Sunday, May 26
Shadow

ناول ” دھند لے عکس”/ مُبصرہ؛ انگبین عُروج

مُبصرہ؛ انگبین عُروج۔

کراچی،پاکستان۔

مادّیت پرستی اور بھاگ دوڑ میں صَرف ہوتی بیشتر زندگی کہ جہاں ہر ذی نفس دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اور دنیا کی رنگینیوں کو حاصل کرنے کی جستجو میں خود کو ہلکان کرتا دکھائی دیتا ہے،وہیں کچھ لوگ آج بھی بظاہر دنیا کی دوڑ میں شامل ہوتے بھی باطنی طور پر فقیری کا لبادہ اوڑھے روحانی دنیا کے مکیں ہیں۔جن کی ارواح محض خالق و مخلوق کی محبت میں غرق ہیں،جو کسی اور روپ میں دنیا میں رہتے ہوۓ بھی اپنا اصلی روپ،اپنا باطن دنیا سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔

چاند چمکتا ہے تو اس کی روشنی کیسی چمکدار معلوم ہوتی ہے،چاندنی کی ٹھنڈک کیسا لُطف دیتی ہے لیکن یہ روشنی،چاندنی خود چاند سورج سے مستعار لیتا ہے جبکہ سورج سدا آگ اگلتا،جھلساتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔عین اسی طرح خالقِ کائنات کے کچھ مقرب بندے اپنی ذات کو حقیقی دنیا کی وحشتوں اور ویرانیوں کے صحرا میں تمام عمر جُھلسا کر،مخلوق کے لیے باعثِ صَد محبت اور منزل کے لیے زادِ رہ ہوتے ہیں۔

آذاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی نوجوان طبقے کی نمائندہ اُردو ادب میں نووارد ادیبہ،مُصنّفہ و افسانہ نگار محترمہ کرن عباس کرن صاحبہ جو ایک ایم فِل اسکالر اور خوبصورت اسلوب و بیان رکھنے والی شخصیت ہونے کے ساتھ اپنے دل میں روحانی دنیا آباد رکھتی ہیں،ان کا دل تصوّف کے وجد میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

۲۰۱۸ میں مُصنفہ کا افسانوی مجموعہ “گونگے خیالات کا ماتم ” شائع ہوا۔تعلمی مصروفیات سے فراغت کے بعد ۲۰۲۲ میں کرن صاحبہ نے قارئین کی پذیرائی اور مقبولیت کے سبب سنڈے میگزین میں شائع ہونے والے اپنے قسط وار ناول کو مکمل کتاب کی شکل میں شائع کروایا،جس کی خوبصورت طباعت و اشاعت کا سہرا اردو ادب کی خدمت میُ کوشاں ادارۀ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کو جاتا ہے۔

ناول کا نام “دھندلے عکس” اپنے اندر بے پناہ وسعت و گہرائی رکھتا ہے۔سرورق میں نظر آتا بکھرتے رنگوں میں دُھندلا سا عکس آپ کو متحیر و متجسس کرتا ہے۔مُصنفہ کا کہنا ہے کہ یہ ناول لکھتے وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا اور کیوں لکھ رہی ہیں کیونکہ کبھی کبھی خود شاہکار تخلیق کرنے والے کو اندازہ نہیں ہوتا کہ خالقِ کائنات اُس سے کس طرح یہ کام لینے والا ہے۔

میرا اپنا مزاج تھوڑا مختلف ہے،میں ناولوں پر افسانوی مجموعوں،سفر ناموں اور مضامین کے مطالعہ کو فوقیت دیتی ہوں۔جس کی ایک وجہ فی زمانہ روایتی ناول نگاری اور کم و بیش ایک جیسے موضوعات کی تکرار ہے،نیا پن اور جِدّت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔سو جب یہ ناول “دھندلے عکس” مجھے موصول ہوا تو اپنے مزاج کے سبب ناول کا مطالعہ مجھے گِراں و بوجھل محسوس ہوا اور چاہ کر بھی کئی دنوں تک میں اس کے مطالعے کے لیے وقت نہ نکال پائی۔

