے عقب میں واقع دوسرے گلی کے ایک ٹوٹی دیوار والے کچے مکان میں چار جوان لڑکیوں کی بوڑھی ماں اپنے گھر کے واحد کفیل کی واپسی کی منتظر دروازے پر آنکھیں رکھے بیٹھی تھی۔”

نو عمر افسانہ نگار  معاشرے کے متوسط طبقے کے مسائل اور حالات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ایک باکمال افسانہ نگار کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے واقف ہو۔مزید برآں بڈھا سالا،ساتویں سمت،اداکار،مسیحا،قرض ،دھوپ کا سفر وغیرہ منفرد افسانے شامل ہیں۔
علاوہ ازیں ان کی کہانیوں کے موضوعات وہی ہیں جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جسے کہانی کی صورت میں ڈھالنا ارشد ابرار کو خوب آتا ہے۔
ارشد ابرار کی کہانیوں میں اصلاحی پہلو ،روشن خیالی اور فکری انداز بھی نمایاں ہے۔ان کے کردار متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب کردار ہمارے ہی معاشرے کے ہیں جو ہمیں اپنے اردگرد گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ان کا مکالماتی انداز کہانی کی نسبت زیادہ عمدہ ہے جس سے کہانی میں مزید نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔افسانے پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ منجھے ہوئے کہانی کار ہیں جبکہ یہ ارشد کا پہلا مجموعہ ہے۔اسلوب سادہ ورواں ہے۔اسلوب میں سادگی کے ساتھ روانی بھی ہے۔مشکل الفاظ کا استعمال نہیں ملتا جس سے عام قاری کو کہانی سمجھنے میں دقت محسوس ہو۔رومانویت سے ہٹ کر لکھنا بھی کہانی کار کو منفرد کرتا ہے یہ خصوصیت ہمیں ارشدابرار کے ہاں مل جاتی ہے۔ریزگاری کی کچھ کہانیاں آپ بیتی کا رنگ لیے ہوئے ہیں جیسے مستنصر حسین تارڑ کا کچھ فکشن سفرنامے کا رنگ لیے ہوتا ہے اسی طرح ابرارارشد کے ہاں کہانیوں میں آپ بیتی رنگ جھلکتا ہے۔سب افسانے منفرد ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک کہانی ہے۔ان کی کچھ کہانیوں میں ویسی ہی پختگی ہے جیسے منجھے ہوئے افسانہ نگار کے ہاں ہوتی ہے۔المختصر ،اس مجموعے کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ مستقبل میں مزید عمدہ کہانیوں کے ساتھ منظر عام پر آئیں گے اور اہم کہانی کاروں کی فہرست میں شامل ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact