مبصر۔۔انعام الحسن کاشمیری

ارشد ابرار ارش کی ریزگاری افسانہ نگاری کا ایک شاندار مجموعہ ہے جس کی اشاعت کا سہرا پریس فار پیس پبلی کیشنزکے سر ہے۔اس کی اشاعت پریس فار پیس کی عمدہ ترین اشاعتوں میں سے ایک ہے۔مجھے اس لحاظ سے اس کی اشاعت پر زیادہ خوشی ہے کہ ایک نوجوان لکھاری نے بڑے نستعلیق انداز میں اپنی مہارت کا بین ثبوت فراہم کرتے ہوئے اس عہد کے بڑے افسانہ نگاروں میں جگہ پانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔۔ریزگاری کا جب سرورق انتخاب کی غرض سے سوشل میڈیاپر پیش کیا گیا تو میرے سمیت اکثریت نے اسی سرورق کو بہترین قرار دیا تھا لیکن تب مجھے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ یہ سرورق دراصل ایک شاندار افسانوں کے خوبصورت مجموعہ پر مشتمل ہوگا اور جسے عہد حاضر ہی میں نہیں مستقبل میں بھی بھرپور پذیرائی ہر مکتب پر ہر طبقے سے ملے گی۔ارشد نے پانچ سالہ عرق ریزی کو اس ریزگاری میں سمویا ہے جس میں اس کی محنت ،جستحو جدوجہد، لگن اور شوق اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ہر افسانے کی بنت اور اٹھان بڑی گہرائی سے کی گئی ہے۔ ہر عمارت ایک دوسرے سے بالکل جدا ،الگ الگ دیدہ زیب ڈیزائن، دل کو موہ لینے والے نقوش ، رقبے،منزلوں ،کمروں اور راہداریوں پر مشتمل ہے لیکن اس کےباوجود  وہ ایک ہی صانع کی کاریگری کا حیرت انگیز عجوبہ ہے جس کی فی زمانہ توقع رکھنا ممکن نہیں۔اس کے باوجود ارشد نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا بلکہ وہ اس فن کی معراج کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔سچ یہ ہے کہ اگر ارش اپنا تعارف اور تصویر بیک ٹائٹل کا حصہ نہ بناتا تو تب احساس ہوتا کہ کسی بزرگ تخلیق کار کی رشحات صفحہ قرطاس پر بکھر کر قاری کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں لیکن اس مرحلے پر البتہ یہ سوال بہرحال ضرور پیدا ہوتاہے کہ اگر “ریزگاری “کا تخلیق کار اس کے ٹائٹل پر بنی بوڑھے کی تصویر جیسا ہے تو پھر اس سے قبل وہ کہاں تھا؟۔”ریزگاری” سے پہلے اس کی کہانیاں کیا منظر عام پر نہ آئی تھیں؟ اگر ان کا کوئی وجود تھا تو وہ کہاں تھااور اب تلک اپنی موجودگی کا احساس کیوں نہیں کرواسکا؟ چنانچہ جب ان سوالوں کے جواب تلاشنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ارش ہی کا مجسم وجود اس معمر تخلیق کار کے روپ میں سامنے آکھڑا ہوتا ہے جس کی پلکیں بھیگے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور جس کا بچپن لڑکپن ایک خوشبو کی صورت اس پر سایہ فگن ہے گو کہ اس کی لطافت اب دھیرے دھیرے دھواں بن کر اڑ رہی ہے۔

ارش کی ایک اور کمال خوبی یہ ہے کہ اسے تحریر کی روانی پر مکمل عبور حاصل ہے۔ وہ اس روانی کی بہتی ندی کو اپنی مرضی سے جس جانب چاہے موڑدیتا ہے اور قاری کو ہرگز اندازہ نہیں ہوپاتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ ریت کے ڈھیر کے اوپر پانی کا تالاب بنائے اور پھر اس میں سے نالیاں نکالتا ہوا پانی کو اپنی مرضی کے مقام تک لے جائے۔”ریزگاری” بھی ریت کے ڈھیر کے اوپر ایک ایسا ہی تالاب ہے اور ارش وہ بچہ ہے جس نے ہر تالاب میں سے کہانیوں کی نالیاں نکالتے ہوئے انھیں اس مقام تک بڑی عمدگی کے ساتھ پہنچایا ہے جس کا وہ خواہاں تھا۔ ایسا فراست و ذہانت خال خال ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ابرش بڑی خوبی کے ساتھ کسی افسانے کا بیج بوتا ہے اور پھر وہ اس کے کھیت کی آبیاری اس انداز میں کرتاہے کہ آخرکار پری بھری تیار فصل میسر آجاتی ہے جس کی حسیں کونپلیں ،شاخیں ،تنے  اور خوشے اس  قدر دیدہ ذیب ، لذیذ،  خستہ اور ذائقہ دار ہوتے ہیں کہ زبان اس کا احساس پاتے ہی معدہ کو لب حلق تک لبریز کرڈالتی ہے۔ اس کے باوجود بھوک یا تشنگی باقی رہتی ہے۔ یہی ایک افسانہ نگار کی کامیابی ہے کہ قاری اس کی تحریر کا رسیا ثابت ہو۔” ریزگاری” ارش کی اس شاندار کامیابی کا بین ثبوت ہے کہ جس کا ہر افسانہ نہ صرف پوری توجہ، تنہائی کی سات پرتوں میں لپٹی تنہائی کی توجہ میں پڑھنے اور اس سے حظ اٹھانے سے تعلق رکھتا ہے۔۔ابرش نے روایتی کے بجائے عہد حاضر میں آج کے انسان یا انسانیت کو درپیش مسائل کو موضوع بنایاہے اور کہیں وہ روایات کی پاسداری کرتا ہوا دکھائی بھی دیتا ہے تو اس میں بھی اس نے اپنے فن کے اظہار کو وہ اوج عطا کیا ہے جس نے روایت کو جدیدیت کا عمدہ پیراہن لپٹا دیا ہے۔ 

“قتل آب “میں جس طرح پانی کی کمیابی کے شکار انسان کی بپتا بیان کی گئی ہے یہ افسانہ نہ صرف پڑھنے بلکہ غور و فکر کرنے کا متقاضی ہے۔ مجھے اس کا تجربہ راولپنڈی میں قیام کے دوران شدت سے ہوچکا ہے۔ اس شہر میں پانی کی شدید کمی ہے۔ شہری بورنگ کے ذریعے سینکڑوں فٹ زیرزمین سے پانی حاصل کررہے ہیں۔ واٹرٹینکروں کے ذریعےپانی مہنگے داموں خریدا جارہاہے ۔ اس کے برعکس لاہور جہاں پانی سرکاری پائپ لائن سے سستے داموں وافر مقدار میں مہیا ہورہاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس کی بالکل قدر نہیں۔پانی کا ضیاع خوب زوروں پر ہے جسے دیکھ کر سخت قلق ہوتاہے۔ “قتل آب “میں صرف پانی ہی کے قتل کا نوحہ نہیں بلکہ اس پر منحصر انسانیت کا نوحہ بیان کیا گیا ہے۔پانی ہوگا تو حیاتیات قائم رہے گی۔

سزا نام کے افسانے میں نفسیاتی کشمکش اور پھر اس کے زیراثر رونما ہونے والی کیفیات کا اتارچڑھائو خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔اس کا اختتام بھی متاثر کن ہے۔اس افسانے کی ابتدائی سطور ہی ارش کی لفاظی اور کیفیات کے اظہار پر مضبوط گرفت کا بین ثبوت ہیں۔” یہ انسان کا مسخ شدہ اور مکروہ ترین چہرہ تھا۔ انسان جسے حکم ربی سے مسجود ساکنان فلک ٹھہرایا گیاتھا۔ انسان جو اب مطعون خلائق ہوگیا۔ یقینا نوری مخلوق بے آب و گیاہ بیابان میں تڑپتے اس معصوم کے بے کفن لاشے پر اور انسانیت کے پہلے قاتل کی اس درندگی پر متحیر اور انگشت بدنداں ہوگی”۔

ارش کے تمام افسانوں کا ابتدائیہ ہی غور وفکر کی دعوت دیتے ایسے اعلی جملوں پر مشتمل ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ارش نے قلم اٹھانے سے قبل کلاسیکی ادب کو اپنی روح کی پاتال میں اتاراہے جو کہ آج کل کے لکھاریوں میں مفقود ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ بس لکھنا چاہتے ہیں۔الفاظ یا اردو لغت ارش کی گھٹی میں پڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے جس کا ایک بخوبی اظہار افسانے خطوں میں مخفی محبت میں ہوتاہے۔ خطوط کا یہ سلسلہ باپ بیٹے کے مابین ہے جس میں والد اپنی تمام تر پدرانہ محبت و شفقت کا اظہار جس پیرائے میں کرتا ہے وہ پڑھ کر قاری یقینا ارش کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بیک وقت باپ اور بیٹا بنتے ہوئے ارش نے جن دلی کیفیات کو مجسم صورت میں پیش کیا ہے یہ اس کی مہارت کا خوبصورت ثبوت ہے۔ باپ بیٹے کے نام خط میں ایک مقام پر لکھتا ہے ” میرے بیٹے! ہر والد کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ تمھارے قصیدے ہوائیں لکھیں اور آنے والے مورخ تمھارا نام نافع لوگوں کے ساتھ جوڑیں،”۔