ناول کی عرق ریزی کے آغاز پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ناول کے اسلوب میں جابجا تشبیہات و استعاروں کی بُنت کو سمجھنے میں کافی مشکل پیش آئی۔چونکہ میں خود ادب سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں لہٰذا میں نے محسوس کیا کہ یہ ناول ایک ادنٰی سی طالبہ کے ذوق سے بہت اعلٰی پاۓ کا ہے۔

مُصنفہ نے ناول کے پلاٹ کو تین مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے،جس کا مقصد ناول پڑھتے ہوۓ آپ پر ازخود واضح ہوتا جاۓ گا۔

ناول کا پہلا دور جسے اضطراب و بے قراری کا دور کہنا بے جا نہ ہو گا،ناول کے کرداروں رسیم اور اسراء کے وجود میں پلتی وحشتوں کے مثل قاری کو بھی مضطرب کیے دیتا ہے جبکہ نایاب کا شوخ و چنچل،رنگوں،پھولوں اور تتلیوں سے محبت کرنے والا کردار شگفتگی کا احساس بھی دلاتا ہے۔

مطالعے کے دوران کئی مرتبہ دل و دماغ اور روح کی بہترین ترجمانی،تشبیہات و تمثیلات اور ناول نگاری کی بیشتر تکنیک پر مُصّنفہ کی مضبوط گرفت اور زبان و بیان پر مکمل عبور دیکھتے ہوۓ میرے لیے کرن عباس صاحبہ کی کم عمری اور مُصنّفہ کی یہ منفرد تخلیق معمّہ بنی رہی۔عام طور پر نوجوان لکھاریوں کا ایسے اچھوتے موضوع پر لکھنا تو دور سوچنا بھی شاید محال ہوتا ہے۔

تمثیل نگاری کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے؛

“روح کے بے کراں دشت میں دیوانگی کا برہنہ پا رقص اب بھی جاری ہے۔اندھیرے اپنی ہی تاریکی سے خوف زدہ ہو کر روشنیوں سے اپنے وجود کے خاتمے کی دعا کرتے ہیں۔یہی حال تاریک وحشت کے زندانوں میں قید تڑپتی بلکتی روحوں کا بھی ہے”

مصنفہ ناول کے ہر کردار کو کسی نہ کسی تخلیقی صلاحیت سے آراستہ کر کے دراصل کائنات کے تخلیق کار کی تخلیق کی جھلک کرداروں کے فن میں خالق کی وَصف کی صورت دیکھتی ہیں۔ایک موقع پر فَن کی تعریف میں لکھتی ہیں؛

“فن،فن کار کے انتہا کی پیداوار ہے،کوئی بھی فن یوں ہی وجود میں نہیں آ جاتا۔خیال کے پُرخار صحرا میں برہنہ پا تپتی ریت یہ قدم رکھ کر جھلسنا پڑتا ہے۔دیوانگی کی دیوار پر ٹھوکریں لگا لگا کر دنیا سے بے گانہ ہونا پڑتا ہے۔فن،ضبط کی تاریک کوٹھری میں قید ہو کر بے زبان جذبات کو زبان دے کر تخلیق پاتا ہے”۔

ناول کا دوسرا دور مرکزیت و یکتائی کے محور کے گِرد گردش کرتا ہے،اس دور کی ورق گردانی کرتے ہوۓ یہ ناول آہستہ آہستہ کیفیت بن کر مُجھ پر طاری ہونے لگا اور مصنفہ پر الہامی کیفیت کا گمان سا ہونے لگا کہ ایک نوجوان ناول نگار روایتی انداز و اسلوب سے ہٹ کر بے شک لکھ سکتا ہے لیکن اپنی ذات کے اندر روح میں پنہاں خاموشی،دِل و دماغ کے سماعتوں کو چیرتے شور کے باوجود کیسے سُن سکتا ہے؟؟

روحانی تربیت،روح کی پرتوں کے اندر جھانک کر اپنی ذات کے ‘دھندلے عکس’ پر جمی دُھند کی دبیز تہہ کو مِٹا لینے کا راز پا لینا ایک زندگی میں شاید ہم جیسے دل و دماغ کی حکمرانی میں رعایا بن کر چلنے والوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا پھر سوچنے کی بات ہے کہ مُصنفہ روحانی و الوہی تربیت کے کس درجے پر فائز ہو کر ظاہر سے باطن کے طویل تر سفر پر نکل کر حقیقی زندگی کی وحشتوں،ویرانیوں کے کانٹوں بھرے دشت سے دامن تار تار اور روح زخمی ہونے کے باوجود ثابت قدمی اور استقامت سے نہ صرف کرداروں کی ذات کا دھندلا عکس روح کے شفاف آئینے میں ڈھونڈ کر اِس دھند اور گدلے پن کو “محبت” کے پانی سے وضو کروایا بلکہ طلب کی آگ میں ان کی روحوں کو جُھلسا کر کندن بنانے میں بھی کامیاب رہیں۔

ہم بنی نوع انسان کائنات کے اسرار و رموز جاننے کی ہمہ وقت جستجو کرتے ہیں لیکن خالق کی تخلیق کردہ سب سے بہترین تخلیق “انسان” یعنی خود اپنی ذات کا سفر شروع کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔یہی خوف،اندیشے اور واہمے ہمیں اپنی ذات کا دھندلا عکس ڈھونڈنے سے روکتے ہیں۔دل و دماغ کی وضاحتیں اور دلائل سننے میں ساری عمر کی جمع پونجی لگا دیتے ہیں ہیں مگر اپنے اندر چھپے دُھندلے عکس کو نہ ڈھونڈ پاتے ہیں نہ ہی اس عکس کا دھندلا پن صاف کر کے اپنی روح کا راز جان پاتے ہیں۔

مادیت پرستی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے اندھادھند بھاگتے بھاگتے اپنے اندر کا انسان تو کہیں بہت دور روتا بلکتا چھوڑ آتے ہیں اور محض ایک روبوٹ بن کر مصنوعی زندگی گزار دیتے ہیں۔ہم اپنی روح میں جاری خامشی کا رقص نہ ہی دیکھ پاتے ہیں نہ ہی اس خامشی کی چیخیں ہمیں سنائی دیتی ہیں۔

مُصنفہ نے عمدگی سے تشبیہات کی تکنیک کا بخوبی استعمال کرتے ہوۓ تخلیق کار کی تخلیق سے اس کی دیوانہ وار محبت و اُنسیت کے احساس کو دلائل سے بیان کیا ہے۔وہ لکھتی ہیں،

“ہم اپنی شخصیت کے پرخچے اڑاتے ہیں،اپنے آپ کو تباہ حال کر لیتے ہیں،خیالات کا نوالہ بنتے ہیں،تب جا کر کوئی تخلیق سامنے آتی ہیں۔جیسے کوئی انسان اپنی اولاد فروخت نہیں کر سکتا ایسے ہی میں اپنی کسی تصویر کو محض پیسے کے عوض کسی کو نہیں سونپ سکتا۔”

خالقِ کائنات نے اپنی اشرف ترین تخلیق کے بارے میں بھی انہی احساسات کی نشاندہی فرمائی ہے،جب وہ کہتا ہے کہ؛

“میں اپنے بندوں سے ستّر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔”

یوں کائنات کے سب سے بڑے تخلیق کار نے اپنے چنیدہ بندوں میں اپنی تخلیق کے چند اوصاف کی جھلک ودیعت فرماتا ہے۔مُصنفہ کے قلم سے نکلے الفاظ، خیالات و تصورات میں بھی تخلیق کار نے تخلیق کا خاص وَصف ودیعت فرمایا ہے،جس کی جھلک ان کی تحریر کی ہر سطر میں واضح نظر آتی ہے۔

کوئی مصوّر ہو،شاعر،لکھاری یا کوئی نغمہ ساز،وہ اپنی تخلیق کی انتہا کو اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب اس کے فن کو مرکزیت کی معراج مل جاۓ۔جب اس کے فن کو یکتائی اور اپنا گردشِ کا دائرہ محور کی صورت حاصل ہو جاۓ۔