ریزگاری، جس افسانے کے نام سے یہ مجموعہ معنون ہےمیں کہانی کا بزرگ کردار اپنی ساری زندگی کے حاصل پر غور کرتے ہوئے آخرکار اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ شب وروز کی محنت ، جدوجہد اور اپنے چھوٹے سے خاندان کی خوشیوں کی خاطر گرمی سردی کی پروا نہ کیے جانے کے باوجود حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بس یادیں باقی رہ جاتی ہیں جن کی اہمیت ریزگاری سے زیادہ کی نہیں۔ہر انسان کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے جو ریزگاری کی صورت سکوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے لیکن یہ سب سکے دراصل کھوٹے ہوتے ہیں۔

چراغ نام کے افسانے میں پرانے اور نئے دور کے تقاضوں کو بڑی کبیدگی کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ ایک بزرگ ادیب کی کتھا سناتا بڑی دردناک ہے جو خود کو نئی سوچ نئے خیالات اور عرف عام میں نئی نسل کے شوق سے ہم آہنگ نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں اس کی تخلیق کو فضول سمجھاجاتاہے حالانکہ اپنے عہد میں اس کی تصنیفات کا انتظار کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود یہ قدامت پسند اپنی بات پر قائم رہتاہے کہ میرا کام بس لکھنا ہے جس طرح کے چراغ کا کام روشنی دینا ہے۔ آج بھی کئی ادیب صرف اس وجہ سے پس منظر میں چلے گئے کہ وہ سوشل میڈیا کے رنگ میں خود کو رنگ نہ سکے۔ وہ سطحی، وقتی تلذز کی حامل جذبات کو بھڑکانے والا ادب تخلیق کرنے میں ناکام رہے جب کہ ادب کے نام پر جو کچھ لکھا اور شائع کیا حارہاہے اس نے معیار کا نام و نشان تک مٹا ڈالا ہے۔ دراصل ہمارا معاشرہ بیمارزدہ ہے کہ جہاں ادیب یا تخلیق کار کو بے کار چیز سمجھا جاتاہے۔ یہ ہمارا بڑا المیہ ہے۔

“آخری  پتھر “میں ارش کا فن اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ یوں معلوم دکھائی دیتاہے کہ جیسے یہ افسانہ عربی ادب سے ترجمہ کیا گیاہے۔ اس کمال چابکدستی سے عرب  کے قدیم ریگستانی علاقے کی منظر کشی، منڈیوں میں مول تول اور پھر بنت الاسد اور اس کے عاشق سجاد کا احوال بیان کیا گیا ہے جو ایک طرح سے آج ہی کے معاشرے سے تعلق رکھتاہے۔ سوچ یا نظریات ہر عہد میں ایک ہی جیسی رہی ہے۔بس زمانے کی گرد اس پر چڑھتی اور اترتی رہی ہے۔ یہ بڑا خوبصورت افسانہ ہے جس میں ایک لڑکی کی بے بسی اور مادی ضرورت اور اس کی محبت کے مابین کشمکش کو بڑی عمدگی سے بیان کیا گیاہے۔ جیت آخرکار محبت ہی کی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بنت الاسد ہار جاتی ہے۔ 

مجموعی طور پر ریزگاری کے تمام افسانے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ افسانے سطحی پن کے بجائے بڑی گہرائی اور گیرائی کے منظم پیرائے کا حسین شاہکار ہیں جس کی اشاعت دور حاضر کا بڑا کارنامہ ہے۔ امید ہے کہ ارشد ابرار ارش اس طرح کی مزید تخلیقات منظر عام پر لاکر عمدہ اور بہترین افسانے کی ضرورت کی احسن انداز میں تکمیل کرتے رہیں گے اور پریس فار پیس پبلی کیشنز ایسی خوبصورت اور عمدہ تخلیقات کی اشاعت کا سلسلہ مزید دراز کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×

Send a message to us on WhatsApp

× Contact