انسان پر جب آگہی کے دَر کھلتے ہیں،وہ شعور کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس پر ایسی ایسی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس سفرِ آگہی میں ثابت قدم رہنا اس کا کڑا امتحان بن جاتا ہے،عموماً طلب کی پُرخار راہ میں طالب کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔

کرن عباس صاحبہ نے ناول کے تیسرے اور آخری دور میں ناول کے کرداروں کو اضطراب سے یکتائی و مرکز کے مل جانے کے بعد روح کو قرار کی منزل تک کا سفر طے کرتے دکھایا ہے۔

طالب کی طلب اسے مطلوب تک کیسے پہنچاتی ہے،روحانیت کی طلب میں ترکِ دنیا پر آمادہ روحانی دنیا کے مسافروں کو کیسے دنیا کی حقیقی زندگی میں رہ کر خالق کی مخلوق سے محبت کو اپنا شعار بنا لینا ہی دراصل خُدا سے ملاتا ہے کہ خدا اپنی ہر تخلیق کے دل میں محبت کی صورت ہی بستا ہے۔رومی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛

“What you seek is seeking you”۔

یعنی “طالب و مطلوب دونوں کو ہی ایک دوسرے کی تلاش ہوتی ہے”۔

ضرورت ہے تو سچی تڑپ اور ذات کے دھندلے عکس کو ڈھونڈ کر اس دھندلاہٹ اور میل کچیل کو دور کرنے کی

الغرض ناول کا پلاٹ مربوط اور بے جھول رہا،کہانی کی بُنت پر مُصنفہ کی گرفت مضبوط رہی۔تین ادوار پر مشتمل ہونے کے باوجود ہر کردار کو بے حد عمدگی سے نبھایا گیاہے، ہر کردار اپنے آپ میں مکمل نظر آتا ہے۔حتٰی کہ مصنفہ نے سولہویں صدی کی مصوّرہ “غادہ” کی روح کا جسم سے آذاد ہو کر وقت کا سفرطے کر کے اس زمانے میں رسیم کے کرب و اذیت کو مرکزیت اور قرار بخشتے ہوۓ پیش کیا ہے،میرے نزدیک دو زمانوں کا یہ تقابل و مِلاپ ناول نگاری کی مشکل ترین تکنیک ہے۔ناول میں شامل نایاب کے کردار کی موقع بر محل شاعری آذاد نظموں کی صورت بے حد خوبصورت تاثر پیش کرتی ہے اور شاعری کے دلداہ قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا عنصر قائم کیے رکھتی ہے۔

مصنفہ نے تشبیہات و استعاراتی ذریعے سے بے حد احسن طریقے سے ہر ایک منظر کو قلمبند کیا ہے۔رات کی تاریکی و وحشت،بہار کا موسم ہو یا خِزاں کا ذکر ہو،درد و غم کی لذت کو بیان کرنا ہو یا زندگی کی حقیقی تصویر کی منظر کشی ہو،آپ مصنفہ کی منظر کشی کے اچھوتے و منفرد بیان کی داد دئیے بِنا نہ رہ پائیں گے۔

“سارے شہر میں قیامت کا شور بپا تھا لیکن اس گھر میں موت کی سی خاموشی چھائی تھی”۔

میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ اس ناول کو جذب کی شدت اور روحانی کیفیت کے ساتھ پڑھنا اس کا حق ہے۔ناول کی عرق ریزی کے دوران آپ کے باطن کو روحانی تربیت کی سِمت حاصل ہو گی۔شعور و آگہی کے کے متعلق روح میں اٹھتے بنیادی سوالات کے جوابات کسی حد تک آپ کے اضطراب کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

نوجوان مُصنفہ کرن عباس کرن کے لیے اس خوبصورت تخلیق پر مبارکباد و نیک تمنائیں پیش کرتی ہوں۔دعا ہے کہ روحانیت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کے بعد پروردگار ان کے اس سفر کو دوام بخشے،زورِ قلم مزید بُلند ہو آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact